
تمہيد
ہمارے عزيز دوست ڈاكٹر عبد الماجد ندوى كشميرى پروفيسر جامعہ ملیہ اسلامیہ كى فرمائش ہے كہ دو حديثوں "من كنت مولاه فعلي مولاه"، و" أذكركم الله في أهل بيتي" كى علمى تحقيق پيش كروں، منصور پور كے ايك خطيب نے ان دونوں حديثوں كو متواتر گردانا ہے، اور اہل سنت والجماعت پر انہيں چهپانے كا الزام لگايا ہے۔
خطيب مذكور كا تعلق اس اداره سے ہے جس كى بنياد اس پر تهى كه مسلمانوں كے قديم متنازع فيہ مسائل كو نہ چهيڑا جائے، بلكہ ان اہم امور پر توجہ دى جائے جو عصر حاضر ميں امت كى اولين ترجيحات ہيں، چنانچہ اس اداره كے علماء ومحققين اس طريقۂ سنيہ پر پورى وفادارى سے كاربند رہے، ليكن خطيب موصوف نے اتنے واضح سبق كو بھلا كر مفروغ منها مسائل كوكريدنے اور مسلمانوں كو ان ميں الجهانے اور انہيں باہم لڑانے كا منحوس كام شروع كرديا ہے، وه سب وشتم كو دليل سمجهتے ہيں، ترادف كلمات ذم وتشنيع كو تنوع دلائل كا نام ديتے ہيں، اور زور سے گالى دينے كو زور دار دليل باور كرتے ہيں۔
موصوف كى كذب بيانى وتدليس كے نمونے ہر روز سامنے آتے رہتے ہيں، ان كو سننا اضاعت وقت ہے، اور ان كى ترديد تحصيل حاصل، يہ تحرير صرف عزيز دوست كى فرمائش پورى كرنے كے لئے ہے، اور اس ميں حتى الامكان اختصار كو ملحوظ ركها گيا ہے، دو الگ الگ مضمونوں ميں مندرجہ بالا دونوں حديثوں كى تحقيق پيش كركے منصور پورى صاحب كے فريب سے پرده اٹهانے كى كوشش كى گئى ہے۔
پہلے مضمون كا آغاز روافض كے عمومى طريقۂ كار اور روافض كى روايات كے جائزه سے كيا گيا ہے تاكہ صرف ان دو حديثوں كے متعلق ہى نہيں بلكہ عام طور سے روافض اور ان كے ہمنواؤں نے جو كذب بيانى ودسيسہ كارى كى ہے اسے سمجهنے ميں آسانى ہو۔
روافض كا طريقۂ كار
حضرت على رضي الله عنه كے فضائل ومناقب پر اہل سنت والجماعت كا اسى طرح ايمان ہے جس طرح وه حضرت ابو بكر صديق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذو النورين، آل بيت، اور عام صحابۂ كرام رضي الله عنہم كے فضائل ومناقب پر يقين ركهتے ہيں، نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كے اصحاب رضي الله عنهم انبياء عليهم السلام كے بعد سب سے زياده محترم ہيں، ان كے فضائل ومناقب پر قرآن كى آيات بينات اور احاديث صحاح وواضحات شاہد عدل ہيں، روافض اور ان كے ہمنواؤں كو سخت ناگوار ہے كه مسلمان حضرت على رضي الله عنہ كے صحيح مقام كو سمجهيں،كيونكه وه ان كى شخصيت كے نام پر اسلام كى تحريف كا ناپاك سلسلہ جارى ركهنا چاہتے ہيں، اور اسلام كو برہمنيت كا رنگ دينا چاہتے ہيں، محقق علمائے كرام اور آخر ميں حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى نے روافض كے ناپاك عزائم كو مسمار كرديا تو ان روافض كو جو تكليف ہوئى وه ظاہر ہے، حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى اپنى منفرد تصنيف "المرتضى" كى تصنيف كا مقصد بيان كرتے ہوئے تحرير فرماتے ہيں: " فرزندان رسول وسادات كرام كى خود دارى اور عزت نفس كى جو تصوير ملتى ہے وه كليۃ ان برہمن زادوں اور ايرانى ومسيحى دنيا كے مذہبى اجاره داروں كے طرز عمل سے مختلف ہے جو مذہب وخاندان كا استحصال كرتے ہيں، اور مذہبى خدمات كو اپنى جاگير سمجهتے ہيں" (المرتضى ص 390)
