مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہری کی پیدائش ریاست بہار کے مردم خیز علاقہ ململ ضلع مدھوبنی میں 1939 میں ہوئی ، آپ کے والد ماجد قاری عبدالحفیظ صاحب ایک عالم دین اور ارو زبان کے شاعر تھے، انھوں نے مدرسہ عزیزیہ بہار شریف کے علاوہ جونپور اور الہ آباد کے مدارس سے تعلیم حاصل کی تھی ، فراغت کے بعد مدرسہ کافیۃ العلوم پرتاپ گڑھ میں 1931 سے 1985 تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ، آپ مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی کے خلفاء میں سے تھے۔ مولانا ازہری مرحوم کے دادا حافظ محمد اسحاق صاحب مولانا محمد علی مونگیری سے بیعت تھے جب کہ نانا سراج الدین صاحب مولانا اشرف علی تھانوی کے شاگرد اور خلیفہ تھے۔
اس طرح سے مولانا نذر الحفیظ ندوی کا خاندان ایک علمی ودینی خاندان تھا، آپ کا بچپن پرتاپ گڑھ میں اپنے والد کے زیر سایہ گزرا ، وہیں رہ کر آپ نے حفظ قرآن مکمل کیا اور اپنے والد سے ہی اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی ، اس کے علاوہ شیخ سعدی کی گلستاں اور بوستاں اپنے چچا محمد عاقل سے پڑھیں، اس کے بعد دینی تعلیم کے حصول کے لیے مولانا ابو العرفان خان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے مشورہ سے 1955 میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا اور عربی اول میں داخلہ لیا ، آپ نے 1963 میں عالمیت اور 1965 میں فضیلت کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد ایک سال تک جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں مدرس رہے پھر حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے ایماء پر ندوہ تشریف لائے جہاں مجلس تحقیقات ونشریات اسلام میں بطور علمی معاون کے آپ کی تقرری ہوئی ، ساتھ ہی نحو و صرف کے بعض اسباق کی تدریس بھی سپرد کی گئی۔ دوسال کے بعد آپ کو درس وتدریس کے لیے مکمل طور پر یکسو کردیا گیا۔ 1975 میں اعلی تعلیم کے حصول کے آپ کو مصر جانے کا موقع ملا جہاں "عين شمس یونیورسٹی" کی فیکلٹی آف ایجوکیشن سے بی ایڈ کیا اور 1982 میں جامعہ ازہر سے عربی ادب وتنقید میں ایم اے کیا، "الزمخشري كاتبا و شاعرا" کے موضوع پر ایم اے کا مقالہ تحریر کیا جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ مصر کے دوران قیام آپ ریڈیو مصر سے بھی وابستہ رہے، 1982 میں مصر سے واپس آکر دوبارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے شعبہ درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ، آپ کے مشہور اساتذہ میں حضرت مولانا علی میاں ندوی ، مولانا محمد اویس نگرامی ندوی ، مولانا ابو العرفان خاں ندوی ، مولانا ایوب اعظمی ، مولانا اسحاق سندیلوی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی ، مفتی محمد ظہور ندوی اور مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، اور مولانا سعید الرحمان اعظمی ندوی جیسے اساطین علم وفن شامل ہیں ۔
صحافت سے آپ کو خصوصی شغف تھا ، آپ پندرہ روزہ "تعمیر حیات" کے مدیر مسئول ، پندرہ روزہ عربی جریدہ "الرائد" ہفت روزہ "ندائے ملت" اور سہ ماہی "کاروان ادب" کے ادارتی رکن رہ چکے ہیں، ان رسائل میں مولانا کے سیکڑوں مضامین شائع ہوئے ، صحافت کے موضوع پر مولانا کی کتاب "مغربی میڈیا اور اس کے اثرات" کافی مقبول ہوئی ، اس کتاب کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے اور متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ۔
