Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

فائينانس اور اسلام بحث وتحقيق كے بنيادى نقاط از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى ~ آكسفورڈ

فائينانس اور اسلام بحث وتحقيق كے بنيادى نقاط از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى ~ آكسفورڈ

اسلامك بينكنگ كے متعلق ايك رد وقدح كے دوران ميں نے عرض كيا كہ موجوده اسلامك بينكنگ صرف اسلامى سود ہے، چند حضرات نے اس جملہ كى معنويت كو سمجها، ان ميں سے دو ايك نے اسلامك فائينانس كے موضوع پر انگريزى ميں تحرير كئے گئے ميرے ايك مضمون كا مطالعہ بهى كيا، اس سے خوشى ہوئى كہ كچھ لوگ شكليات سے نكل كر حقائق كو سمجهنا چاہتے ہيں ، اس طرح كے طالبان حق كا تعاون كرنا ايك علمى فريضہ ہے، محترم محمد شاہد ندوى مقيم قطر نے تقاضا كيا كہ اس موضوع پر تفصيل سے لكهوں كيونكه يہ وقت كا اہم مسئلہ ہے اور تضاد آراء كى وجہ سے بہت سے مسلمان كنفيو ژن كا شكار ہيں، ان كے توجہ دلانے سے اسلامك فائينانس پر ايك متوازن كتاب لكهنے كا داعيہ شدت اختيار كر رہا ہے، خدا كرے كه كچھ فرصت ملے اور اس پر كوئى مفيد كام كرنے كى توفيق ہو، آمين ۔

        ميں اس موضوع پر كب كوئى كتاب لكھ سكوں گا ابهى كچھ  نہيں كہا جا سكتا، سر دست اتنا كرتا ہوں كہ ان  طلبہ اور علماء كے لئے كچھ نقاط كى نشاندہى كردوں جو اس موضوع پر يا اس كے كسى حصہ پر بحث وتحقيق كرنا چاہتے ہيں ۔

ان نقاط سے پہلے تحقيق كے غلط طريقہ كا ذكر ہے تاكہ آپ اس سے بچيں ۔

تحقيق كا غلط طريقہ:

        حاليہ گفتگو كے دوران چار بنيادى غلطياں نظر آئيں جو بحث وتحقيق كے لئے سم قاتل ہيں، آپ ان سے بچيں، ورنہ آپ سچائى تك كبهى نہيں پہونچ سكتے ۔

        پہلى غلطى: ايك عام غلطى ہے كہ ہم بحث وتحقيق كو كسى اداره يا شخصيت كے تابع كرديتے ہيں، اگر كسى اداره كا كوئى موقف سامنے آيا تو ہم اسى موقف كو حق سمجھ ليتے ہيں، اس كے دلائل اور تشريحات كى حقيقت جاننے كى كوشش نہيں كرتے، يا كسى مخلص اور ذى علم كى رائے معلوم ہوئى تو ہم اس كى پابندى ضرورى سمجهتے ہيں، اس طرح كسى كى پيروى نہ دين ميں صحيح ہے، اور نه يہ ايك عالمانہ رويہ ہے، آپ سلف كى طريقہ سے سيكهيں كہ كس طرح امام ابو حنيفه كے شاگردوں نے ان سے اختلاف كيا، اور اس طرح كا اختلاف ہميشہ جارى رہا ۔

