سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی کی پیدائش ضلع پٹنہ بہار کے قصبہ دیسنہ میں ہوئی ، ان کے والد حکیم سید ابوالحسن ایک صوفی منش انسان تھے ، تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار ، بھارت) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواروی سے وابستہ رہے۔ یہاں سے آپ کا دوسرا پڑاؤ دربھنگہ تھا جہاں مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ قیام کیا اور پھر 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کا رخ کیا اور علامہ شبلی نعمانی کے دامن تربیت سے وابستہ ہو گئے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق سید سلیمان ندوی نے اپنے استاذ علامہ شبلی نعمانی کی سرپرستی میں علم وفضل کے اعلی مدارج طے کیے اور ایک محقق مؤرخ، ماہر تعلیم سیرت نگار اور تذکرہ نویس بن کر ابھرے، تحقیق میں ان کا پایہ بہت بلند ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اس میدان میں وہ اپنے استاذ سے بھی آگے نکل گئے یہی وجہ ہے کہ ان کے استاذ علامہ شبلی نے اپنی وفات کے بعد سیرت النبی کی تکمیل کی ذمہ داری انھیں کے سپرد کی، اس کی بقیہ چار جلدیں انھوں نے ہی تصنیف کیں۔ ان کا اصل امتیازی مضمون قرآن مجید اور علم کلام ہے، اس موضوع پر ان کی کتاب تاریخ ارض القرآن اردو میں سب سے بڑے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ان کی طبیعت میں بڑی وسعت اور فکر میں بڑا اعتدال تھا وہ شرافت ومروت کا پیکر تھے، ان کی طبیعت میں قدیم علماء کی طرح نہ گروہی عصبیت تھی اور نہ جدید طبقہ کی طرح سطحیت وعجلت پسندی، بقول مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ "ان کی ذات اور ان کی علمی شخصیت میں قدیم وجدید سے واقفیت، علمی تبحر اور ادبی ذوق، نقاد ومؤرخ کی حقیقت پسندی اور سنجیدگی ، ادباء وانشا پردازوں کی حلاوت وشگفتگی اور فکرونظر کا لوچ اور مطالعہ کی وسعت اس طرح جمع ہوگئی تھی جو شاذ ونادر ہی جمع ہوتی ہے"۔ان کا شماراپنے دور کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جو ہر طبقے میں مقبول تھے وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے معتمد تعلیمات رہے، الندوہ کے نائب ایڈیٹر اور الہلال جیسے عہد آفریں رسالے کے شریک ادارت رہے، اپنے استاذ علامہ شبلی کی خواہش پر دارالمصنفین اعظم گڑھ جیسا علمی وتحقیقی ادارہ قائم کرنے میں پیش پیش رہے اور اس کے ناظم اول ہوئے ، معارف جیسا وقیع علمی وتحقیقی ماہانہ رسالہ جاری کیا۔
1946 سے 1949 تک ریاست بھوپال میں امور دینیہ کے مشیر رہے اور بطور قاضی اپنی خدمات انجام دیں۔ مجلس خلافت کی طرف سے انگلستان جانے والے وفد میں مسلمانان ہند کی نمائندگی کی، سلطان ابن سعود کی دعوت پر مجلس خلافت کی طرف سے مسلمانان ہند کی ترجمانی کے لیے منتخب وفد کی قیادت کے لیے نامزد کیے گیے۔
شاہ افغانستان نادر خان کی دعوت پر افغانستان تشریف لے گئے جو ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کرنا چاہتے تھے جو بیک وقت دینی وقومی ضرورتوں کو پورا کرسکے ، اس کام کے لیے جن تین شخصیات کا انتخاب عمل میں آیا تھا ان میں علامہ اقبال اور سر راس مسعود کے علاوہ تیسرے شخص علامہ سید سلیمان ندوی تھے، جمہوریہ پاکستان کی دستور سازی میں دینی رہنمائی کے لیے پاکستان کی طرف سے بار بار دعوت دی گئے۔ اس لئے 14 جون 1950 کو پاکستان تشریف لے گئے لیکن وہاں مقیم اپنے اعزاء واقرباء کے اصرار پر اپنا رخت سفر کھول دیا اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔
انھوں نے عمر کے آخری حصے میں غالبا 1941 کے آس پاس مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت وارشاد کا تعلق قائم کیا۔23 نومبر 1953 کو علم وتحقیق کا یہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ان کی متعدد معرکۃ الآراء تصانیف ہیں:
· سیرت النبی
· عرب و ہند کے تعلقات
· حیات شبلی
· رحمت عالم
· نقوش سلیمان
· حیات امام مالک
· اہل السنہ والجماعہ
· یاد رفتگاں
· سیر افغانستان
· مقالات سلیمان
· خیام
· دروس الادب
· خطبات مدراس
· ارض القرآن
· ہندوؤں کی علمی و تعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
· بہائیت اور اسلام