Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

فراق گورکھپوری

اصل نام رگھوپتی سہائے اور قلمی نام فراق گورکھپوری ہے ، مشرقی اترپردیش کے مشہور شہر گورکھپور میں ان کی پیدائش ہوئی ، انڈین سول سروس کے لیے منتخب کیے گیے لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کے چلتے اپنے منصب سے استعفی دیدیا جس کی پاداش میں انھیں جیل بھی جانا پڑا، اس کے بعد وہ الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ہوئے اور آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔وہ ایک ممتاز مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ بیسویں صدی میں ان کا شمار اردو کے ممتاز ترین شعراء میں ہوتا ہے ، انھوں نے جدید اردو شاعری کے لیے راہ ہموار کی اور انسانی نفسیات اور جذبات کو زمینی حقائق سے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھیں بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا، تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوتی ہے۔

رشید احمد صدیقی فرماتے ہیں :   "فراق کو اس صدی کے پچاس سالوں کے منفرد غزل گویوں کی صف اول میں جگہ مل چکی ہے اور یہ امتیاز معمولی نہیں ہے۔ غزل کی آئندہ ساخت و پرداخت اور سمت ورفتار میں فراق کا بڑا اہم حصہ ہوگا"۔ مجنون گورکھپوری فرماتے ہیں : "فراق کی شاعری نہ صرف اردو ادب بلکہ سارے ملک اور قوم کے لیے باعث فخر ہے، فراق جیسی جید اور جامع شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتیں"۔

فراق کی متعدد تصانیف ہیں :

)۱( گل نغمہ

(2) گل رعنا

(3) مشعل

(4) روح کائنات

(5) روپ

(6) شبستان

(7) سرغم

(8) بزم زندگی

 ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن 1960 کا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، 1968 کا پدم بھوشن اور 1969 گیان پیٹھ ایوارڈ شامل ہیں۔

 85 سال کی عمر میں دلی میں ان کی وفات ہوئی اور الہ آباد میں گنگا جمنا کے سنگم پر انھیں نذر آتش کیا گیا۔