مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی جنھوں نے مولانا علی میاں ندوی کے نام سے بھی شہرت پائی 1914 میں تکیہ کلاں ضلع رائے بریلی اترپردیش میں پیدا ہوئے وہ ایک مشہور مصنف، مؤرخ ، سوانح نگار ، تذکرہ نویس ، داعی ، مفکر ، ادیب، مفسر قرآن اور عالم دین تھے ، ان کا شمار بیسویں صدی کی مایہ ناز شخصیات میں ہوتا ہے وہ اپنے زمانے میں عرب وعجم دونوں میں یکساں مقبول تھے ۔
انھوں نے اردو فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر حاصل کی اس کے بعد شیخ خلیل عرب سے عربی زبان و ادب کی تحصیل کی پھر علامہ تقی الدین ہلالی مراکش کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا جس کی وجہ سے عربی زبان وادب کا اعلی ذوق پروان چڑھا ، انگریزی زبان کی استعداد اتالیق خاص سے حاصل کی جس کی وجہ سے وہ انگریزی کتابوں سے بآسانی استفادہ کرسکتے تھے اور بے تکلف گفتگو پر قادر تھے ۔ انھوں نے 1929ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا اور حضرت مولانا حیدر حسن خاں ٹونکی سے علوم حدیث کی تحصیل کی، حدیث کی اکثر اہم کتابیں ان سے حرفا حرفا پڑھیں۔ اس کے بعد لاہور جاکر حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے قرآن کریم کا درس لیا۔ 1934ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاذ تفسیر وادب ان کی تقرری ہوئی اور 1945ء تک اس سے وابستہ رہے۔ 1949ء میں ندوۃ العلماء کے نائب معتمد تعلیمات اور علامہ سید سلیمان ندوی کی وفات کے بعد 1953ء میں معتمد تعلیمات بنائے گئے۔ 1961ء میں آپ کے برادر بزرگ مولانا حکیم سید عبدالعلی صاحب کی وفات کے بعد ندوہ کی نظامت کے لیے آپ کا انتخاب ہوا۔ 1940ء میں حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ سے ربط ہوا، اور ان کی صحبت ورفاقت نے جذبہ دعوت و تبلیغ کو جلابخشی ۔ 1954ء میں تحریک پیام انسانیت کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری سے آپ کو اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر، عالمی رابطہ ادب اسلامی کے صدر، رابطہ عالم اسلامی کے رکن اساسی، دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ اور دنیا بھر کی مختلف اسلامی تنظیموں اور اداروں کے سربراہ اور رکن تھے ۔
آپ کی طبیعت میں بڑی جامعیت اور مزاج میں بڑا اعتدال تھا مسلکی اور فروعی اختلافات سے ہمیشہ دور رہے قومی اور ملی سطح پر ہمیشہ سرگرم عمل رہے اور مسلمانوں کی رہنمائی کرتے رہے ، کاخ فقیری سے لے کر ایوان شاہی تک سب کو خطاب کیا اور سب کا دل جیتا۔
جب عالم عربی کو خطاب کیا تو ,"اسمعیات" کے نام سے کتابوں کی پوری ایک سیریز لکھی ، عالم اسلام کے سربراہان مملکت کے نام خطوط لکھے ، ہندستان کی اعلی قیادتوں کو بھی اہم ملکی مسائل پر متوجہ کیا کبھی بالمشافہ گفتگو کی تو کبھی بوقت ضرورت انھیں بھی خطوط لکھے ۔
وہ ایک درویش صفت انسان تھے ،ان کی بے نیاز طبیعت دنیا طلبی سے کوسوں دور تھی ، انھوں نے عقل و دل دونوں کو ایک ساتھ جمع کرلیا تھا ، تصوف وسلوک کے ساتھ اجتماعی ذمہ داریوں کو نبھانا آسان نہیں ہوتا لیکن انھوں نے ان دونوں صفات کو اپنے اندر جمع کرلیا تھا ، انھوں نے کئی نسلوں کی تربیت کی بحیثیت مربی وہ نہایت کامیاب انسان تھے دنیا بھر میں ان کے بے شمار شاگردوں کا وجود اس کی دلیل ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جس میں حکومت دبئی کی جانب سے دیا جانے والا "القرآن ایوارڈ" اور سعودی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا "شاہ فیصل ایوارڈ" سب سے اہم ہے ۔
ان کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے تاہم چند اہم کتابوں کے نام درج ذیل ہیں :
1. انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر
2. تاریخ دعوت وعزیمت ( پانچ جلدیں(
3. اسلامیت و مغربیت کی کشمکش
4. ارکان اربعہ
5. نبی رحمت
6. سیرت سید احمد شہید
7. نقوش اقبال
8. المرتضی
9. مولانا محمد الیاس اور ان کی دینی دعوت
.10پرانے چراغ ( پانچ جلدیں(
زہد وقناعت اور علم وعمل کا یہ پیکر خاکی 22؍ رمضان1420ھ، مطابق 31؍ دسمبر 1999ء کو اس دنیا سے چل بسا اور اپنے اجداد کے قبرستان تکیہ رائے بریلی میں زیر خاک ہمیشہ کے لیے سوگیا اور ایک عالم کو سوگوار کرگیا ۔