        دوسرى غلطى: كچھ لوگوں كے ذہن ميں يه بات بيٹھ گئى ہے كہ دو رايوں كے درميان تيسرى رائے ہى معتدل اور صحيح ہوگى، يہ ايك دهوكہ ہے، كسى چيز كا صحيح ہونا دليل سے معلوم ہوتا ہے نہ كہ اس كے محل وقوع سے، مرزا غلام احمد قاديانى كے متعلق ايك رائے ہے كہ وه نبى ہے، دوسرى رائے ہے كہ وه كذاب ہے، ايك تيسرى رائے ہے كہ وه نہ نبى ہے اور نہ كذاب بلكہ وه ايك مجدد ہے، كيا يہ تيسرى رائے صرف اس بنا پر اختيار كى جا سكتى ہے كہ وه درميانى ہے؟ سور كو مسلمان حرام كہتے ہيں، عيسائى اسے حلال سمجھ كر كهاتے ہيں، كچھ لوگوں كا كہنا ہے كه دونوں رائيں انتہا پسندانہ ہيں، درميانى رائے يہ ہے كہ سور اگر گندگى كهاتا ہو تو حرام ہے، اور اگر پاك چيزيں كهائے اور صاف ستهرا ہو تو حلال ہے، كيا آپ اس رائے كو معتدل مانيں گے؟ تحقيق كا صحيح طريقہ دليل كى پيروى ہے، آپ اس  طريقه سے ہرگز نہ ہٹيں ۔

        تيسرى غلطى: آپ اپنے خاندان يا دوستوں ميں ايسے لوگوں كو جانتے ہوں گے جو اسلامك بينكنگ كا حصہ ہيں، اور وه  اس پر  اپنے اطمينان كا اظہار بهى كرتے ہوں گے، ان كے اطمينان كو آپ دليل كا درجه نہ ديں، ان ميں سے ايك كثير تعداد فقہى باريكيوں سے نا واقف ہوتى ہے، اور ان تفصيلات كو سرے سے جانتے ہى نہيں جو اس مضمون كے دوسرے حصہ ميں آرہى ہيں ۔

        چوتهى غلطى: كچھ لوگ يہ سوچتے ہيں كہ چونكہ اسلامك بينكنگ سے ہمارا لين دين ہے، لہذا اسے لازمًا صحيح ہونا چاہئے، ايسے لوگ ہر اس رائے پر خوشى كا اظہار كريں گے جو ان كے فيصلہ كو حق بجانب قرار دے، ظاہر ہے كہ اس طرح كى كسى سوچ كى موجودگى ميں تحقيق كى بنياد يعنى امانت دارى كا خون ہوتا ہے ۔

بنيادى نقاط

يہ بنيادى نقاط دو حصوں ميں تقسيم كئے جاتے ہيں، ايك اصولى، دوسرے فروعى:

اصولى نقاط:

        پہلا نقطہ: فائينانس معاشيات كا ايك جزء ہے، ہر قوم اسے اسى حيثيت سے جانتى ہے، اور ہر يونيورسٹى ميں اس كى تعليم اسى حيثيت سے ہوتى ہے، اور اتنى بديہى حقيقت ہے كہ اس كے لئے كسى دليل كى ضرورت نہيں ۔

        اگر آپ اسلامك فائينانس پر تحقيق كرنا چاہتے ہيں تو آپ اس سوال سے آغاز كريں كہ اسلامك فائينانس كس معاشيات كا حصہ ہے، اگر اسلامك فائينانس مشرق ومغرب كے كسى غير اسلامى معاشى نظام كا حصہ ہے تو وه اسلامى كيوں كر ہو سكتا ہے؟ ابهى تك كوئى اسلامى معاشى نظام وجود ميں نہيں آيا ہے، مشرق وسطى ميں پٹرو ڈالر نے كچھ لوگوں كو اسلامك بينكنگ كى طرف متوجہ كيا، اور انہوں نے كسى معاشى نظام كے قيام كے بغير اسلامك فائينانس قائم كرديا ، اور جب تك يہ صورت حال رہے گى اسلامك فائينانس اسلام كے معارض اور دشمن معاشى نظاموں كا علام رہے گا، اس طرح كے كسى فائينانس كو اسلامى كہنا صرف دهوكہ ہے ۔

