Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

پنڈت رتن ناتھ سرشار

پنڈت رتن ناتھ در جو بعد میں سرشار کہلائے ، 1846ء میں لکھنؤ کے کشمیری محلہ کے ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے، ابھی چار سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، ابتدائی تعلیم محلہ ہی کے ایک مکتب میں ہوئی جس میں اُردو، عربی فارسی کی تعلیم حاصل کی، 1857ء کا ہنگامہ فرو ہونے کے بعد جب سارے ملک میں برطانوی حکومت کا تسلط ہوا تو لکھنؤ بھی اس سے اچھوتا نہیں رہا، انگریزی اسکول و کالج کا قیام ہوا، سرشار نے خاندان والوں کی خواہش کے مطابق کیننگ کالج میں داخلہ لیا لیکن باقاعدہ طور پر کوئی ڈگری حاصل کئے بغیر باہر کی راہ لی، حالانکہ انگریزی زبان میں اچھی استعداد پیدا کرلی تھی اور مغرب کے جدید علوم و افکار سے بے بہرہ نہیں تھے، 1875ء میں ضلع کھیری میں مدرس ہوگئے، لکھنؤ کے ماحول سے دوری اور احساس تنہائی نےانہیں لکھنے کی طرف مائل کیا، فارسی اور اردو دونوں میں مضامین لکھنے لگے، لالہ سری رام کے خمخانہ جاوید میں لکھا ہے کہ وہ 1876ء میں کھیری سے "اودھ پنچ" کیلئے مضامین بھی بھیجا کرتے تھے اس کے علاوہ "مُراسلہ کشمیر" "مرأۃ الہند" بعض دوسرے اخبارات میں بھی لکھتے تھے، انگریزی سے اردو زبان میں ترجمہ پر انہیں بے پناہ قدرت حاصل تھی، طبیعت میں زور، تخیل میں جولانی اور اس پہ مستزاد  شگفتہ بیانی، یہ وہ أوصاف تھے جن کی وجہ سے ان کے ابتدائی مضامین نے ہی اہل علم ونظر کو چونکادیا، سرشار کے"اودھ پنچ" میں شائع انشائیہ نے انکی مقبولیت میں اضافہ کردیا جوکہ اس دور کا پہلا مزاحیہ اخبار تھا، منشی سجاد حسین اس کے مدیر تھے، اسی زمانے میں منشی نول کشور کو اپنے "اودھ اخبار" کیلئے ایک باصلاحیت مدیر کی ضرورت تھی اور منشی اردو و فارسی کے اس زمانے کے بڑے پبلشر تھے، انہوں نے سرشار کے نئے طرز نگارش سے متاثر ہوکر ان کو ادارت کی ذمہ داری سونپی، اودھ اخبار کی ادارت 1878ء کے آخر سے 1893ء یعنی گیارہ سال تک کی اور یہیں سے سرشار کا نیا دور شروع ہوتا ہے، ان کا شاہکار ناول "فسانہ آزاد" دسمبر 1878ء سے دسمبر 1879ء تک ضمیمہ کی حیثیت سے شائع ہوتا رہا، یہی وہ ناول ہے جو اردو میں تہذیبی مرقع نگاری کے لحاظ سے ادب عالیہ کا درجہ رکھتا ہے، جس نے اردو زبان کو چند غیر فانی کردار دئے، 1887 میں سرشار کا دوسرا ناول "جام سرشار" جس کی قسطیں "فسانہ جدید" کےنام سے اودھ اخبار میں شائع ہوچکی تھیں، مطبع نول کشور نے کتابی شکل میں "سیر کہسار" کے نام سے 1890ء میں شائع کیا. لکھنؤ اس زمانے میں ادبی سرگرمیوں کامرکز بن گیا تھا، وہ اپنی ذہانت، تدبر اور خوش انتظامی اور علم دوستی میں شہرت رکھتے تھے، منشی سجاد حسین، پنڈت تربھون ناتھ در، پنڈت بشن نرائن در، عبد الحلیم شرر، مرزا رسوا ہم عصر ادیبوں میں تھے اور سرشار سے انکے دوستانہ مراسم تھے، اگرچہ ان میں سے بعض کے ساتھ معاصرانہ چشکمیں بھی رہتی تھی، اودھ اخبار کے دور میں فارغ البالی کی وجہ سے مے نوشی میں اضافہ ہوا، بے پروائی اور بے اعتدالی انکی طبیعت کا خاصہ بن گیا، کوئی کام جم کر پوری سنجیدگی اور انہماک سے نہیں کرتے تھے.

نثر کے ساتھ ساتھ سرشار شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے تھے، مظفر علی اسیر کے شاگرد تھے جو مصحفی کے تلامذہ ارشد میں تھے، سرشار کی غزلوں میں شگفتگی اور رنگینی کے باوجود لکھنؤ کا روایتی رنگ غالب ہے، البتہ انکی بعض نظموں میں فکر و احساس کا جدید انداز جھلک اٹھتا ہے، وہ ماضی کی صالح قدروں کو عزیز رکھنے کے باوجود ایک جدید ذہن رکھتے تھے.

1893ء کو اودھ اخبار سے سرشار نے اپنے آپ کو الگ کرلیا اور 1894ء میں آلہ آباد ہائی کورٹ میں بطور مترجم ملازمت شروع کی، لیکن وہ جس آزادی، رندمشربی اور لا اُبالی پن سے زندگی بسر کرتے تھے زیادہ دنوں تک سرکاری نوکری کی پابندیوں کو برداشت نہ کر سکے اور استعفیٰ دیکر لکھنؤ واپس آگئے.

دراصل سرشار کا تخیل لکھنؤ کی قدیم تہذیب میں رنگا ہوا تھا وہ اس کے ہر پہلو، ہر گوشے کے رمز شناس تھے اور اس کی مصوری پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے لیکن جب وہ اس دائرے سے باہر قدم رکھتے تو انکا قلم بے زبان سا ہوجاتا، انہوں نے انگریزی سے ڈان کوئکساٹ کی ناول کا "خدائی فوجدار" کے نام سے ترجمہ بھی کیا.

1895ء میں دو سو روپئے ماہانہ پر حیدرآباد کے مہاراجہ کشن پرساد کی ملازمت کی اور یہیں پر انکی سرپرستی میں ایک ادبی رسالہ "دبدبہ آصفی" نکالا جو نہایت دیدہ زیب انداز میں شائع ہوتا تھا اس کے لئے بھی مضامین لکھے، حیدرآباد میں انکی زندگی بڑی بے اعتدالیوں اور پریشانیوں میں گزری، ان کی  بے اعتدالیوں سے تنگ آکر مہاراجہ نے دست شفقت کھینچا تو لکھنؤ واپس آگئے، لیکن کچھ دنوں بعد پھر انہیں بلا لیا گیا، لیکن اب انکی طبیعت ویسی نہ رہی صحت خراب ہوچکی تھی، میعادی بخار نے آن گھیرا، آخر کار 27 جنوری 1902ء کو اردو کے اس باکمال ادیب نے وفات پائی.

1.   سرشار کے ادبی شاہکار :

2.    فسانہ آزاد (چار ضخیم جلدوں میں(

3.   قندیل حرم

4.    خمکدہ سرشار

5.   کامنی

6.    سیر کہسار

7.    خدائی فوجدار (ترجمہ(