بہادر شاہ ظفر کا پورا نام مرزاابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ اور تخلص ظفر تھا، ان کی ولادت ان کے والد اکبر شاہ ثانی کے ولی عہدی کے زمانے میں 14 اکتوبر 1775ء کو راجپوت ماں لال مائی عرف قدسیہ بیگم کے بطن سے لال قلعہ میں ہوئی، ان کی تعلیم وتربیت قلعہ معلی میں پورے اہتمام کے ساتھ ہوئی اور انہوں نے مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کی ،انہوں نے عربی اردو اور فارسی پر پورا عبور حاصل کیا، برج بھاشا اور پنجابی میں بھی مہارت حاصل پیدا کی، مرزا ابوظفر 17 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، اپنے والد اکبر شاہ ثانی کی وفات کے بعد 28 ستمبر 1837ء کو بڑی مشقتوں اور فرنگیوں کے توسط سے تخت نشین ہوئے، اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوتی چلی گئی۔
1803ء شاہ عالم ثانی کے دور سے مغلیہ سلطنت صرف وظیفہ خور ہوکر رہ گئی اور برطانوی سامراج نے ان کو لال قلعہ کی چہاردیواری تک محدود کردیا،ابتدا میں بہادر شاہ ظفر کا ماہوار وظیفہ ایک لاکھ مقرر تھا بعد ازاں بہت منت وسماجت کے بعد سوا لاکھ کردیا گیا ، لیکن بادشاہی شان وشوکت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی ، بادشاہ محفل رقص وسرود کا رسیا تھا تو ساتھ میں صوم وصلاۃ کا پابند بھی تھا ،شراب نوشی کبھی نہیں کرتا تھا ،صبح سے دیر شب تک عیش و عشرت اور طوائفوں سے محفلیں رنگین ہوتیں تھیں ان معاملات میں بھی کوئی کمی نہیں تھی، حالانکہ اب آمدنی کے محدود ذرائع تھے اس کے باوجود بادشاہی جود و سخا کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کو قرض تک لینا پڑجاتا تھا،یا پھر کچھ رہن رکھ کر قرض لیا جاتاتھا ، مغلیہ سلاطین کی طرح ظفر میں بھی شعر وادب سے گہری دلچسپی تھی، مولانا نصیر الدین پیر زادے عرف کالے میاں سے پیری و مریدی کا بھی تعلق تھا ، ظفر ان کابہت احترام کرتے تھے،26 فروری 1857ء میں جب " غدر " کی شروعات ہوئی تو بہادر شاہ ظفر نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا لیکن بعد میں بادل ناخواستہ انہوں نے اس کی قیادت کرنا قبول کرلیا، انگریزوں نے اس تحریک پر بہت جلد قابو میں پالیا اور بادشاہ ظفر جو کہ لال قلعہ سے میدان جنگ میں نکل چکا تھا بالآخر ہمایوں کے مقبرہ میں پناہ گزیں ہوا، دہلی کا تخت و تاج کیلئے آخری کوشش بھی ناکامی کی بھینٹ چڑھ گئی ، علامتی بادشاہت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، ہندوستان پر اب ملکہ وکٹوریہ کا پوری طرح