        دوسرا نقطہ: مغرب كا موجوده معاشى نظام سرمايہ داروں كے مفادات كا پاسبان ہے، جبكہ اسلام ميں ترجيح فقراء كے حقوق ومفادات كى ہے، فقہ اسلامى كے بہت سے مباحث صرف غريبوں كى رعايت ميں وجود ميں آئے ہيں، آپ كو تحقيق كرنا ہوگى كہ موجوده  اسلامك فائينانس سرمايہ داروں كے مفاد كو ترجيح ديتا يا غريبوں كے مفاد كو؟ كيا پاكستان اور بنگلہ ديش كے كسى غريب علاقہ ميں بهى كوئى اسلامك بينك موجود ہے؟

تيسرا نقطہ: مغرب كا معاشى نظام انسانوں كے لئے ہے، مسلمان بالعموم يہ سوچتے ہيں كه چونكہ ہم انسان ہيں اس لئے ہم بهى اس نظام سے اسى طرح مستفيد ہو سكتے ہيں، اور ہم انسانى علوم كى اصطلاح سے دهوكہ كها جاتے ہيں، ياد ركهيں كہ مغرب ميں انسان  كا مفہوم الگ ہے اور اسلام ميں انسان كا مفہوم الگ ہے، دونوں انسانوں ميں اس سے زياده فرق ہے جو فرق بكرى اور خنزير كے درميان ہے، آپ مغرب كے انسانى علوم كو آسانى سے اسلامى نہيں بنا سكتے ۔

فروعى نقاط:

        پہلا نقطہ: يه بات ذہن ميں ركهيں كہ جب آپ كسى چيز كو اسلامى بناتے ہيں تو  وه غير اسلامى ہوتى ہے، اب آپ كو ديكهنا ہے كہ غير اسلامى چيز كن شرطوں سے اسلامى ہو سكتى ہے، كيا زنا  كو اسلامى بنايا جا سكتا ہے؟ كيا سود كو  اسلامى بنايا جاسكتا ہے؟ آپ ميرى اس بات كو مبالغہ  پر محمول نہ كريں، بلكه كچھ وقت ليكر اس نقطه پر سنجيدگى سے غور كريں ۔

        دوسرا نقطہ:  ميں نے بہت سے اسلامك فائينانس كے ماہرين سے گفتگو كى تو معلوم ہوا كہ وه سود كے قرآنى مفہوم سے واقف ہى نہيں، انہيں ربا الجاهلية اور ربا الاسلام كا فرق ہى نہيں معلوم، جو لوگ اتنى بنيادى بات سے نا واقف ہوں وه كس طرح اسلام كے معاشى نظام كے كسى حصہ كى خدمت كر سكتے ہيں؟ لہذا آپ ربا كو سمجهيں، اور يہ ديكهيں كه اسلامك بينكنگ نے اسى سمجهنے ميں كن غلطيوں كا ارتكاب كيا ہے ۔

        تيسرا نقطہ: اسلام ايك حقيقت ہے، يہ صرف لفظ وشكل كا نام نہيں، اس وقت اسلامك فائينانس زياده تر الفاظ كا كهيل ہے اس پر غور كريں۔

        چوتها نقطہ: موجوده اسلامك فائينانس ميں بہت سى اسلامى اصطلاحوں كا استعمال ہوتا ہے ليكن ان كے معانى بدل ديئے گئے ہيں، مثلا ايك كثير الاستعمال اصطلاح مرابحہ كى ہے، ميں نے جب بهى اسلامك فائينانس ميں كام كرنے والوں سے فقہى مرابحہ كى تحقيق كى تو معلوم ہوا كہ وه جانتے ہى نہيں كه مرابحہ كيا ہے، اور يہى لوگ ہيں جو اس لفظ كو سب سے زياده استعمال كرتے ہيں ۔

يہ نقاط ان لوگوں كے لئے ہيں جو اس موضوع پر كام كرنا چاہتے ہيں، الله تعالى ہميں علم نافع عطا كرے ۔آمین