روافض كى روايات
روافض نے اسلام كى بيخ كنى كے لئے بالعموم چار قسم كى روايتوں كا سہارا ليا ہے:
1- روافض نے ائمۂ اہلبيت كے خود ساختہ مناقب اور صحابۂ كرام رضي الله عنہم كے مثالب ميں كثرت سے حديثيں گڑهيں، استاد محترم حضرت مولانا شہباز عليہ الرحمۃ فرماتے تهے كه دنيا ميں كوئى مذہب ايسا نہيں جس ميں چهوٹ اور زنا كو تقدس حاصل ہو، صرف شيعه مذہب ايسا ہے جس ميں تقيه كے نام سے كذب وافترا كو اور متعہ كے نام سے زنا كو مقدس ٹهہرايا گيا ہے ۔
2- روافض نے سرقۂ حديث كا بازار نا قابل يقين حد تك گرم كيا، انہيں كسى صحابى كى فضيلت ميں كوئى حديث ملتى ہے، تو اس صجابى كا نام نكال كر وہى حديث اپنى كسى بزرك شخصيت كے نام معنون كرديتے ہيں، اور جب كسى منافق كے متعلق كوئى حديث معلوم ہوتى ہے تو اسے خلفائے راشدين، امہات المؤمنين اور ديگر صحابۂ كرام كى طرف منسوب كرديتے ہيں، اس صنعت گرى كو سرقۂ حديث كہا جاتا ہے، اس فن ميں كوئى قوم روافض كى ہمسرى كا دعوى نہيں كرسكتى ۔
3- وه صحيح احاديث جو ثقات كے واسطہ سے مروى ہوتى ہيں، كبهى كبهى ان كے كسى طريق ميں كوئى غلط متن منقول ہو جاتا ہے، ايسے غلط متن كو اصطلاح ميں شاذ كہا جاتا ہے، روافض ايسے سارے غلط متون كے عاشق ہيں جن سے ان كے كسى نظريه كى تائيد ہوتى ہو، سنى لوگ دهوكہ ميں آجاتے ہيں كہ اس حديث كى اصل ثقات كى روايت سے منقول ہے تو اس ميں ضرور كوئى صداقت ہوگى ۔
4- زياده تر كمزور راويوں كى غلطياں جنہيں منكر كہا جا تاهے شيعوں كے كام آتى ہيں، روافض كے يہاں مناكير كى كثرت ہے، بلكه شيعه مرويات كا اسى فيصد سے زياده يہى منكر اخبار ہيں۔
الغرض يه چار قسم كى روايتيں ہيں جن پر شيعوں كا مذہب قائم ہے: موضوع (باطل) روايات، مسروقہ (چرائى ہوئى)روايات، شواذ، اور مناكير ، نيز شيعوں كى دسيسہ كارى كا ايك شرمناك حصہ يه بهى ہے كہ وه اہل سنت والجماعت كے كسى ہمنام شيعه عالم كا اس طرح حوالہ ديتے ہيں كہ عام انسان انہيں سنى عالم تصور كرليتا ہے، مثلا شيعه طبرى كا حوالہ كثرت سے ديتے ہيں، ليكن يه طبرى مشہور مؤرخ طبرى نہيں، بلكه ايك رافضى طبرى ہے، اسى طرح شيعه سنيوں كے ہمنام علماء كے درميان بهى تدليس كرتے ہيں، مثلا وه ابن حجر كا حواله ديں گے اور يه تاثر دينے كى كوشش كريں گے كہ اس سے مراد حافظ ابن حجر عسقلانى صاحب فتح البارى ہيں، حالانكہ اصل حوالہ ابن حجر ہيتمى كى كسى كتاب كا ہوتا ہے، انہيں روافض كے نقش قدم پر چلتے ہوئے منصورپورى صاحب نے اپنى حاليہ تقرير ميں حافظ ابن حجر عسقلانى كى كتاب (المطالب العالية) كے ذكر كے بعد ابن حجر كى (الصواعق المحرقة) كا ذكر كيا ہے، حالانكہ يه كتاب ابن حجر ہيتمى كى ہے نه كه حافظ ابن حجر عسقلانى كى ۔
