آپ کا اصل نام سید محمد بشیر اور قلمی نام بشیر بدر ہے، ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے لیکن آبائی وطن موضع بکیا ضلع ایودھیا اترپردیش ہے، ان کے والد سید محمد نذیر محکمہ پولس میں ملازم تھے، بشیر بدر نے ابھی ہائی اسکول پاس ہی کیا تھا کہ ان کے والد ماجد کی وفات ہوگئی جس کی وجہ سے گھریلو ذمہ داریاں ان کے سر آ پڑیں اور تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا. مجبورا 85 روپئے ماہوار پر محکمہ پولس میں ملازمت اختیار کرلی، ایک عرصہ گزرنے کے بعد انھیں اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھانے کی خواہش ہوئی تو 1967 میں پولس کی ملازمت ترک کردی اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قصد کیا جہاں سے انھوں نے بی اے ، ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں اور عارضی طور پر وہیں لکچرر مقرر ہوگئے, بعد ازاں لکچرر اور صدر شعبہ اردو کے طورپر میرٹھ کالج اترپردیش میں ان کی تقرری ہوئی جہاں وہ سترہ سال تک اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1987 کے میرٹھ فسادات کے دوران ان کا مکان بھی نذر آتش کردیا گیا تھا جس میں ان کی جائیداد اور کتابوں کو بہت نقصان پہونچا، اس واقعہ کے بعد انھوں نے میرٹھ کے بجائے اپنی سسرال بھوپال میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور تب سے لے کر اب تک وہیں مقیم ہیں۔
بشیر بدر غزل کے بڑے شاعر ہیں، انھیں اردو، فارسی اور انگریزی تینوں زبانوں پر دسترس حاصل ہے ، سات سال کی عمر سے ہی انھوں نے مصرعے گڑھنا شروع کردیا تھا ، ان کا شمار نئی اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں کیا جاتا ہے، انھوں نے ہمیشہ مشکل پسندی سے گریز کیا اور سہل الفاظ میں شاعری کو ترجیح دی، اور غزل میں نئی لفظیات داخل کرتے ہوئے نئے حسّی پیکر تراشے اور نئے زمانے کے فرد کی نفسیات اور اس کے جذباتی تقاضوں کی ترجمانی کی۔ انھوں نے روایتی مضامین اور ترقی پسندی و جدیدیت کے نظریاتی حصار سے آزاد ہوکر عام آدمی کے جذبات کی ترجمانی کی اور اس کے روز مرّہ کے تجربات و مشاہدات کو خوبصورت شعری جامہ دے کر اردو داں طبقہ کے ساتھ ساتھ غیر اردو داں طبقہ سے بھی خراجِ تحسین وصول کیا۔
1972 میں شملہ سمجھوتے کے موقع پر ان کا یہ شعر کافی مشہور ہوا کہ
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
ان کے اشعار کو ہندستانی پارلیامنٹ میں بھی بارہا نقل کیا گیا ۔
ان کی تصنیفات درج ذیل ہیں
(1) اکائی
(2) کلیات بشیر بدر
(3) آمد
(4) امیج
(5) آہٹ
(6) آس
(7) اجالے اپنی یادوں کے (دیوناگری رسم الخط میں غزلوں کا مجموعہ (
نثری تصنیفات
(1) آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ
(2) بیسویں صدی میں غزل
وہ اردو اکیڈمی اتر پردیش کے چیرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد اعزازات سے نوازا جاچکا ہے جن میں پدم شری ( 1999)، سنگیت ناٹک ایوارڈ اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ شامل ہیں ۔