تسلط تھا، ملکہ کے وفاداروں نے پورا ساتھ دیا جبکہ مغلیہ سلطنت کے نمک خواروں نے اپنی ہی جڑیں کھوکھلی کرنے میں فرنگیوں سے ساز باز کر اپنی وفا داری فرنگیوں سے نبھائی، 22 ستمبر 1857ء کو ظفر کو گرفتار کرکے نظر بند کردیا گیا،بادشاہ کے خلاف اسی لال قلعہ میں مقدمہ چلا جو مغلیہ سلطنت کی آن بان شان تھا، 9 مارچ 1858ء کو بادشاہ کے خلاف فیصلہ ہوا اور جلاوطنی کی سزا تجویز ہوئی جبکہ شورش بپا کرنے کے الزام میں بہادر شاہ ظفر کے بیٹے سمیت 24 شہزادوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور ان کے تین بیٹوں کے سر کو ایک طشتری میں رکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، 7 اکتوبر 1858ء کو بادشاہ سمیت 16 لوگوں کو رنگون (میانمار) روانہ کیا گیا ، یہ قافلہ 9 دسمبر 1858ء کو رنگون پہونچا، شاہی خاندان نے رنگون میں اپنی بقیہ زندگی بڑی کمسپرسی کی حالت میں گزاری، جہاں ان کو پنشن کی معمولی رقم سے گزارہ کرنا پڑتا تھا،
بادشاہ ہونے کے بعد بہادر شاہ ظفر اپنا بیشتر وقت پڑھنے لکھنے میں صرف کرتے تھے، باوجود پابند مذہب کے ظفر میں تعصب بالکل نہ تھا، ہندووں کے جذبات کا بہت خیال رکھتے تھے، گائے کی قربانی سے احتراز کرتے اور ہمیشہ اونٹ کی قربانی کرتے، غدر کے واقعہ کے بعد ظفر کی شخصیت پہلے سے بالکل الگ نظر آتی ہے کیونکہ مغلیہ سلطنت پہلے ہی عضو معطل ہوچکی تھی،اس واقعہ نے ہندوؤں،مسلمانوں اور سکھوں کو متحد کردیا تھا ، مغلیہ سلطنت کی دوبارہ بازیافت کے لیے اس اتحاد کا حوصلہ دیکھ کر بادشاہ نے زمام قیادت سنبھال لی تھی کیوں کہ ہر طبقہ نے انہیں اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تھا اور ظفر کو بھی اس قیادت سے کہیں نہ کہیں یہ احساس ہوچلا تھا کہ اگر کوشش کی جائے تو شاید اب بھی ہندوستان کا مستقبل تابناک ہو سکتا ہے، لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ علامتی بادشاہت بھی چھن جائے گی اور ملک بدر کردیا جائے گا، انگریز مورخ اسپیرس لکھتا ہے کہ" ظفر اگر آئینی بادشاہ ہوتے تو مثالی ہوتے مگر قسمت نے قادر مطلق شہنشاہ بنادیا وہ بھی اختیار واقتدار کے بغیر "،ظفر کو شاعری وراثت میں ملی تھی، ان کے والد کا کوئی خاص شعری ذوق نہیں تھا لیکن وہ بھی موقع پر شعر کہنے پر قادر تھے حالانکہ ان کے دادا شاہ عالم ثانی آفتاب تخلص کے ساتھ صاحب دیوان شاعر تھے، انہوں نے پانچ بڑے استاد شاعروں سے اصلاح سخن لی جن میں شاہ نصیر ،عزت اللہ عشق،میر کاظم حسین بیقرار،شیخ ابراہیم ذوق اور مرزا غالب شامل تھے.
