
ادبیات سے شغف رکھنے والے شاعری میں" زود گوئی" کے بارے میں ضرور جانتے ہیں.. یہ ایک ہنر ہے اور قدرت کلام کا نتیجہ ہے.. طبع موزوں اور مزاج سخن سنج اس کا تقاضہ ہے.. لیکن فکر وتدبر، علم وتحقیق اور فلسفہ وعلم اخلاق سے وابستہ لوگوں کے لئے یہ ایک عیب ہے..کچی مٹی کے بنے گھڑے کو جس طرح دھوپ پھر بھٹی میں پکایا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ مدت تک اور زیادہ احتیاط سے فکر وتحقیق پکائی جاتی ہے پھر زبان وقلم پر لائی جاتی ہے.. ریڈی میٹ تقریریں کرنے والے، اور ہر اسٹیج پر جلوہ آرائی کے عادی کوئی دانش کی بات کہیں گے اس کا امکان کم ہی ہوتا ہے.. عجلتی وشتابی لوگ ہمیشہ اپنی باتوں کی تردید یا توضیح مزید کا بار اٹھاتے ہیں اور ہر وضاحت ان کی طبع زود زاد کی نرگسیت اور مولود زبان کی ناپختگی ظاہر کرتی رہتی ہے.. کیا ضروری ہے کہ کسان تحریک، طلبہ تحریک، طالبان کی اقتدار پر باز واپسی، عدالتی فیصلوں، قانون سازی، انتظامی احکامات پر فوراً ردعمل ظاہر کیا جائے.. اور باخبری کے فریب ہمہ دانی کا شکار رہاجائے.. ہندوستانی مسلمانوں کے رہنما دن بدن ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے میں منہ کھولنے سے پہلے بہت سوچیں.. خواہ وہ پالیسی غلط ہی کیوں نہ ہو.. خارجہ موضوعات پر بیباک اور ملکی مفادات سے متصادم گفتگو اندرون ملک ایک طرح کی حریف سازی کردیتی ہے.. داخلی معاملات پر کوئی بھی بات سخت سے سخت بھی ہمیں حریف نہیں بناتی لیکن خارجی معاملات میں حساسیت بڑھ جاتی ہے.. مسلمان علماء و دانشوروں کو اپنے بڑے رہنما مولانا محمد رابع حسنی صاحب اور مولانا ارشد مدنی صاحب سے بہت کچھ سیکھنا چاہئے، جو ہر طرح کی باخبری کے باوجود تاثرات کے اظہار میں بے حد محتاط رہتے ہیں جب کہ ملک کے داخلی اور ملی مسائل پر بروقت اظہار خیال کرتے ہیں اور کھل کر کرتے ہیں.. طالبان کا اعتدال اور تعاون کے رویے پر ایک خاتون ہندوستانی جرنلسٹ نے ٹی وی پر جو کہا وہ بہتوں کی آنکھ کھول دے گا.. خود ہم سب لوگ ان کو ان کے ماضی کی شہرت سے الگ پاررہے ہیں.. جو اچھی بات ہے.. جلد بازی میں ہمارے مذہبی رہنماؤں کو ردعمل ظاہر کرنے میں اعتدال برتنا چاہیے.. افغانستان کی صورتحال میں ڈرامائی اور غیر متوقع تبدیلی نے ہندوستان کے سیاسی دفاعی اور اقتصادی مفادات کو بہت بڑا دھکہ پہنچایا ہے.. ایران کے چار بہار بندرگاہ پر ہندوستان کی بہت بڑی سرمایہ کاری افغانستان میں ہندوستان دوست حکومت سے جڑی ہوئی تھی.. وسط ایشیا اور چار بہار تک افغانستان ایک راہداری تھا جو اب خطرے میں پڑگئی.. چین کی ون بلٹ ون روڈ کے متبادل کے طور پر اس کو پروجکٹ کیا گیا تھا.. طالبان کی آمد سے یہ پروجکٹ اپنی افادیت کھو بیٹھا.. افغانستان میں ہندوستان کی موجودگی پاکستان کے مغربی بارڈر پر پاکستان کو انگیج رکھتی تھی، وہ دباؤ ہٹ جانے سے اب مشرق بارڈر پر پاکستان کی توجہ بڑھ گئی اور ہندوستان پر دباؤ بڑھ گیا.. یہ دفاعی نقصان ہے.. اس صورت حال میں اس وقت بہت کم سوچ کر زیادہ بولنا نہایت مہلک ہے.. چنانچہ تین دن سے بولنے اب مختلف چینلوں پر اپنی نئی نئی وضاحت کررہے ہیں.. اس میں شک نہیں کہ ہماری افغان پالیسی بہت غلط ثابت ہوئی لیکن اس ملکی پالیسی کے خلاف گفتگو سیاسی سطح پر ہونی چاہئے.. مذہبی نقطہ نظر سے نہیں.. ورنہ خلیج بڑھے گی اور بدگمانی کے مواقع ہاتھ آئیں گے.