Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

خاندانی نام سید احمد شاہ تھا ابتدا میں تخلص شرر کوہاٹی اختیار کیا بعد میں فراز کرلیا، یوں اردو ادب کے افق پر احمد فراز کے نام سے شہرت پائی۔

خاندان سادات کے اس چشم و چراغ کی پیدائش 14 جنوری 1931ء کو صوبہ سرحد کے مقام نوشہرہ کوہاٹ پاکستان میں ہوئی، والد سید محمد شاہ برق، برق کوہاٹی کے نام سے اردو و فارسی کے بلند پایہ شاعر تھے، ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، اس کے بعد اسلامیہ ہائی اسکول کوہاٹ سے پڑھائی کی، گریجویشن ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اور اردو و فارسی میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، ان کو شاعری ورثہ میں ملی تھی، ایڈورڈ کالج سے ہی شاعری کی ابتدا کی، فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری سے متاثر تھے، دوران تعلیم ہی ریڈیو پاکستان کے لئے فیچر لکھنے لگے تھے، انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1950ء کی دہائی میں بطور اسکرپٹ رائٹر ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا، پھر انہوں نے اپنا تبادلہ پشاور کرا لیا یہاں 1952ء سے 1961ء تک بطور پروگرام پروڈیوسر کام کرتے رہے، 1961ء سے 1976ء تک پشاور یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر اپنی خدمات انجام دیں، 1976ء سے 1978ء تک ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات رہے، 1978ء سے 1980ء تک بحیثیت ریزیڈنٹ ڈائریکٹر پاکستان نیشنل سینٹر کے ہیڈ آفس میں تعینات رہے، 1987ء سے 1989ء تک بحیثیت ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل سینٹر میں اپنی خدمات انجام دیں، 1989ء سے 1990ء تک چیرمین اکادمی ادبیات رہے، 1990ء سے 1991ء تک سربراہ لوک ورثہ پاکستان رہے، 1994ء میں منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بک فاؤنڈیشن مقرر ہوئے، انہوں نے مختلف رسالوں کی ادارت کے فرائض بھی انجام دئے جن میں ماہنامہ "اشتیاق پشاور" اور ہفت روزہ "داستان پشاور" شامل ہیں.

احمد فراز کی شاعری اس دور کی شاعری ہے جب ترقی پسند تحریک رو بہ زوال تھی، ان کی شاعری عشق ومحبت کے جذبات کے ساتھ اپنے اندر انقلابی اور رومانوی کیفیات بھی سموئے ہوئے تھی، ان کی شاعری میں جو احتجاج اور مزاحمت ہے وہ ان کی سچی تخلیقی فکر اور باطنی شعور کا مظہر ہے، ان کی غزل ونظم میں رچاؤ کی کیفیت ہے، لہجہ میں حلاوت ہے، زبان کا معیار بہت اعلی ہے، مصرعوں کی بندش چست اور طرز بیان نہایت دلکش ہے، ان کی شاعری میں جذبے کی تڑپ اور احساس کی شدت ہے، ان کی عشقیہ شاعری سنجیدہ اور با مقصد ہے، ایک عرصہ تک وہ گل وبلبل کی خوبصورت شاعری کی قید میں بھی رہے لیکن جب حقیقت پسندی کی دنیا میں آئے تو ان کی شاعری نے بتدریج مراحل طے کئے، وہ اپنے تخلیقی سفر میں بتدریج شعور وادراک کی اس منزل تک پہونچے جہاں ان کی مضمون آفرینی، نازک خیالی، تازہ گوئی اور استعارہ سازی اپنے عروج پر نظر آتی ہے، موضوعات کے تنوع، تجربات کی ندرت اور احساس واظہار کی جدت میں ان کو انفرادیت حاصل ہے، ان کی شاعری میں زندہ دلی اور شوخی جگہ جگہ عیاں ہے، ان کی غزلوں میں کلاسیکی روایات بھی ہیں، بغاوت اور مزاحمت بھی ہے اور بے باکی بھی ہے، وہ اپنے عہد کی منافقت اور ریا کاری کو جگہ جگہ بے نقاب کرتے نظر آتے ہیں، کہیں ترش انداز میں، تو کہیں رمز و کنایہ کے پردہ میں، انہوں نے اپنی شاعری سےآمرانہ نظام، آمرانہ مزاج اور آمرانہ رویوں کی بھرپور مزاحمت کی، انہوں نے جمہوریت، آزادی اور شہری حقوق کا اس دور میں ساتھ دیا جب ان کا ملک پر آشوب دور سے گزررہا تھا، انہوں نے ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیا، حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائیں بلکہ ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا، اس کیفیت میں قنوطیت نہیں پیدا ہونے دی بلکہ حقیقت کے احساس کی اس کیفیت کو گم کرنے کے بجائے تحریک میں بدل دیا، اور اپنے قلم سے آمریت کے کھوکھلے امن و سکون کی فضا کے تلے طوفانوں کی آگہی کراتے رہے، ان کی شاعری میں طنز کی لہر بہت تیز تھی، انہوں نے سیاسی نظام کو گہرے طنز کانشانہ بنا یا، جمہوری حکومت کے پس پردہ فوجی حکومت ان کی مشہور نظم "پیشہ ور قاتلوں" کو برداشت نہیں کرسکی، ان کو اپنے سیاسی نظریات پر پابند رہنے اور جذبہ حریت پسندی پرورش کرنے کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، یہ دور جنرل ضیاء الحق کا تھا، 1982ء میں رہائی کے بعد 1986ء تک خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی یورپ و امریکہ میں گذاری، مجروح سلطان پوری لکھتے ہیں کہ "فراز مظلوموں کے ساتھی ہیں، انہیں کی طرح تڑپتے ہیں مگر روتے نہیں بلکہ ان زنجیروں کو توڑتے، ٹکڑے بکھیرتے نظر آتے ہیں جو ان کے معاشرے کے جسم کو جکڑے ہوئے ہیں، ان کی شاعری نہ صرف یہ کہ اعلیٰ ادبی معیار کی ہے بلکہ ایک شعلہ ہے جو دل سے زبان تک لپکتا ہوا معلوم         ہوتا ہے ".

