
کسی میدان میں اگر ایک جیت نہ ملے اور جیتنے کی تمنا ہوتو ہار کو تسلیم کرلینا اگلی جیت کا پہلا قدم ہے.. لیکن ہمیشہ ہارنے والے اگر سپرمیسی کا خبط سوار کرکے تاریخ سے بھی اپنی ہر ہار کو کھرچ کھرچ کر مٹانے کی کوشش کریں اور چھوٹی چھوٹی مزاحمتوں کو بڑی بڑی فتوحات میں ڈھال کر دیکھنے دکھانے کی عادت ڈال لیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو ہورہا ہے.. تاریخ پر دھول جما بھی دیں تو اس سے حال نہال نہیں ہوسکتا.. ہندوستانی کے ہندی میڈیا پر بھونڈی جگت نما ڈیبیٹس دن رات چل رہی ہیں.. ایسی ایسی خیال آفرینی ہے کہ مہابھارت اور رامائن کی کتھنی ہندو میتھالوجی بھی پھیکی پڑ جائے.. وادی پنج شیر میں شمالی اتحاد کا ایک جھنڈا لہراتا دکھا کر ایک ہندی چینل نے راتوں رات طالبان کو حربی چیلنج دے ڈالا. اور بات میں زور پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوکر، آگے پیچھے دائیں بائیں اور چاروں طرف گھوم گھوم کر قلابازیاں کھا کھا کر ایسے کمنٹری دے رہا تھا کہ صبح تک کابل میں دوبارہ بھارتی دوتاواس استھاپت ہوجائے گا... جب کہ اشرف غنی کے بھائی نے کہا ہے کہ چند دنوں میں احمد مسعود احمد شاہ مسعود کے فرزند، طالبان کے ساتھ معاہدہ اقتدار میں ہوں گے.. جو کچھ ہوا ہے اس میں دنیا کے سب سے طاقتور ملک اور سب سے بڑے دفاعی بلاک کی بدترین شکست ہوئی ہے، لیکن ان کا میڈیا اس قدر بے زمین نہیں ہوا.. وہ اپنی غلطیوں اور پالیسی کی مضرتوں پر گفتگو کررہا ہے، واویلا کم کررہا ہے.. ہمارے یہاں کوئی متضاد، عجلت پسند اور مبنی بر عناد زیادہ اور مبنی بر حقائق کم خارجہ پالیسی پر بات نہیں کررہا ہے.. اسرائیل اور عرب بلاک سے دوستی کرکے ایران میں اسٹراتیجک سرمایہ کاری کیسے کی جاسکتی ہے؟ گوادر بندرگاہ سے چند کلومیٹر دور، جہاں چین کی پے پناہ انوسٹمنٹ ہے، چابہار ایرانی بندرگاہ کو کس طرح پروموٹ کیا جاسکتا ہے؟ کیا دوسرے ملکوں نے گھاس کھا رکھی ہے.. چند ماہ پہلے لداخ میں چین نے صرف شاہراہ ریشم کے قریب کچھ فوجی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر پورے علاقے کو زیرو زبر کردیا تھا.. وہ چابہار کیسے برداشت کرلیتا.. پھر مخدوش معاشی حالات کی وجہ سے چابہار کا ریلوے پروجکیٹ ہندوستان شروع ہی نہیں کرسکا اور معاہدہ کی مدت کی خلاف ورزی کے بعد وہی پروجیکٹ چین کے پاس چلا گیا.. جب افغانستان میں طالبان کی آمد کی بات کی جائے تو پورے خطے میں ہندوستان کی پہلے سے ہی خارجہ پالیسی کی درگت پر بات کرنی چاہئے.. افسوس اپوزیشن انتہائی بودی ہے... پارلیمنٹ میں شور مچاتے رہے اور بینکنگ کا انتہائی متنازعہ اور مہلک بل پاس ہوگیا.. جس پر مابعد بھی کوئی موثر گفتگو نہیں ہورہی ہے.. اب اگر آپ کے دس کروڑ کے بینک ڈپازٹ بھی ڈوب جائیں تو حکومت فقط پانچ لاکھ کی باز ادائیگی کی ضامن ہے.. اس صورت حال میں ہماری اپوزیشن خارجہ پالیسی پر کیا بات کرے گی... افغانستان میں