ن م راشد کا اصل نام نذر محمد اور تخلص راشد ہے، وہ یکم اگست 1910ء کو اکال گڑھ، ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے، اردو فارسی سے محبت انہیں اپنے والد اور دادا سے وراثت میں ملی تھی۔ غالب، اقبال، حافظ شیرازی اور سعدی سے راشد کا تعارف ان کے والد فضل الہی چشتی کے ہی طفیل ہوا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور معاشیات میں ماسٹرز کیا، دوران تعلیم ہی کالج سے شائع ہونے والے رسالے "راوی" کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، کچھ وقت کیلئے تاجور نجیب آبادی کے رسالے "شاہکار" کی بھی ادارت کی، علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی خاکسار پارٹی میں پشاور کے سالار رہے اور بیلچہ لے کر گشت بھی کرتے تھے بعد میں اس سے الگ ہوگئے.
دوسری جنگ عظیم میں انہوں نے تھوڑے عرصے کیلئے رائل انڈین آرمی میں خدمات سر انجام دیں، انہیں کیپٹن کا عہدہ دیا گیا، قیام پاکستان سے قبل انہوں نے آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی اور لکھنؤ میں اہم عہدوں پر کام کیا، 1947ء میں ان کا تبادلہ پشاور کر دیا گیا، یہاں وہ 1953ء تک اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، بعد میں وائس آف امریکہ نے ان کی خدمات حاصل کر لیں اور وہ نیو یارک چلے گئے، وہ تھوڑے عرصے کے لئے ایران میں بھی رہے، پھر وہ اقوام متحدہ کیلئے کام کرتے رہے، اقوام متحدہ میں نوکری کے دوران انہیں کئی ممالک میں رہنا پڑا.
ن م راشد شاعر، ادیب، نقاد اور مترجم تھے، بحیثیت شاعر جب بھی ان کا نام لیا جاتا ہے تو ہیئت اور اسلوب کے اعتبار سے باغی دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ نہ تو سخن وری کے باغی تھے اور نہ زمانے سے، وہ تو فقط اسلوب اور ہیئت کی جکڑ بندیوں کے خلاف تھے، چونکہ وہ آزاد نظم کے بانیوں میں تھے اسی وجہ سے انہوں نے روایتی ردیف و قافیہ کی قید سے خود کو مبّرا کرلیا تھا، ان کی نظمیں بڑی ہنگامہ خیز اور انقلاب آفریں ثابت ہوئیں،ان کی شاعری بدلتی ہوئی زندگی کا استعارہ ہے اور اس میں ایک مسلسل استفہام کی کیفیت ملتی ہے، "راشد کا ذہنی ارتقاء" میں ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی لکھتے ہیں "راشد کی شاعری پر جب جب میں نے غور کیا اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کی شاعری دراصل اقبال کی شعری شخصیت کا تسلسل یا اس کی تشکیل نو ہے، راشد کے یہاں جو چیز اقبال سے مختلف ہے وہ انکا زاویہ نگاہ ہے، جو ان کی اپنی شخصیت اور ذاتی وجدان ہے"، انہوں نے اپنی نظموں میں نہ صرف یہ کہ آزاد نظم کا کامیاب تجربہ کیا بلکہ مغربی جدید شعراء سے متاثر ہوکر نظم میں سادگی، افسانوی اور ڈرامائی انداز کو جدید اسلوب میں ڈھالا.
راشد بنیادی طور پر نظم گو شاعر تھے لیکن انہوں نے اپنے فلسفیانہ فکری شعور سے متعدد نثری فن پارے بھی تخلیق کئے جس سے ان کا تنقیدی شعور اور فکری زاویے نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں، انہوں نے متعدد تنقیدی مضامین تحریر کئے ہیں، ان کے نثر پاروں میں موضوعاتی تنوع دیکھ کر ان کے وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے، ان کا فکری رجحان، جدید اردو شاعری، جدید ادب اور جدیدیت کی طرف تھا لیکن محض جدت کا نام دیکر ان کے تنقیدی وژن کو کسی مخصوص خانے میں مقید نہیں کیا جاسکتا.
تنقیدی میدان میں انہوں نے ہمیشہ تنقیدی بصیرت سے کام لیا، انہوں نے تنقیدی تجزیہ میں کبھی معروضیت کا دامن نہیں چھوڑا، ان کے تنقیدی نظریات میں اور ان کے فکری نظریات میں رسمی، روایتی اور فرسودہ تمثیلات کے بجائے فن، اسلوب، تکنیک، ہیئت، جدید ادب اور لفظوں پر بحث کی گئی ہے.
یاس یگانہ چنگیزی بھی آزاد نظم کے مخالف تھے لیکن جب ایک انٹرویو کے دوران کسی کے کہنے پر راشد صاحب سے نظم سنی تو اُٹھ کر گلے لگا لیا اور کہا کہ یہی آزاد نظم ہے تو پھر تم کو یہ حق حاصل ہے۔
ان کی فارسی شاعری اور شعر و ادب پر ان کی ژرف نگاہی کی بات اگر نہ کی جائے تو ناقدری ہوگی ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق قیام ایران کے دوران میں نے انہیں لکھا کہ اگر وہ منتخب جدید فارسی شاعری کے تراجم اردو میں کریں تو صاحبان اردو بھی ایران کے ادبی، تہذیبی و فکری رجحانات سے واقف ہوسکتے ہیں، الغرض ترجمہ کے ساتھ ساتھ ایک بھر پور مقالہ بھی لکھا جو اردو زبان میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے.
9 اکتوبر 1975ء کو آخری قیام گاہ لندن میں وفات ہوئی اور اپنی غیر روایتی زندگی اور طرزِ زندگی میں متنازع اور بھاری تنقید کا نشانہ بننے والے کا آخری سفر بھی تنقید اور سوالیہ نشان چھوڑ گیا ، ان کی دوسری اطالوی بیوی شیلا انجلینیی نے ان کو دفنانے کے بجائے نذر آتش کروادیا.
ن م راشد کے شعری مجموعے
1. ماوراء
2. ایران میں اجنبی
3. لا =انسان
4. گمان کا ممکن