"من كنت مولاه فعلي مولاه" كى روايت:
اب آتے ہيں اس حديث كى طرف جس كى تحقيق كے لئے يه مضمون قلمبند كيا گيا ہے، وه حديث ہے "من كنت مولاه فعلي مولاه)، بعد كے ادوار ميں شيعوں اور ان كے ہمنواؤں نے يه حديث بہت پهيلائى ہے، يہاں تك كہ بعض لوگوں نے اسے متواترتک كہہ ڈالا، جو ايك غلط دعوى ہے، ذيل ميں چند نقاط پيش كئے جاتے ہيں جن سے اس دعوى كى حقيقت كهل جائے گى:
1- امام مالك كى موطأ، امام بخارى كى الجامع الصحيح، اور امام مسلم كى الصحيح ميں يہ روايت سرے سے موجود نہيں ہے، اس كا مطلب يه ہے كہ يہ خبر امام بخارى اور امام مسلم كى شرائط پر پورى نہيں اترتى۔
2 ۔ يه حديث درجۂ دوم وسوم كى كتابوں ميں ہے، جن ميں صحيح وغير صحيح دونوں قسم كى حديثيں پائى جاتى ہيں، اور جن كا معيار صحت امام بخارى اور امام مسلم كے معيار سے فرو تر ہے، چنانچہ اصول سته ميں يه حديث صرف سنن ترمذى (كتاب المناقب، مناقب علي بن أبي طالب) اور سنن ابن ماجه (مقدمه، فضل علي بن أبي طالب) ميں ہے، اس كے بعد شيعوں نے جس طرح اس حديث كو ہر طرف نشر كيا ہے كه الأمان الحفيظ۔
3 ۔ شيعه اور ان كے ہمنوا اس حديث كو اسلام كى بنياد بناكر پيش كرتے ہيں، حالانكہ يہ حديث (بشرط صحت) حج سے واپسى كے بعد كى ہے، حجة الوداع ميں آپ صلى الله عليه وسلم پر اكمال دين واتمام نعمت كى مشہور آيت (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي) نازل ہوئى، اور اسى موقع پر آپ نے اپنى امت كو تبليغ دين كى ذمہ دارى سونپى، ظاہر ہے كه يہ حديث اس ميں شامل نہيں تهى، اور صحابه كرام كى بڑى جماعت حج كے بعد اپنے گهروں كو واپس ہوگئى، اور انہوں نے يہ حديث نہيں سنى، يہ پس منظر اس كى واضح دليل ہے كه يہ حديث اصول واساسيات دين ميں نہيں۔
محدثين كا اس پر كلام
گرچہ متأخرين ميں سے كچھ لوگوں نے اسے صحيح قرار ديا ہے، ليكن عام طور سے ائمۂ متقدمين اور علمائے محققين نے اس پر كلام كيا ہے اور اسے ضعيف ومنكر قرار ديا ہے، اس حديث كى كوئى ايسى سند جو صحيح اور بے داغ ہو موجود نہيں، تقريبا اس كى ہر سند ميں كوئى شيعه يا كذاب راوی موجود ہے، اسے ضعيف قرار دينے والوں ميں امام بخاري، اور امام ابراهيم الحربى جيسے ائمۂ حديث ہيں، يہ دعوى كه يہ حديث متواتر ہے ايك باطل دعوى ہے، اگر يہ حديث متواتر ہوتى تو اس پر ائمۂ حديث طعن كيوں كرتے؟۔
امام ابن حزم اس حديث كى تضعيف كرتے ہوئے اور شيعوں كى عام روايتوں كو موضوع قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں: " وأما من كنت مولاه فعلي مولاه ، فلا يصح عن طريق الثقات أصلا " وأما سائر الأحاديث التي تعلق بها الرافضة فموضوعة يعرف ذلك من له أدنى علم بالأخبار ونقلتها . . . "( الفصل في الملل والنحل 4/148) ۔
مشہور حنفى محدث ومحقق امام زيلعى نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية 1/189 ميں اس حديث كو كمزور قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں : "وكم من حديث كثرت رواته وتعدت طرقه وهو حديث ضعيف كحديث " من كنت مولاه فعلي مولاه "۔
