خسرو کا پیدائشی نام ابو الحسن یمین الدین تھا، خسرو تخلص کے ساتھ لفظ امیر کا اضافہ اس وقت ہوا جب جلال الدین خلجی نے انہیں اپنا ندیم خاص بنایا اور مصحف داری کا امین بنا کر امیر کے خطاب سے سرفراز کیا، وہ اتر پردیش کے ضلع ایٹہ میں گنگا کنارے پٹیالی نام کے قصبہ میں پیدا ہوئے، امیر خسرو کی ماں راجپوت اور باپ ترکی النسل ایرانی تھا یوں خسرو کو ایرانی اور راجپوت نسل کی خوبیاں وراثت میں ملیں، ابھی آٹھ ہی برس کے تھے کہ والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے اور انکی والدہ انھیں پٹیالی سے نانا کی نگری دہلی لے آئیں، نانا عماد الملک نے خسرو کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن انہیں مبداء فیاض سے شعر کی دولت مل چکی تھی، خسرو بچپن ہی سے بڑے زیرک اور شعر کے معاملے میں زودگو تھے، آواز میں بلا کی تیزی تھی، آٹھ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا، 19 برس کی عمر میں پہلا شعری دیوان "تحفة الصغر" کے نام سے مرتب کیا، انھوں نے پانچ مثنویاں لکھیں، جنہیں ان کی بہترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے ، انہیں مثنویوں کی شہرت نے انکی عظمت و مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا اور انہیں ہندوستان کا سب سے مقبول عام شاعر بنادیا، اسی مقبولیت کے پیش نظر انہیں "طوطی ہند" کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
امیر خسرو صوفی، موسیقار، شاعر اور عالم دین تھے، طبلہ اور ستار کی ایجاد کو انہیں کے جدت طراز ذہن سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ موسیقی کے شعبے میں متعدد راگوں اور راگنیوں کی ترتیب و تخلیق کاسہرا بھی ان کے سر جاتا ہے جیسے میاں کی ملہار، میاں کی ٹوڈی وغیرہ، طبلے کی کئی تالیں بھی خسرو نے متعارف کروائیں مثال کے طور پر مغلئی وغیرہ. قوالی جیسی صنف موسیقی بھی امیر خسرو کی اختراع مانی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی دل جمعی کیلئے قوالی کا طرز ایجاد کیا جو مرشد کو بہت پسند آیا، یوں یہ ایک علیحدہ صنف موسیقی بن گئی، کلاسیکی موسیقی میں خیال اور ترانہ جیسی تراکیب کی طرح بھی خسرو نے ڈالی، ان کی اصل پہچان بطور شاعر کے ہے، فارسی کے علاوہ ہندوی زبان میں بھی جو اردو کی ابتدائی صورت تسلیم کی جاتی ہے ان کی تصانیف موجود ہیں، پنجابی میں بھی خسرو کا کلام موجود ہے ، اردو غزل کے اولین صورت گروں میں ان کا شمار ہوتا ہے ، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس صنف کی موجودہ شہرت امیر خسرو کی غزلیات کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی ، امیر خسرو نے غزل کے ساتھ ساتھ مثنوی، قطعہ، رباعی، دو بیتی، ترکیب بند جیسی اصناف میں بھی اپنے کمالات کے جوہر دکھائے، ان کی کہہ مکرنیاں گھریلو بیبیوں کی بول چال کا حصہ بن گئیں اور صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
امیر خسرو نے بادشاہ قطب الدین مبارک شاہ کی شان میں "نو سپہر" اور غیاث الدین تغلق کیلئے "تغلق نامہ" کی مثنویاں لکھیں، یہ بات باعثِ دلچسپی ہے کہ امیر خسرو نے سات سے زائد سلاطین کے دربار میں اپنی حیثیت کو بحال رکھا جبکہ سلطنت کے خاتمے پر جو کشت وخون ہوتا تھا اس میں پچھلی نشانیوں کو مٹا دینا جنگی حکمت عملی سمجھا جاتا تھا لیکن امیر خسرو وقت گذرنے کے ساتھ بر صغير میں ایسے باوقار اور مستند ہوتے گئے کہ مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز ہونے والے ہر بادشاہ نے ان کی تکریم کی ، امیر خسرو ایسے ہندوستانی فارسی گو شاعر اور ادیب ہیں جنہیں ایرانی اہل زبان بھی تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے غزل میں شیخ سعدی شیرازی کی پیروی کی، ان کی شاعری کو فنی اعتبار سے ایرانی شاعر نظامی گنجوی کا ہم پلہ تصور کیا جاتا ہے انہوں نے نظامی گنجوی کے خمسےکے مقابلے میں "پنچ گنج" لکھا.
1325ء میں جب خواجہ نظام الدین اولیاء کا انتقال پر ملال ہوا تو اس صدمے کو امیر خسرو سہار نہ سکے اور اس واقعہ کے چھ ماہ کے بعد وہ بھی اس دنیا سے چل بسے، انہیں اپنے مرشد کے مزار کے پہلو میں دفنایا گیا، دہلی میں درگاہ نظام الدین اولیاء کے احاطے میں امیر خسرو کا مزار بھی ہے جو مرجع خلائق ہے، امیر خسرو کی شاعری میں برصغیر کا دل ڈھڑکتَا ہے، انکے شعر، گیت، دو ہے، کہہ مکرنیاں زبان زد خاص و عام ہیں اور اس طرح یہ عظیم شاعر بر صغیر کی ثقافت کا اہم حصہ بن گیا.
ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں " امیر خسرو نے اپنی صلاحیت کے چند قطرے اس زبان (اردو) کے خون میں شامل کئے ہیں، امیر خسرو ننانوے تصانیف کے مالک اور بنیادی طور پر فارسی کے شاعر اور عالم تھے، ان کا جو کچھ اردو کلام آج ملتا ہے اس میں امتداد زمانہ سے اتنی تبدیلیاں ہوچکی ہیں کہ اب اسے مستند نہیں مانا جاسکتا ہے.
1. امیر خسرو کے اہم شاہکار :
2. مطلع الأنوار (3310 شعر(
3. خسرو شیریں (4000 شعر(
5. آئینہ سکندری(4500 شعر(
6. ہشت بہشت (4500 شعر(
7. مفتاح الفتوح(فتوحات جلال الدین فیروز شاہ(
8. قران السعدین
9. نو سپہر (مثنوی(
. 10خزائن الفتوح یا تاریخ علائی(نثر(
. 11تاریخ دہلی (نثر(
. 12تغلق نامہ (مثنوی(
. 13تحفة الصغر (شعری دیوان(