علامہ راشد الخیری کی پیدائش دہلی کے ایک ممتاز خاندان میں 1868ء میں ہوئی، ان کا اصلی نام عبد الراشد اور والد کا نام عبد الواحد تھا جو منصف بھی تھے، ان کا خاندانی تعلق عربوں سے تھا جن کو مغلیہ سلطنت میں نسل در نسل استاد ہونے کا فخر حاصل ہے، ان کے مورث اعلیٰ ابوالخیر اللہ تھے جن کی طرف نسبت سے "الخیری" لاحقہ لگایا، ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی جس میں اردو فارسی عربی شامل تھی اور انگریزی تعلیم اسکول سے حاصل کی، ان کے استادوں میں مولانا الطاف حسین حالی بھی شامل تھے، باپ دادا کے انتقال کے بعد چچا عبد الحامد ڈپٹی کلکٹر اور پھوپھا ڈپٹی نذیر احمد کی نگرانی میں بھی تعلیم حاصل کی. تکمیل تعلیم کے بعد محکمہ بندوبست اناؤ میں کلرک کی نوکری کی، شہر در شہر تبادلہ ہوتا رہا بالآخر دہلی میں پوسٹل آڈٹ آفس میں تبادلہ ہوا، اسکے بعد 1910ء میں مستعفی ہوگئے.
انکے زمانے میں تعلیم نسواں کی حالت بہت ابتر تھی، علامہ راشد الخیری کو اس بات نے بے چین کیا اور وہ اپنی تحریروں سے خواتین کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاح کی کوشش کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے طبقہ نسواں کی اصلاح و بہبود کیلئے تین رسالے "بنات" "جوہر نسواں" اور "عصمت" جاری کئے ان میں عصمت ان کی وفات کے بعد تک جاری رہا اس طرح سے انہوں ڈپٹی نذیر احمد کی حقوق نسواں کی وراثت کو آگے بڑھایا.
علامہ راشد الخیری میں ادبی ذوق اپنے پھوپھا زاد بھائی اشرف حسین کی صحبت میں پیدا ہوا، پھر اسے مولانا حالی اور ڈپٹی نذیر احمد کی شاگردی نے جلا بخشی، ان کا مطالعہ بہت وسیع اور مشاہدہ بہت قوی تھا ، حافظہ بھی غضب کا تھا، علامہ راشد الخیری کی پہلی تصنیف "صالحات" شائع ہوئی، اسکے بعد 1897ء میں "منازل السائرہ" لکھی جو انکی شاہکار تصنیف کہلائی، اور اسی ناول کی وجہ سے انہیں اردو کا چارلس ڈکنز کہا جاتا ہے، نذیر احمد اور حالی نے ہمت اور حوصلہ افزائی فرمائی اور فرمایا "مجھے امید ہے میرا بھتیجا میرا نام میرے بعد قائم رکھے گا"، ان دونوں اصلاحی ناولوں کے بعد ان کی شہرت ایک بلند پایہ مصنف کی حیثیت سے پھیلنی شروع ہوگئی اور 1903ء سے رسالہ "مخزن" میں افسانے اور مضامین شائع ہونے لگے، 1917ء میں "شام زندگی" صرف بیس دن کی مدت میں لکھی، اور اسے وہ مقبولیت حاصل ہوئی کہ اس سے پہلے اور اسکے بعد آج تک کسی اردو کتاب کو حاصل نہیں ہوئی، اس کتاب نے مصنف کو "مصور غم" کا خطاب دلوایا، اس کے بعد علامہ کا قلم رکا نہیں بلکہ کتابوں کا ڈھیر لگا دیا، علامہ بڑے ادیب اور صاحب طرز مصنف تھے، وہ اردو میں مختصر افسانہ نویسی کے ایک طرح کے بانی اور چوٹی کے ناول نگار تھے، سیرت نویسی میں بھی انکا پایہ ہمیشہ بلند رہا اور واقعات نگاری میں بھی، وہ مورخ بھی تھے اور مترجم بھی، سیاح بھی مبلغ بھی، تبصرہ نگار بھی اور جرنلسٹ بھی، جن عورتوں کو قلم پکڑنا بھی نہیں آتا تھا، مصور غم کی تحریروں نے انہیں اہل قلم بنا دیا، انہوں نے شاعری بھی کی لیکن وہ روایتی تصنع، تشبیہوں، استعاروں اور داستان محبت لکھنے کے بجائے قوم کی بربادی کا دکھ بھرا افسانہ لکھتے تھے ، اگر علامہ نے اپنا وقت اور اپنی کوششیں شاعری کی تہذیب پر صرف کی ہوتی تو یقیناً وہ بیسویں صدی کی شاعری میں ممتاز جگہ پاتے.
رئیس فاطمہ لکھتی ہیں کہ "آج جو لوگ نسائی ادب کا نعرہ لگاتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نسائی ادب کے علمبرداروں میں راشد الخیری کا کتنا بڑا حصہ ہے انہوں نے مسلمان عورتوں کی حالت زار دیکھی، ہندو عورتوں کی صورت بھی ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھی، علامہ نے جو بھی ناول اور افسانے لکھے ان کا مرکزی کردار عورتیں ہی تھیں، ان میں تقریباً 19 ناولز اور 37 افسانوی مجموعے شامل ہیں ، انہوں نے اپنی پوری زندگی میں طبقہ نسواں کی حمایت کی، ان کے مسائل و مصائب کے حل تلاش کئے، بقول علی عباس حسینی "وہ مسلمان لڑکیوں کے سرسید تھے".
دو ماہ کی علالت کے بعد 22 فروری 1936ء کو وفات پائی اور دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ کے عقبی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے، ایڈیٹر ملت دہلی کے مطابق ان کی وفات پررنج وغم میں ڈوبے اتنے مضامین و نوحے اور تعزیتی پیغام شائع ہوئے جو اس سے قبل کسی ادیب و رہنما کی وفات پر نہیں ہوئے. ان کی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:
1.سمرتا کا چاند
2. صبح زندگی
3. شام زندگی
4.شب زندگی
5. ماہ عجم
6. شاہین ودراج
7. نانی عشّو
8. جوہر عصمت
9. نوحہ زندگی
10. آمنہ کا لال
11. عروس کربلا
12. الزہراء
13. سراب مغرب
14. بنت الوقت
15. حیات صالحہ
16. سیدہ کا لال
17. گرفتار قفس
18. رودادِ قفس