ہماری سفارتی ناکامی پر مثبت گفتگو ہونی چاہئے تھی اور محض اس کے پاکستانی پس منظر کی حساسیت کو مرکزی نقطہ نہیں بنایا جانا چاہئے.. اسی ایک پہلو نے سفارتی ناکامی کو قومی پسپائی اور جذباتی ناکامی میں بدل دیا ہے.. ملکوں کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے.. مشکل یہ آن پڑی کہ جب آپ بدھی جیوی من گھڑت شبدوں سے بنائے جاتے ہیں تو ہار بڑی کھلتی ہے.. ایک کھلی ناکامی کو دس غیر متعلق اسباب کی کھوج سے ڈھانپا جائے گا تو رسوائی اور بڑھے گی.. امریکہ سپر پاور تھا اور ہے لیکن شام، عراق، افغانستان اور اس سے پہلے ویت نام میں ہار چکا ہے، جنوبی امریکہ کے کئی ملکوں میں اس پسپائی ہوئی ہے لیکن وہ موجود ہے.. ہم اپنا زعم ٹوٹنے پر اتنا شور مچایا کہ سفارتی ناکامی ملکی ناکامی میں بدل گئی.. اب اندیشہ ہائے دور دراز سے ہٹ کر ہندوستان کو باہمی مفادات کی بنیاد پر، اور بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کے تحت طالبان سے بات چیت کرنا ہی چاہئے.. یاد رکھنا چاہئے کہ اب طالبان شیل میں نہیں رہ سکتے.. ہجرت ان کو روکنی پڑے گی.. بازآبادکاری کا بہت بڑا مسئلہ سامنے ہے.. معیشت زیرو لیول پر ہے اور سیاسی سیٹ اپ صبر آزما ہے.. قبائلی علاقہ ہے جہاں جوڑ بہت سارے سمجھوتوں کا متقاضی ہوتا ہے.. افغانستان کی تعمیر نو میں ہندوستان کی سرگرم حصہ داری کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوسکتے، ہاں اب سفارت کاری میں سیاسی تلخیوں کے بجائے تعمیری اور معاشی پہلوؤں کا غلبہ ہونا چاہیے، سفارتی ترجیحات از سر نو ترتیت دی جائیں.. جس طرح کی ہندی چینلوں پر گفتگو ہورہی ہے وہ کسی طرح ملکی مفاد میں نہیں...جے شنکر ایک پیشہ ورانہ پس منظر کے سفارت کار وزیر خارجہ ہیں.. بیک ڈور چینل شروع کریں اور مناسب وقت پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مشورہ اپنی حکومت کو دیں.. طالبان کو جلد تسلیم کرنا آگے سفارتی تعلقات کے قیام اور بنیادی معاشی پروجیکٹوں میں حصہ داری کے امکانات کو بڑھادے گا.. اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ طالبان کی نئی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں تنوع ( diversification) کو ترجیح دے گی.. اور سارے انڈے ایک ٹوکری یعنی چینی ٹوکری میں نہیں ڈالے گی.. اس سے پہلے ہمارے دس بارہ ہندی چینلوں سے کہا جائے کہ آپ کے فضول پروگرام ہماری ہار درشاتے اور ہماری حوصلہ شکنی کرتے ہیں.. ہندوستانی مسلمان طالبان کے نمایندے نہیں اور طالبان کسی شکل میں ہندوستانی مسلمانوں کے آئیڈئل نہیں.. ہاں ہم مذہب ضرور ہیں.. ہندوستانی مسلمان تو مشترک سوسائٹی اور جمہوری سیاسی نظام کے عادی ہیں.. وہ مزاجا اعتدال پسند ہیں اور کسی انتہاپسندی کے قائل نہیں ہیں،، طالبان سے ہمدردی کی ایک بڑی وجہ امریکہ سے ان کی لڑائی تھی.. امریکہ سے نفرت مسلمانوں کی بلا امتیاز ہے... اس کو دوسرے معنی نہ پہنائے جائیں.