Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

نفرت، سب سے قابل نفرت

نفرت، سب سے قابل نفرت

انسانی جذبوں میں سب سے منحوس اور بےبرکت جذبہ نفرت کا جذبہ ہے.. اس کی ابتداء انسانیت سے نفور کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ انسانوں کی بربادی اور سوسائٹی کی تباہی ہوتی ہے..اگر حسد نیکیاں کھا جاتا ہے، تو نفرت سچائی کھا جاتی ہے، اور زندگی کے سارے مثبت امکانات ہی نابود کردیتی ہے.. موجودہ بیرونی صورت حال کی تیز رفتار اور غیر متوقع تبدیلی نے ہمارے ملک میں، بھائی چارے سماجی یگانگت کو ایک بار پھر نفرت کی آگ کا ایندھن بنادیا ہے.. ایک مخصوص ذہنیت اور خاص طرز فکر کی چاکری میں لگی ہندوستانی میڈیا نے ذہنی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی کاشت شروع کردی ہے.. حیف کہ ہمارے بعض حرف فروش اور موقع بے موقع اذان دینے کے رسیا مولوی زنبیل بشارت کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور بے پر کی اڑانی شروع کردیتے ہیں.. ملکی صورت حال کی نزاکت کے تئیں اپنی منصبی ذمہ داری بھول جاتے ہیں.. باتیں ایسی کرتے ہیں جیسے اچانک ابھر جانے والے ان کے زیر بیعت تھے اور سب کچھ ان کے اپنے تصرف باطن کی ظاہری ولادت ہے.. ہندوستان کا عام مسلمان اپنے طرح طرح کے مسائل سے نبردآزما ہے.. اس کے کچھ مسائل تو مسائل مزمنہ ہیں اور بہت سارے نت نئے ہیں.. اس کو خارجہ کیا داخلہ پالیسی کی شدبد کم ہے.. باتیں ایسی کی جارہی ہیں جیسے وہ طالبان کی آمد کا ذمہ دار ہے یا کم از کم متمنی تھا.. ہندوستان کا مسلمان افغانستان میں ہندوستان کے کردار، سرگرمی اور پچھلے بیس سال سے خصوصی نوعیت کے تعلقات سے یکسر ناواقف ہے.. ہاں کچھ خاص لوگ یا اپنے کام کے نوعی تقاضے والے لوگوں کی بات الگ ہے.. جیسے خارجہ تعلقات کے ماہرین، یا صحافت سے وابستہ پیشہ ور تجزیہ کار.. کتنی عجیب بات ہے کہ ہم کسی دور دراز کے ملک کے اندرونی معاملات اور اس کی سیاسی تبدیلیوں سے خود کو اس طرح وابستہ کرلیں کہ ہر تبدیلی ہماری ہار جیت کا عنوان بن جائے.. حالانکہ کسی زمانے میں ہم نے اس ناوابستہ تحریک کی قیادت کی ہے جو دو قطبی سیاسی نظام اورسیاسی سرد جنگ کے ماحول میں ایک انقلابی رجحان تھا..ہم پنجشیل کا حصہ رہ چکے ہیں.. اس اچھے ماضی کے بالکل برعکس آج ہم اتنے بودے کیوں بن گئے. کوئی ملک اپنی خارجہ پالیسی کے اپ سیٹ کی بنا پراپنے سماجی تانے بانے اور سوشل کیمسٹری کو تہس نہس نہیں ہونے دیتا.. ہمارے میڈیا اور خاص طور پر ہندی میڈیا کے غیر ذمہ دار رویے کی وجہ سے اندرونی ماحول میں افراتفری اور نفرت پیدا ہورہی ہے جس کا تدارک فی الفور ہونا چاہیے ورنہ پہلے سے موجود دراڑ اور بڑھ جائے گی.. جو کسی طرح ملک اور سماج کے حق میں نہیں ہے.. یہ نفرت کا شاخسانہ ہی تو ہے کچھ نعرہ بازی کی غلط میڈیا رپورٹنگ پر 20 شہریوں کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ لگاکر پابند سلاسل کردیا گیا اور دسیوں موب لنچنگ، ہراسانی اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی وحشیانہ اور جارحانہ نعرہ بازی کے کیسز پر دودن میں ضمانت دے دی گئی .. نفرت کے اس ماحول کی آبیاری اور افزائش پر میڈیا ریگولیٹر توجہ دیں.