احمد فراز کی شاعری کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ عالم گیر سطح پر غنائیہ شاعری کی ترویج وترقی کی راہیں ہموار کیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا، انہوں نے طویل بیانیہ نظمیں بھی لکھیں اور منظوم ڈرامے بھی، نظموں میں ہئیتی تجربے بھی کئے، انہوں نے پاپند اور کلاسیکی طرز کی نظمیں بھی لکھیں ہیں اور آزاد نظمیں بھی، ان کی غزلوں میں کلاسیکیت اور جدیدیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، انہوں نے شاعری میں کلاسیکی علامتوں اور استعارات کا استعمال اس بخوبی سے کیا ہے کہ اس میں نئے معانی پیدا ہوگئے ہیں، کنور مہندر سنگھ بیدی رقم طراز ہیں کہ "فراز کی شاعری غم جاناں اور غم دوراں کا ایک حسین سنگم ہے، ان کی غزلیں اس تمام کرب والم کی غمازی کرتی ہیں، جس سے ایک حساس اور رومانٹک شاعر کو دوچار ہونا پڑتا ہے، ان کی نظمیں غم دوراں کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں اور ان کی کہی ہوئی بات 'جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے' ".

احمد فراز کو فیض احمد فیض کی ادبی و فکری روایت کا امین سمجھا جاتا ہے، دونوں نے آمریت اور ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا،  دونوں ترقی پسند تحریک کے علمبردار تھے، بقول احمد فراز "ہم ایک ہی زمانے میں نظریاتی طور پر ہم آہنگ تھے، اس لئے بہت سے موضوعات مشترک ہوگئے، البتہ نہ صرف یہ کہ میرے تجربے اور موضوعات اپنے تھے اور میں نے اپنے ہی انداز میں انہیں منظوم کیا خاص طور پر میری غزلیں تو فیض صاحب سے بے حد مختلف ہیں ".

احمد فراز کی مقبولیت ہند و پاک میں یکساں تھی، ان کی شاعری کی پہچان عالمی سطح پر بھی اپنا الگ مقام رکھتی ہے، ان کی شاعری کے ترجمے دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہوئے جن میں انگریزی، فرانسیسی، ہندی، جرمنی، یوگوسلاویی، پنجابی قابل ذکر ہیں، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا، وہ اپنے وقت کے مشاعروں کی شان اور منتظمین کی مجبوری بھی تھے، ان کے کلام کو برِصغیر کے بے شمار چھوٹے بڑے گلوکاروں نے گایا جن میں مہدی حسن، غلام علی، نور جہاں، رونا لیلیٰ، جگجیت سنگھ وغیرہ اہم ہیں، ان کے گیت اور غزل فلموں کی بھی زینت بنے، مہدی حسن کے بیٹے آصف مہدی کے بقول "جو نغمگی احمد فراز کی شاعری میں ملتی ہے وہ بہت کم شاعروں کے کلام میں ہے".

احمد فراز کو 1966ء میں" آدم جی ادبی" انعام ملا، مقبول ترین شاعر کیلئے "دھنک ایوارڈ" 1973ء میں ملا، 1988ء میں بھارت میں "فراق گورکھپوری عالمی ایوارڈ "سے نوازا گیا، 1989ء میں"ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ" ملا، 1990ء میں "اباسین ایوارڈ" ملا، اکیڈمی آف اردو لٹریچر کینڈا نے 1991ء میں ایوارڈ سے نوازا، بھارت میں "ٹاٹا ایوارڈ" 1992ء میں دیا گیا، بہترین غزل گو شاعر کیلئے 1992و 1993ء میں"نقوش ایوارڈ "دیا گیا، 1994ء میں "ستارہ امتیاز" پاکستان نے نوازا گیا، کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری فروری 1995ء میں تفویض کی، 2004ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں "ہلال امتیاز" دیا گیا لیکن دو برس بعد 2006ء میں یہ تمغہ سرکاری پالیسیوں کے احتجاج میں واپس کر دیا.

اردو ادب کا عہد ساز شاعر احمد فراز  25 اگست 2008ء کو اس دنیا سے رخصت ہوا اور ان کی تدفین اسلام آباد کے ایچ 8 کے قبرستان میں ہوئی.

مجموعہ ہائے کلام کی فہرست مندرجہ ذیل ہے :-

1.تنہا تنہا

2. درد آشوب

3. نایافت

4. شب خون

5. مرے خواب ریزہ ریزہ

6. جاناں جاناں

7. بے آواز گلی کوچوں میں

8. نابینا شہر میں آئینہ

9. سب آوازیں میری ہیں

10. پس انداز موسم

11. بودلک

12. غزل بہانہ کروں

13. اے عشق جنوں پیشہ