آپ نے ایک بھرپور علمی زندگی گزاری ، تصنیف وتالیف کے علاوہ ہزاروں طلباء نے آپ سے کسب فیض کیا ، آپ ندوہ کے ایک لائق فرزند ، فکر ندوہ کے ترجمان اور مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست وبازو تھے ، آپ نے "ابو الحسن علي الحسني الندوي كاتبا ومفكرا" کے نام سے عربی زبان میں ایک کتاب لکھی جس میں حضرت مولانا علی میاں ندوی کی شخصیت اور ان کی کتابوں کا تعارف پیش کیا، اس کے علاوہ متعدد کتابوں کی تصنیف و تالیف میں حضرت مولانا رحمہ اللہ کی معاونت کی اور بیرون ہند ان کی نمائندگی بھی کی ۔ مولانا علی میاں ندوی کے اقوال وملفوظات کا ان سے بڑا کوئی حافظ نہ تھا ، حال ہی میں مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے اقوال و ملفوظات پر مشتمل ان کی کتاب "مجالس علم وعرفاں" کی پہلی جلد شائع ہوئی ہے ۔
مولانا ندوۃ العلماء کے بے لوث خادم تھے اور مولانا علی میاں ندوی سے بے انتہا عقیدت ومحبت رکھتے تھے ، ساتھ ہی آپ ایک کامیاب مدرس اور مربی بھی تھے ،طلباء کے ساتھ انتہائی شفقت کے ساتھ پیش آتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے ، اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی خدا ترس، متقی اور پرہیزگار انسان تھے ، پیسوں کی چمک دمک کسے نہیں لبھاتی ، مولانا کو بھی اچھی تنخواہوں کی پیشکش ہوئی، خلیجی ممالک میں اچھے روزگار کے مواقع سامنے آئے لیکن انھوں نے اپنے شیخ حضرت مولانا علی میاں سے تعلق اور محبت کو ترجیح دی اور پوری زندگی یک در گیر و محکم غیر کے مصداق انھیں کے آستانہ سے وابستہ رہے اور وہیں پر جان دیدی۔
مولانا ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس انتظامیہ کے رکن اور شعبہ عربی کے صدر تھے ، آپ کو عربی زبان وادب کی خدمات کے اعتراف میں 2005میں حکومت ہند نے صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا ۔
مولانا اپنی وفات کے وقت اکیاسی برس کے تھے، عمر کے اس مرحلہ میں بھی کافی نشیط اور متحرک تھے ، ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر ان کی عمر کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا، اگر زندگی وفا کرتی تو آئندہ بھی فیض رسانی جاری رہتی، لیکن اللہ کی ذات بے نیاز ہے، بالآخر شرافت وتواضع ، تقوی ودینداری کا یہ پیکر جمیل چلتے پھرتے 28 مئی 2021 کو اچانک آخرت کے سفر پر روانہ ہوگیا اور اسے کسی کا بھی منت کش نہ ہونا پڑا ۔
مولانا کی تصنیفات درج ذیل ہیں :-
1. مغربی میڈیا اور اس کے اثرات ( اس کتاب کا انگریزی ، عربی ، ہندی ملیالم اور بنگلہ زبان میں ترجمہ ہوا، عربی ترجمہ "الإعلام الغربي وتأثيره في المجتمع" کے نام سے حسیب الرحمن ندوی نے کیا ہے)
2. الزمخشري كاتبا و شاعرا ( عربی زبان میں (
3. ابو الحسن علي الحسني الندوي كاتبا ومفكرا ( عربی زبان میں(
4. ترتیب کشکول محبت ( کلام مولانا عبدالحفیظ حافظ (
5. مجالس علم وعرفان ( پہلی جلد 2021 میں شائع ہوئی، آگے کی جلدوں پر کام جاری تھا (
6. تاریخ ندوۃ العلماء ( تیسری جلد پر کام جاری تھا(
یہاں تک تو مولانا کے مختصر حالات زندگی اور ان کے اوصاف و کمالات کا تذکرہ تھا، آئندہ سطور میں مولانا کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات کا مختصر تذکرہ ہوگا۔