بہادر شاہ ظفر بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ قادر الکلام شاعر،ادیب،لغت نویس،دانشور،خطاط اور زبان شناس تھے،انہوں نے سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی، غزل،مستزاد،مخمس،مثلث،مسدس،ترجیع بند،تضمین،قصیدہ،سلام،نعت،مرثیہ، رباعی ،قطعہ، شہر آشوب سہرا،پنکھا،گیت،بھجن،ہولی،ٹھمری اور دوہے وغیرہ قابل ذکر ہیں،ان کو غزل گوئی میں ملکہ حاصل تھا اسی وجہ سے غزل میں ان کی فنکارانہ انفرادیت نمایاں ہے،انہوں نے اردو، فارسی کے علاوہ برج بھاشااور پنجابی میں بھی شاعری کی،وہ ایک درویش صفت شاہ و شاعر تھے ،ان کی شاعری میں تصوف کی گہری جھلک ہے،ان کے کلام میں مایوسی و ناکامی،بیکسی وبےبسی ،بیچارگی ودرماندگی،حرماں نصیبی ومحرومی،نامرادی وخستگی کا ایک دلگداز و جان سوز مرقع ہے ،ان کی شاعری میں وطنیت اپنی پوری توانائی اور رعنائی کے ساتھ موجود ہے، ظفر بے لطف قافیوں،خشک ردیفوں سنگلاخ زمینوں کے بادشاہ تھے،روزمرہ، محاورہ بندی،رعایت لفظی، محاکات اور سراپانگاری ان کے کلام کی خصوصیات ہیں،ان کے کلام میں عام واردات قلبی اور حسن وعشق ومحبت کی جھلک ہے،شعر سادہ اور عام فہم سلیس زبان میں کہتے، سلاست زبان،حسن بیان اور سوز گداز کے لحاظ سے بھی آپ کا کلام خاصی اہمیت کا حامل ہے، ان کی شاعری میں تشبیہات، ندرت خیالی اور جدت ادا ملتی ہے،انہوں نے اپنے کلام میں مخصوص انداز اور سلیس طرز بیان سے ایک خاص لطف پیدا کیا ، ان کی شاعری میں چھوٹی بحروں اور طویل بحروں کی غزلیں بھی پائی جاتی ہیں، اس میں طرز بیان سادہ، دلکش اور پر اثر ہے،ان کے کلام میں متروک الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں،انہیں موزوں الفاظ کے استعمال کا سلیقہ تھا ،ان کے کلام میں لفظی صنعتیں اور حسن تکرار ملتا ہے، ان کا کلام اردو شاعری اور ٹکسالی زبان کا عہد بعہد کی ترقی کا جامع نمونہ ہے، ان کے کلام میں موسیقیت کے ساتھ نئی بحروں کا اختراع بھی موجود ہے اور ان پر تجربہ بھی ، رام بابو سکینہ لکھتے ہیں کہ" شاعری کے علاوہ فن موسیقی میں بھی ان کو اچھا دخل تھا، ان کی اکثر ٹھمریاں شمالی ہند میں بہت مقبول ہوئیں"، ان کی شاعری میں شکوہ بیانی،تصوف، معاملہ بندی، شاعرانہ رعایتیں،مشکل بندی، قافیہ بندی اور سادگی اردو شاعری کے مختلف ادوار کی ترجمانی کرتی ہے ،پروفیسر گارساں ظفر کو اپنے عہد کا صف اول کے شعراء میں جگہ دیتے ہیں، اردو شاعری کی ترقی میں ظفر کا کردار بحیثیت مربی اور سرپرست نمایاں ہے، اسی وجہ سے اردو شاعری اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ زبان وبیان دونوں میں نمایاں ترقی کرتی چلی گئی،حالانکہ بہادر شاہ ظفر کا دور اقتدار زوال وانحطاط کا عہد تھا، بقول محمد حسین آزاد "لال قلعہ ایک خانقاہ تھی اور ظفر اس کے سجادہ نشین"،ان کا دور اردو ادب میں اپنی خصوصیات کے اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے،ظفر کی بادشاہت کے زمانے میں شعر وادب کا بڑا بول بالا تھا کیونکہ ظفر کو امور سلطنت کے کام سے فراغت حاصل تھی، ظفر کے علاوہ دربار سے وابستہ شاعروں میں شاہ نصیر، مومن،ذوق ، ظہیر،صہبائی،داغ، ظہور، حالی،انور،سالک،عارف،آغا جان،ممنون، نیر