اصلی نام چراغ حسن اور حسرت تخلص تھا ان کی پیدائش 1904ء میں پونچھ کشمیر میں ہوئی، والد نو مسلم اور عالم و فاضل تھے، عربی و فارسی اور کشمیری زبانوں پر انھیں عبور حاصل تھا، ان کے نانا بھی شاعر تھے حسن تخلص رکھتے تھے. حسرت نے ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والد کی نگرانی میں حاصل کی، پونچھ سے میٹرک پاس کیا اور گریجویشن لاہور کے کالج سے کیا۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کے تعلیمی ذوق و شوق، مطالعہ، شعر و شاعری سے رغبت اور خاندانی علمی پس منظر دیکھ کر اہل پونچھ اپنے بچوں کو حسرت کے پاس پڑھنے کے لئے بھیج دیا کرتے تھے، ان کی پرورش نانا نے کی تھی، والد اور نانا کی وفات نے ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا تھا، یوں اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے انھوں نے تدریسی شعبہ کو اپنا لیا، کچھ عرصہ تک مقامی اسکولوں میں پڑھاتے رہے، پھر 1921ء میں پونچھ سے لاہور چلے گئے اور کچھ دنوں وہاں قیام کے بعد شملہ پہونچ گئے، وہاں بشپ کاٹن اسکول میں اردو و فارسی کے استاد مقرر ہوئے، اس زمانے میں شملہ ایلیٹ کلاس کے لوگوں کا مرکز تھا، موسم گرما میں برطانوی سلطنت بھی یہیں سے نظام حکومت چلاتی تھی، یہاں انگریزی اخبارات و رسائل اور اصحاب علم وفن سے ملنے کے مواقع میسر آئے، جس سے ان کی سوچ و فکر میں پختگی آئی اور ایک واضح تبدیلی بھی، جس نے ان کی مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مولانا آزاد سے ان کی ملاقات یہیں پر ہوئی تھی.
1925ء میں درس و تدریس کو خیر آباد کہا اور کلکتہ پہونچ گئے اور اخبار نویسی کا آغاز کیا، شملہ میں مولانا آزاد کی ملاقات نے یہاں پر کام کیا، ان کی صلاحیت کے مد نظر مولانا نے بطور مترجم خدمات لیں لیکن سیاسی اتھل پتھل نے دونوں کی راہیں جدا کردیں ، مولانا آزاد کو جیل ہوگئی اور ان کا اخبار بند ہوگیا، حسرت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ مولانا آزاد سے متاثر تھے، "پیغام" میں کام کرنے کے دوران انہوں نے ادب و سیاست کے علاوہ صحافت میں بھی ان سے بہت کچھ سیکھا، بعدازاں "نئی دنیا" سے وابستہ ہوئے انہوں نے یہاں قلمی نام "کولمبس" سے "کلکتے کی باتیں" کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا، اس کالم سے صحافتی دنیا میں شہرت ملنے لگی، 1926ء میں اپنا جریدہ "آفتاب" شائع کیا، انہوں نے "استقلال" اور "جمہور" میں بھی کام کیا یہ اخبارات تحریک آزادی میں اہم رول ادا کررہے تھے، اس کے علاوہ "انصاف" و "احسان" اور دوسری جنگ عظیم میں "فوجی اخبار" میں کام کیا، "عصر جدید" میں قلمی نام "کوچۂ گرد" سے اپنا مزاحیہ کالم "متاعِ بات" لکھنا شروع کیا، اس کالم سے ان کی شہرت اور توقیر میں مزید اضافہ ہوا، عصر جدید کو محض مسلم لیگ کا حمایتی ہونے کی وجہ سے چھوڑا، 1928ء میں "نہرو رپورٹ" آئی تو اس کی