1995 میں میں نے ندوہ سے عالمیت کی ، عالمیت کے آخری سال میں مولانا ہم لوگوں کو "تاریخ الأدب العربی بین عرض ونقد" اور انشا پڑھاتے تھے ، مولانا کی کتابی معلومات بہت وسیع تھیں انھیں کے ذریعہ پہلی بار عرب ادباء کے ناموں سے آشنائی ہوئی ، مصر کے بڑے بڑے ادباء کی تعریفیں سنیں، اور ان کی آنکھوں سے عالم عربی کو دیکھا، وہ حضرت مولانا علی میاں ندوی کے معتقد اور مرید تھے، اس لئے ہماری تربیت کے لیے اکثر ان کی زندگی کے حالات واقعات اور عرب دنیا سے ان کے روابط کا تذکرہ فرماتے ، عشاء کے بعد ندوہ کے مہمان خانے میں جب حضرت مولانا علی میاں کے ساتھ طلبہ کی مجلس لگتی تو مولانا تشریف لاتے اور حضرت مولانا سے ہمیشہ ایسے سوالات پوچھتے جو طلبہ کے لیے مفید ہوں ، میں دوران طالبعلمی کوئی نمایاں طالبعلم نہیں تھا اس لیے درسیات کے علاوہ مولانا سے کوئی تعلق استوار نہ ہوسکا، اس میں قصور صرف میری کوتاہ طلبی کا تھا۔ فضیلت سے فراغت کے بعد میں 1998 میں دوحہ قطر آگیا، 2018 میں جب میری کتاب "حضرت مولانا علی میاں یادوں کے جھروکے سے" شائع ہوئی تو مولانا نے مجھے ہندستان سے فون کرکے مبارکباد دی جب کہ اس طویل عرصہ میں میرا مولانا سے کوئی رابطہ نہ تھا پھر بھی وہ اپنے ایک مجہول شاگرد کی ایک معمولی علمی کاوش پر بہت خوش ہوئے ، خوب خوب حوصلہ افزائی فرمائی ، اور بڑی دعائیں دیں۔ اس وقت مجھے اپنے نکمے پن کا احساس ہوا ، اس کے بعد سے مولانا سے مستقل رابطہ رہتا تھا ، جب بھی ندوہ جاتا تو مولانا سے ضرور ملاقات کرتا اور مولانا خصوصی توجہ فرماتے ، تھوڑی دیر بیٹھتے اور میرے مضامین کی تعریف کرتے اور فرماتے کہ اگر شاہد نہ لکھے تو اس کے قلم میں زنگ لگ جائے ۔
مولانا علم اور علماء کے بڑے قدردان تھے ، وہ ہونہار طلبہ کی بڑی قدر کرتے، انھیں پلکوں پر بٹھاتے ، مفید مشورے دیتے اور پھسڈی طلبہ کے پست معیار پر کڑھتے ، ایک سال قبل ایک ملاقات میں بعض منتہی طلبہ کے تاریخ ندوہ کے مطالعہ کا حال بیان فرمایا تو مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی اور پھر افسوس بھی ہوا ، وہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کے بجائے کوالٹی کے خواہاں تھے ، وہ ایک اچھے اور سچے مربی تھے ، وہ ہمیشہ اپنے فارغ ہوجانے والے شاگردوں کا حال دریافت کرتے اور ان کی علمی ترقی سے خوش ہوتے، ابھی 18 مارچ 2021 کو برادر مکرم جناب حسیب الرحمن ندوی صاحب کے ساتھ مولانا سے ملاقات ہوئی تھی کسے خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ثابت ہوگی جب کہ مولانا ابھی صحتمند تھے اور اپنی حقیقی عمر سے کم لگتے تھے ، ان کی تخلیقی صلاحیتیں اب بھی جوان تھیں، ان کا جانا ندوہ کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے ، جس طرح وہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ علیہ کے دست و بازو تھے اسی طرح حضرت مولانا رابع صاحب کے بھی دست راست تھے ، مولانا رابع صاحب کو مولانا مرحوم سے بڑی تقویت ملتی تھی ، ندوہ کے مہمان خانہ کے ماحول کو طلبہ کے لیے مفید سے مفید تر بنانے میں مولانا کا رول بہت اہم تھا وہ استاذ کے ساتھ اپنی تعلق میں شبلی وسلیمان کے نقش قدم پر تھے، اللہ تعالی مولانا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ندوہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے
آمین ۔