امام ابن تيميه منهاج السنة 7/319 ميں اس حديث كو ضعيف گردانتے ہوئے اور روافض كى عام روايات پر كلام كرتے ہوئے تحرير فرماتے ہيں: "لكن حديث الموالاة قد رواه الترمذي وأحمد والترمذي في مسنده عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال من كنت مولاه فعلى مولاه وأما الزيادة وهي قوله اللهم وال من والاه وعاد من عاداه الخ فلا ريب انه كذب ونقل الأثرم في سںه عن احمد أن العباس سأله عن حسين الأشقر وأنه حدث بحديثين أحدهما قوله لعلي انك ستعرض على البراءة مني فلا تبرا والآخر اللهم وال من والاه وعاد من عاداه فأنكره أبو عبيد الله جدا و لم يشك أن هذين كذب وكذلك قوله أنت أولى بكل مؤمن ومؤمنة كذب أيضا وأما قوله من كنت مولاه فعلي مولاه فليس هو في الصحاح لكن هو مما رواه العلماء وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري وإبراهيم الحربي وطائفة من أهل العلم بالحديث انهم طعنوا فيه و ضعفوه ونقل عن احمد بن حنبل انه حسنه كما حسنه الترمذي وقد صنف أبو العباس بن عقدة مصنفا في جميع طرقه وقال ابن حزم الذي صح من فضائل علي فهو قول النبي صلى الله عليه وسلم أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا انه لا نبي بعدي وقوله لاعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله وهذه صفة واجبة لكل مسلم مؤمن وفاضل وعهده صلى الله عليه وسلم أن عليا لا يحبه إلا مؤمن ولا يبغضه إلا منافق وقد صح مثل هذا في الأنصار انهم لا يبغضهم من يؤمن بالله واليوم الآخر قال وأما من كنت مولاه فعلى مولاه فلا يصح من طريق الثقات أصلا وأما سائر الأحاديث التي يتعلق بها الروافض فموضوعة يعرف ذلك من له أدنى علم بالأخبار ونقلها".
بفرض ثبوت اس كا مفہوم
اگر اس حديث كو ثابت مان بهى ليا جائے تو اس ميں كوئى ايسى چيز نہيں جس سے شيخين ابو بكر صديق، عمر فاروق اور عام صحابۂ كرام پر حضرت على رضي الله عنه كى فضيلت لازم آئے، درحقيقت حضرات خلفائے راشدين بشمول على رضي الله عنہم كے فضائل ومناقب اس سے كہيں زياده ہيں، اور وه قرآن كريم اور صحيح احاديث سے ثابت ہيں، حضرت على رضي الله عنه كے محاسن ضعيف ومنكر روايات سے بے نياز ہيں۔
اس حديث ميں حضرت على كو مسلمانوں كا مولى بيان كيا گيا ہے، مولى كے معنى عربى زبان ميں قريبى اور حامى ومددگار كے آتے ہيں، چچا زاد بهائى، غلام، آقا، آزاد كرده غلام ان سب كو عربى ميں مولى كہا جاتا ہے، الله تعالى، جبريل عليه السلام، اور تمام مؤمنين كے لئے كتاب الہى اور سنت نبوى ميں مولى كا لفظ مستعمل ہے۔
قرآن كريم ميں ہے "إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين والملائكة بعد ذلك ظهير" سورة التحريم الآية 4، الله تعالى، جبريل عليه السلام اور صالح مؤمنين كو نبى كريم صلى الله عليه وسلم كا مولى كہا گيا ہے، ايك دوسرى آيت ميں ہے "ذٰلك بأن الله مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولىٰ لهم" سورة محمد الآية 11، اس ميں الله تعالى كو تمام اہل ايمان كا مولى كہا گيا ہے، اور اس مفہوم كى آيات متعددہيں۔