حمایت میں کئی کالم لکھ ڈالے یہ کالم مولانا آزاد کی صحبت کی وجہ سے کانگریس کے تئیں نرم رویہ کا نتیجہ تھا اس پر مسلمانوں کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ اپنی اس غلطی پر وہ پشیماں بھی تھے، اس واقعہ کے دوران کلکتہ میں مولانا ظفر علی خان بھی موجود تھے انہوں نے لاہور میں اپنے اخبار "زمیندار" سے جڑنے پر راضی کرلیا، اس طرح وہ لاہور کی ادبی ثقافتی محفل میں پہونچ گیے ، یہاں مشہور اخبار "امروز" کیلئے اپنے قلمی نام سند باد جہازی سے کالم نگاری کی،1947ء سے 1951ء تک سنگاپور میں فوجی خدمات کے زیر انتظام ریڈیو اور اخبار میں کام کیا ، لاہور واپسی پر ریڈیو پاکستان کراچی میں قومی ڈائریکٹر رہے. قائد اعظم اور علامہ اقبال پر ان کے کام کو بہت سراہا گیا ۔
نثر نویسی میں ان کو کمال حاصل تھا الفاظ کی نشست، ترکیبوں کی بندش اور محاورے کا خاص خیال رکھتے تھے، زبان نہایت شگفتہ، صاف اور انداز بیان میں غضب کی روانی ہوتی تھی، انہوں نے اپنی بھرپور علمی و ادبی شخصیت سے اپنے دور کے ادب و صحافت پر دیر پا نقوش ثبت کئے، حسرت کی نثری کاوشیں کئی پہلوؤں پر محیط ہیں، مطائبات و فکاہات ان کا خاص میدان تھا، ان کے مزاح کا اسکول ہی الگ تھا، بچوں کے لئے بھی کئی نثری اور شعری یادگار تحریریں چھوڑیں، طنزیہ و مزاحیہ نثر کے ساتھ سنجیدہ تحریروں کا بھی ایک قابل قدر ذخیرہ ان کے قلم سے نکلا، بے عیب نثر لکھنے میں وہ اپنے معاصرین کی صف اول میں جگہ پاتے ہیں.
حسرت نئی طرز شاعری کے مخالف تھے، جدید شاعری کے ردعمل کے طور پر کئی نظمیں تحریر کیں جو بہت معروف ہوئیں، لیکن ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے مخالفت برائے مخالفت کا نظریہ نہیں اپنایا بلکہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ادبی مجلہ میں ان کو شائع بھی کیا کرتے تھے، حسرت کی اپنی تحریریں ان کی روایت پسندی کی گواہ ہیں، شاعری ہو یا نثر وہ روایت کے سر چشموں سے مستقبل کے ادب و شعر کو سیراب کرنے کے حق میں تھے، فارسی زبان و ادب سے گہری واقفیت اور اعلیٰ ذوق نے ان کے فن شاعری کو نہایت معتبر اور باوقار بنا دیا تھا، ان کی غزلوں میں روایتی اسلوب، زبان و بیان کی سلاست، بندش کی چستی، فارسی مزاج اور تراکیب، عروض میں بہرۂ وافر اور موسیقی جیسے عناصر جابجا ملتے ہیں، صحافیانہ مصروفیات کے باعث شاعری کے لئے وقت نہیں نکال سکے، اسکے باوجود انہوں نے مسلمانوں کے عروج و زوال پر ایک طویل نظم تخلیق کی جس کا عنوان "سرگزشت اسلام" ہے.
اخیر میں بیماری کے سبب کراچی سے لاہور منتقل ہوگئے اور 26 جون 1955ء کو آخری سانس لی اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے.
تصانیف :-
1. اقبال نامہ
2. حیات اقبال
3. مطائبات
4. جدید جغرافیہ پنجاب
5. کشمیر
6. قائد اعظم
7. مردم دیدہ
8. دو ڈاکٹر
9. کیلے کا چھلکا
10. حرف و حکایت
11. سرگزشت اسلام
12. مضامین حسرت