رخشاں،نرائن داس ضمیر اور حکیموں میں حکیم محمود خان،عالموں میں مولانا فضل حق خیرآبادی،مولانا مملوک علی، صوفی شاہ احمد سعید نقشبندی وغیرہ،شان الحق حنفی لکھتے ہیں کہ''ظفر اپنے عہد کے سب سے زیادہ میر گو شاعر ہیں، اسی لئے قسم قسم کے قافیے اور طرح طرح کی زمینیں ان کی شاعری کا امتیاز ہیں"،اس کے علاوہ خواجہ تہور حسین رقم طراز ہیں کہ " ظفر کا پہلا دیوان اگر سنگلاخ زمینوں اور مکینکل ردیف وقوافی کے لحاظ سے بے مثل ہے تو اس کا چوتھا دیوان سلاست زبان،علوئی تخیل اور برجاستگی روز مرہ کا اچھوتا نمونہ پیش کرتا ہے اس دیوان میں چھوٹی چھوٹی بحروں میں ظفر کی بہت عمدہ غزلیں ہیں"، اردو کی ترقی میں بادشاہ کی کوششیں ہمیشہ اہمیت کا درجہ رکھتی ہیں، انحطاطی دور کے باوجود ان کے عہد میں اردو شاعری اپنی تہذیبی اقدار سے بیگانہ نہ ہوسکی اور شاید اسی وجہ سے ظفر کو اپنی اردو گوئی پر بڑا ناز تھا، قلعہ معلیٰ کی محفلوں میں ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر ہر لفظ مملکت شعر وادب میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت رکھتا تھا،ان کے کلام میں ہندی ،فارسی اور اردو محاورات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے،انہوں نے فارسی محاورات کا اردو میں اس خوش اسلوبی سے استعمال کیا کہ وہ اردو ادب کا حصہ بن گیا،انہوں نے متحرک محاورے استعمال کئے ،اردو شاعری میں ظفر تخلص اختیار کیا جب کہ ہندی اور پنجابی میں تخلص شوق رنگ استعمال کیا ، انہوں نے تمام زبانوں کے امتزاج سے اردو شاعری کو ایک نیا رنگ وآہنگ بخشا.
ظفر نے نثر نگاری بھی بڑی صاف ستھری اور سادہ و سلیس زبان می لکھی ، ان کی نثری کاوشوں میں "خیابان تصوف" تصوف کے موضوع پر اور " تالیفات ابوظفری" شیخ سعدی کی شخصیت پر ہے ، ان کے خطوط بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں جو کہ اردو و فارسی دونوں زبانوں میں موجود ہیں ،حالانہ لغت میں ان کی کتاب موجود نہیں ہے لیکن مورخین اور تذکرہ نویسوں نے لغت پر ان کی تالیف کا تذکرہ کیا ہے جوکہ ضائع ہو گئی تھی ۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری پر بھی ان کے استاد شاعروں کے دیوان ہونے کا الزام لگا اس مسئلہ کو نقاد محمد حسین آزاد نے اٹھایا ہے جوکہ ذوق کے شاگرد تھے اس کا سب سے مناسب و معیاری جواب پروفیسر محمد حسن نے دیا وہ لکھتے ہیں کہ" سراج الدین شہزادے سے بادشاہ ہوگئے ظفر شاعر بھی ہوگئے اور خواہ محمد حسین آزاد ان کا نام شاہ نصیر کے نام سے منسوب کریں یا کاظم علی بیقرار سے یا محمد ابراہیم ذوق کی فکر شعر کا نتیجہ قرار دیں مگر مشہور وہ ظفر ہی نام سے ہے".
مغلیہ سلطنت کا آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کا انتقال فالج کے حملے میں 7 نومبر 1862ء کو رنگوں میں جلاوطنی کی حالت میں ہوا اور وہ وہیں مدفون ہوئے، ان کی وفات کے ساتھ ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔
ظفر کی شاہکار کتابیں مندرجہ ذیل ہیں
1. دیوان اول
2. دیوان ثانی
3. دیوان حضوروالا
4. دیوان ظفر مع انتخاب لاجواب
5. دیوان ظفر مطبع احمد امو جان
6. کلیات ظفر
7. خیابان تصوف
8. تالیفات ابو ظفری
9. خطوط