Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

مولانا کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری

مولانا کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری

 

یہ واقعہ ایک پڑاؤ بھی نہیں کہا جاسکتا.. یہ تکلیف دہ ہے لیکن متوقع تھا.. اتنا گنجلک بھی نہیں کہ اس کے پیچھے بڑی گتھیاں ہوں جنھیں سلجھانے کے لئے بڑی سیاسی بصیرت درکار ہو.. 2022 تک ایسے بہت سارے واقعات ہوں گے اور ایک زنجیری تسلسل کے ساتھ ہوں گے.. طالبان کا ایشو زور شور سے ضرور اٹھا لیکن اس کی ہر پرت پر ہمارے ملک کے کرتا دھرتاؤں کی رسوائی لکھی تھی.. خواہی نخواہی اس کو ترک کرنا پڑا.. اسی میں بھلائی تھی.. پھر جیتنے والے جیت ہی جاتے ہیں.. ان کو کوسنے سے کچھ نہیں ملتا.. پھر وہ ایشو ہمارا الیکشنی مددگار نہیں بن سکتا تھا.. موجودہ حالات میں مہنت نریندر گری کی موت اور اس کا معمہ ایک بڑا نقصان دہ اور پریشان کن ایشو بن رہا تھا اس پر خاک ڈالنے یا مباحثاتی انکاؤنٹر کے لئے ایک دوسرا ایشو وقت کی ضرورت تھا جو ایجاد کیا گیا.. مہنت کی موت سے زیادہ ان کے کوائف چونکانے والے ہیں.. وہ اکھل بھارتی اکھاڑا پریشد کے چیرمین تھے اور ان کی زندگی وجے مالیہ سے بھی زیادہ پرتعیش تھی.. لگژری گاڑیوں کا ایک پورا فلیٹ ان کی سیوا میں رہتا جس کا تصور ارب پتی لوگ بھی نہیں کرسکتے.. مشکوک کاروباریوں سے ان کے خفیہ روابط نہایت گہرے اور بڑے وسیع پیمانے پر تھے.. یہ تفصیلات ابھی آنا شروع ہی ہوئی تھیں کہ مولانا کلیم صاحب کی گرفتاری کا شوشہ چھوڑا گیا.. عمر گوتم کی گرفتاری دوماہ سے زیادہ پہلے ہوئی تھی اگر ان کی اطلاع پر گرفتاری ہونی تھی تو بہت پہلے ہوجاتی.. اب کیوں.. تحقیقاتی ایجنسیاں اتنا وقت ضائع نہیں کرتیں اور یوپی اے ٹی اس تو مسلمانوں کی گرفتاری میں بالکل نہیں کرتی.. وہ گرفتار کرکے فرد جرم مرتب کرتی ہے.. مجھے بہت اطمینان ہے کہ مسلمان اس واقعہ کو اپنے لئے زندگی موت کا مسئلہ نہیں بنارہے ہیں اور خالص قانونی اور فنی نقطہ نظر سے اس کو دیکھ رہے ہیں.. کیس کی سنجیدگی اور الزامات کے پھسپھسے پن کا یہ حال ہے کہ پولیس کسٹڈی تک نہیں لے سکی.. جو اس طرح کے کیسز آسانی سے مل جایا کرتی ہے.. اس مسئلے کو مسلمان جتنی آسانی اور عمومیت سے لیں گے اتنا ہی سیاسی ضرر کم پہونچے گا اور دسیسہ کاروں کو فائدہ ارتکاز کم پہونچے گا.. اسکرپٹ تیار کرنے والوں کی بڑی خواہش ہے کہ مسلمان اس معاملے میں محاذ آرا ہوں، جو بڑی نادانی ہوگی..آپ عجلت اور فوری ردعمل میں بہت کچھ کھو سکتے ہیں لیکن تحمل اور تدبیر سے بہت کچھ پاسکتے ہیں.. مغربی بنگال سے مسلمان یوپی کے مسلمانوں سے کسی چیز میں بہت فائق نہیں لیکن ووٹ کے بہتر اور نتیجہ خیز استعمال میں پچھلے الیکشن میں کیرل کے مسلمانوں سے بھی بہتر سوجھ بوجھ والے ثابت ہوئے ہیں.. مسلمان غیر ضروری ردعمل کے بجائے آگے کی الکشنی تدبیر پر توجہ مرکوز رکھیں اور اس گرفتاری کو عام بات باور کریں.. مولانا آج نہیں تو کل باعزت گھر لوٹیں گے.. اپنوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور ابنائے وطن میں ہزاروں لوگ ان کے چاہنے والے ہیں.. وہ ایک نرم مزاج، امن پسند اور خلیق داعی ہیں.. زیادہ ضروری اس ڈرامہ کے پیچھے عیار سیاست کی جال کاٹنا ہے اس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس واقعہ کو اس کے قانونی حجم سے باہرنکلنے نہ دیا جائے ...یہ مقدمہ نچلی عدالت میں ہی اپنی موت مرجاۂے گا ان شاء اللہ.. کیا کریں مسلمانوں کا کوئی میڈیا نہیں ورنہ پچھلے چند سالوں میں تیس کے لگ بھگ بڑے سنتوں مہنتوں کی موت کا ایشو ایک بڑی جرنیلی کہانی بن سکتی ہے.. ایودھیا کے زمینوں کی سرکاری تحویل اور فروخت باز فروخت اور خرید کا ایک بڑا اسکینڈل موجود ہے.. آگے میگا مندر سے میگا خبریں جڑیں گی.. مسلمان صرف تماشہ دیکھیں.. اور خود کو فاصلے پر رکھیں.. لوگ بھی مسلمان قائدین اور مسلم تنظیموں کے بارے میں سخت لب ولہجہ میں بات نہ کریں.. گرفتاری کے اس مذموم واقعہ کو قانون کی راہداری میں دفن کردیں اور بس...