امام شافعى رحمة الله عليه حديث "من كنت مولاه فعلي مولاه" كو اسى عام ولايت پر محمول كرتے ہيں جو سارے مسلمانوں كو حاصل ہے، فرماتے ہيں: "يعني بذلك ولاء الإسلام كقوله تعالى ذلك بأن الله مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم" (تحفة الأحوذي)۔
صحيح مسلم ميں متعدد طرق سے مروى ہے: " الأنصار ومزينة وجهينة وغفار وأشجع، ومن كان من بني عبدالله، موالي دون الناس، والله ورسوله مولاهم "، اس حديث ميں نبى كريم صلى الله عليه وسلم نے خود كو انصار، مزينه، جہينه، غفار، اشجع وغيره قبائل كا مولى قرار ديا ہے۔
حضرت على رضي الله عنه كے لئے اس ولايت كے ثابت كرنے كا مقصد
شايد كسى كے ذہن ميں يہ سوال پيدا ہو كه اگر يہ ولايت اتنى عام ہے تو حضرت على كے لئے اسے ثابت كرنے كى كيا وجہ ہے؟ اس سوال كا جواب اس حديث كا پس منظر ہے، جب نبى اكرم صلى الله عليه وسلم نے حضرت على رضي الله عنه كو يمن كا گورنر متعين كيا تو وہاں كے لوگوں نے بار بار حضرت على كى خلاف شكايتيں كيں اور ان سے نفرت ودشمنى كا اظہار كيا تو اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت على كے ايمان كى شہادت ديتے ہوئے اور ان سے اپنى قربت كا اظہار كرتے ہوئے يه جملہ ارشاد فرمايا ، تاكہ لوگوں كو معلوم ہو جائے كہ وه اہل ايمان ميں سے ہيں، اور انہيں وہى ولايت وقربت حاصل ہے جو كتاب الہى ميں اہل ايمان كا خاصه ہے، چنانچہ آپ كے ارشاد كے بعد ان افواہوں كا دروازه بند ہوا، اور يہى وه ولايت ہے جس كى تاكيد قرآن كريم كى اس آيت ميں ہے: " والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض" سورة التوبة آيت 71، اور اسى كے متعلق حضرت على رضي الله عنه كى روايت ہے: "والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه وسلم إلي أنه لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق"۔
حضرت على رضي الله تعالى عنه نے بذات خود شيعوں كى ان ہفوات كو بند كيا جو حضرت على رضي الله عنه كى احقيت خلافت يا ان كے لئے كسى مخصوص مقام كو ثابت كرنے كے لئے گرم تهيں، اور انہوں نے بار بار فرمايا كہ ان كے پاس كوئى وصيت نہيں، نيز تاكيدًا يه بهى فرمايا كه اگر وه حضرت ابو بكر وحضرت عمر رضي الله عنهما كے مقابلہ ميں خلافت كے زياده حقدار ہوتے تو ان سے جنگ كرتے خواه اس جنگ ميں كوئى ان كا ساتھ نہ ديتا، اس كى تفصيلات علامه ابن حجر ہيتمى نے اپنى كتاب (الصواعق المحرقة) ميں بيان كى ہيں، لہذا يہاں انہيں دہرايا نہيں جائے گا۔
اس موضوع پر تشفى بخش كتاب امام ابن تيميه كى (منہاج السنة)، اور شاه ولى الله دہلوى كى ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ہے، مزيد اطمينان كے لئے ان كى طرف رجوع كرنا چاہئے۔