
وقت بادپا ہے، تیز رفتار، سبک سار، اور بے تکان .. خدا کی یہ مخلوق کسی پر منکشف نہیں سوائے اپنے خالق کے.. ہاں جب یہ آکر گزر جائے تو پھر "ہر ورقے دفتریست".. لیکن اس کے دفتر کی پرتوں کو پڑھنے والوں کے لئے.. ہر کوئی، فرد یا قوم اپنے عروج و زوال کی ہر کہی ان کہی کہانی اس کے ورق ورق پر پڑھ سکتا ہے .. یہ بھی ایک کہانی ہے، کہ زیادہ تر لوگ اپنی کہانی پڑھتے نہیں... آج کل ہمارے ملک میں ہندو اور ہندوتوا خطرے میں ہے.. یہ ایک انوکھی دریافت، اور ان پڑھی کہانی ہے.. جو قوم ہزار سال مشرق کی غلامی اور ڈھائی سوسال مغرب کی غلامی میں گزار کر آج تک ہے.. اور اپنے تمام خرافاتی دیومالا کے ساتھ زندہ ہے.. وہ اب خطرے میں ہے جب کہ ہر سیاہ وسفید کی مالک ہے.. اس کا سیدھا مطلب ہے کہ خطرے کا ان دیکھا، بے پہچان اور انجان خوف ہی اس کی زندگی کی ضمانت ہے.. ساڑھے بارہ سوسال کی تاریخ سے بہت پہلے، جن حملہ آوروں نے ڈرایا تھا، وہی آج بھی ڈرارہے ہیں.. فرق یہ ہے پہلے وہ مفتوح کو ڈراتے تھے.. آج مفتوح کا غیر حقیقی حصہ بن کر کسی موہوم مقتدر سے ڈرارہے ہیں.. ہندوتوا کی قوتوں کو اب خوف اصل میں ہندو عوام کی جاگروتا سے ہے لیکن نام اسلام اور مسلمان کا استعمال کیا جارہا ہے.. حالانکہ بالکل بدیہی بات ہے کہ مسلمان اگر ہندو آبادی کو نشانہ بناتے تو آج ہندوستان میں ہندو کون رہ جاتا...؟ ڈرا ہوا ہندو انگریزوں سے ٹکر نہیں لے سکتا تھا.. اگر مسلمان اور سکھ نہ اٹھ کھڑے ہوتے.. گاندھی جی نے چوراچوری (ایک گاؤں کا نام) کے ایک پرتشدد واقعے کے بعد جس میں چند لوگ مرے تھے، ستیہ گرہ واپس لینے کی دھمکی دی تھی، اور مسلمان چالیس سے ساٹھ ہزار صرف علماء کی قربانی دے کر بھی پرجوش تھے.. لگتا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین خطروں کے خوف کی کھیتی کے لئے اچت اور اتی اپجاؤ ہے... مسلمانوں کی آبادی کے بڑھنے کا خوف دلاکر بہت سے مقاصد حاصل کئے جارہے ہیں.. یہ راز ہندو عوام کو سمجھنا چاہئے.. ورنہ وقت تیزی سے نکلے گا.. اور پرانی غلامی ویدک تصورات کی سنگینی کے ساتھ عود کر آئے گی.. ہندو پوچھے کہ پنج سالانہ 6.3 لاکھ کروڑ کے تناسب سے، حکومت کی پانچ مدتوں کی تکمیل پر پوری اکانومی، مونیٹائز ہوکر چند ہاتھوں میں چلی جائے گی تب عام ہندو کا کیا ہوگا..؟ بڑے بڑے ہندوتوا کے پروجکٹوں کی تکمیل کے بعد، عام ہندو کہاں کھڑا ہوگا...؟ دکھشنا کون دے گا اور کون لے گا..؟ ڈرایا ہوا ہندو کیا اربوں کے مندروں میں پوجا کرسکے گا؟ کیا پوجا ووندنا کی اگوائی 93٪ ہندو آبادی کا کوئی فرد کرسکے گا؟ یہ ہیں وہ سوال جن کا خوف مسلمانوں سے ڈرانے کی وجہ بن رہی ہے.. سوچنے کی بات ہے ہزار سال سیاہ وسفید کے مالک ہوکر مسلمانوں نے مسجدوں سے زیادہ مندروں کو جاگیریں دیں.. محض بڑی آبادی کی دل جوئی کی خاطر حلال جانور کے ذبیحہ پر پابندی عائد رکھی.. وہ 14 /86 کے تناسب کو کس طرح زیر کرسکتے ہیں... تاریخ، اور سیاسیات میں ٹائمنگ کا بڑا رول ہوتا ہے.. یہ وقت ہندوؤں کی ترقی، خوش حالی، بے فکری اور اطمینان کا تھا جسے پرانی بدخواہ قوتیں فوبیا میں بدل دے رہی ہیں اور عام ہندو اس بہکاوے کو نہیں سمجھ پا رہا ہے..ہندوستان میں ہندوستانی کی طرح سوچنے کی عادت بن جائے تو ہم ایک معیاری اور قابل رشک سوسائٹی بن سکتے ہیں.. ورنہ خوف کے ساتھ ہماری بڑی آبادی 4 ہزار سال سے جی رہی ہے.. آگے بھی جی لے گی.. اور پڑھنے کے زمانے میں آپ پڑھنا تو دور کی بات ہے شبھ شبد سن بھی نہیں سکیں گے ورنہ پگھلا سیسہ کانوں میں انڈیل دیا جائے گا... اب بہلاوے اور بہکاوے کو سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں رہا۔
سینئر تجزیہ نگار : خورشید انور ندوی