
دراصل یہ تحریر ایک عالم شخصیت برادرم شعیب حسینی صاحب کے سوال کاجواب ہے۔
موصوف کا سوال:
جناب شیخ! میں ایک الجھن میں شرح صدر کا خواہشمند ہوں، میری الجھن یہ ہے کہ کیا صحابہ کی جماعت میں کسی صحابی کے متعلق یہ گمان ممکن ہے کہ وہ داغ نفاق سے داغدار ہو؟ اور اگر ایسا ہے تو بے داغ صحابی اور نفاق سے متہم صحابی میں امتیاز کی شکل کیا بنے گی؟ اس الجھن کے پیش آنے کی ایک وجہ حضرت عمر کا ایک معمول بھی ہے کہ حضرت عمر کسی جنازے میں شرکت کے لئے حضرت حذیفہ ابن الیمان کی شرکت کو بنیاد بناتے، یعنی کسی جنازے میں حضرت حذیفہ کی شرکت اس میت کے نفاق سے بری ہونے کی شہادت سمجھی جاتی، تو کیا یہ منافقین صحابہ کے درمیان اس قدر گھل مل گئے تھے کہ ان کی شناخت خود صحابہ کے لئے بھی آسان نہ تھی؟ اور اگر ایسا تھا تو دین کی تعلیمات میں ان کی چالبازیوں اور فریب سے بچنا کیسے ممکن سمجھا جائے؟ دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ولید ابن عقبہ، عبداللہ بن ابی سرح، اور ابن وائل وغیرہ جو خلفاء راشدین کے زمانے میں بڑی فحش غلطیوں اور گناہوں کے مرتکب ہوئے، اور فن حدیث کے اصولوں میں یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ تمام صحابہ راست گو اور راست باز ہیں، ان پر کوئی جرح نہیں کی جاسکتی، تو یہ اصول ان مذکورہ صحابہ پر کیسے منطبق ہوگا؟ ایسے ہی کچھ سوالات ہیں جو ذہنی الجھن کا سبب بنے ہوئے ہیں، جب کہ دل کا عالم یہ ہے کہ الحمدللہ وہ تمام صحابہ کے حق میں رضائے الٰہی کی دعا کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔
جواب
سوال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سائل ان شاء اللہ اپنی نیت میں مخلص ہے، لہذا میں نے یہ طے کیا کہ اس سوال کا کسی قدر ایسا تفصیلی جواب دوں جو سائل کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کے لئے بھی فائدے سے خالی نہ ہو، اس جواب کو میں نے مختلف ذیلی عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے، تاکہ موضوع تشنہ نہ رہے، کیونکہ یہ موضوع دین کے ان حساس موضوعات میں سے ہے جہاں انسانوں کی ایک بڑی تعداد تباہ کن انجام کی راہ پر گم ہوگئی، اللّٰہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
تمہید
ان دنوں سرزمین ہندوستان اور عام مسلم ممالک بڑے ناگفتہ بہ اور مایوس کن حالات سے گزر رہے ہیں، ان حالات میں علماء اور ملی ذمے داران سے یہ مطالبہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ بڑی بالغ نظری، دور اندیشی اور بہت ہی تحمل مزاجی سے ان حالات کے مقابلے اور ان سے محفوظ رہنے کا حل تلاش کریں، اور وہ حل یہ ہے کہ مسلمانوں کا دین حنیف سے از سرِنو رشتہ مضبوط کریں، کتاب الہی کی گونج دوبارہ گھر گھر میں سنائی دے، اور معاشرے کے ہر گوشہ کو سنت نبوی کا آئینہ دار بنایا جائے، اور ان کا تعلق و لگاؤ روشن کردار صحابہ سے مضبوط پیمانے پر استوار کیا جائے، جس جماعت نے دین کی نشر و اشاعت، اس کی تعلیم کو عام کرنے اور امت کو متحد رکھنے کی راہ میں اپنی جانیں قربان کردیں، مگر افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں ایسے علماء کی تعداد بہت کم ہے جو اس تباہ کن خطرے اور اس کے مقابلے کے لئے فکر مند نظر آتے ہوں! عام علماء اور ان کے حواریین ایسے جزئی اور غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جو مسلمانوں میں انتشار اور بے چینی کا ماحول بناتے ہیں، اور جس کی وجہ سے ملت کے افراد ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن کر الگ الگ گروہوں میں بٹ رہے ہیں، یہ فتنہ اس قدر جوان ہوا کہ اس نے اپنی لپیٹ میں ایک نئے فتنے کو زندہ کردیا، اور وہ فتنہ جہاں فتنہ پروروں کی غفلت کا نتیجہ ہے، وہیں ان کی بدبختی، محرومی، بے اعتدالی اور راہ حق سے نفور کا باعث بھی ہے، وہ فتنہ کیا ہے؟ وہ فتنہ أصحاب رسول کی شان میں زبان درازی اور گستاخی کا فتنہ ہے، جو گروہ بلا چون و چرا بنی نوع انسانیت کا سب سے معزز اور محترم گروہ ہے، اللّٰہ ہمیں ان کی سچی محبت اور ان کی بے لوث ہمنوائی عطا فرمائے ۔
اصحاب رسول کی ایمانی شانِ استقامت
یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ وہ جماعت جس کا ایمان پوری انسانیت میں (باستثناء انبیاء) سب سے اعلیٰ، جن کے اعمال سب سے اچھے، جن کے اخلاق سب سے بلند، جن کی خصوصیات قابلِ ذکر، جن کے امتیازات یادگارِ زمانہ، جن کی خوبیاں معلومِ خلقت ہیں وہ صحابہ کی جماعت ہے، ان کے ان اوصاف پر قرآن کی روشن آیات شاہد ہیں، اور جن کی شان میں نبی کے واضح ملفوظات نے مہر عظمت بھی لگائی ہے، قرآنی شہادتوں میں سورۂ فتح کی آخری آیت ان کی شان کو ایک نرالے اسلوب میں عزت بخشتی ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ.
"محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں، وہ کفار پر سخت اور آپس میں مہربان ہیں، تم انہیں رکوع و سجدے کا پابند پاؤگے، جو ہمہ وقت رب کے فضل اور اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں، ان کے چہروں پر سجدے کی علامات نمایاں نظر آئیں گی."
اسی طرح نبی کی زبان رسالت سے شیخین نے اپنی حدیث کی کتاب میں جو بلا چون و چرا روئے زمین پر کتاب الہی کے بعد صحت کے درجے میں سب سے اعلی کتاب ہے، نامور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت نقل کی ہے:
خیر القرون قرنی
"روئے زمین پر خیر کے اعتبار سے نسل انسانی کی سے سب سے معزز جماعت میرے صحابہ کی جماعت ہے۔"
انہی شیخین نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے :
لا تسبوا أصحابی، فوالذي نفسي بيده لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه.
"میرے صحابہ کی شان میں بدکلامی نہ کرنا، میری جان کے مالک کی قسم تمہارا راہ خدا میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا ان کے ایک مُد اور آدھے مُد کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتا!"
ابن مسعودؓ فرماتے ہیں :
الصحابة أبر هذه الأمة قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا،وأقومها هديا، وأحسن ها حالا، اختارهم الله لصحبة نبيه، وأقامة دينه.
الاستيعاب/ابن عبد البر١/١
"اصحاب رسول کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے دل کے بہت سچے ہیں، ان کا علم بڑا گہرا ہے، پر تکلف مزاج سے نا آشنا ہیں، ان کا طرز زندگی بے داغ ہے، ان کے حالات بڑے پرکشش ہیں، اللّٰہ نے اپنے نبی آخر الزماں کا سچا ساتھی بننا اور روئے زمین پر اپنے دین کو غالب کرنا اس مقدس گروہ کا مقدر بنایا۔"
الإستيعاب/ابن عبد البر1/1
گروہ صحابہ میں مخصوص جماعت کی خصوصیات
صحابہ کی مخصوص جماعت کی شان میں بہت سی قرآنی آیات اور احادیث رسول وارد ہیں، اس سرکردہ جماعت کی فہرست میں نمایاں نام حضرات خلفاء راشدین ابوبکر و عمر و عثمان و علی کے ہیں، اس کے بعد بقیہ عشرۂ مبشرہ، اور نبی اکرم کی پاکیزہ صفات ازواج، امہات المؤمنین اور صاحبزادیاں شامل ہیں، اور ان کے علاوہ وہ مختلف صحابہ بھی شریکِ فہرستِ خواص ہیں جن کو زبان نبوت سے انفرادی طور پر جنت کی بشارت ملی، اور ان کی نیک خصوصیات کی بنا پر زبان نبوت نے ان کو معزز بنایا۔
مہاجرین و انصار کے عمومی گروہ کی خصوصیات
پہلے مخصوص گروہِ صحابہ کے بعد دوسرا مقام مہاجرین و انصار کے عمومی گروہ کا ہے، جس عمومی گروہ کی شان اور رتبہ کا تذکرہ قرآن و حدیث دونوں جگہ موجود ہے، قرآن میں اللّٰہ کا فرمان ہے:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. [التوبة /١٠٠]
"مہاجرین و انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اللّٰہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اللّٰہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
اس آیت کے جملے "اتبعوھم بإحسان" کی وسعت نے تمام صحابہ کی شان بلند کردی،
رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔
واقعۂ حدیبیہ میں شریک گروہِ صحابہ کا رتبہ و مقام
واقعۂ حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ و صحابیات کی کل تعداد ایک ہزار چار سو سے متجاوز تھی، ان حضرات کی توصیف میں قرآن کا نرالا اسلوب قابل رشک ہے:
لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا. [ سورۂ فتح/١٨]
اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے زندگی و موت کا سودا کررہے تھے، ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا، اس لئے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی۔
فتح مکہ کے بعد مشرف بہ اسلام ہونے والوں کی خصوصیات
قرآن کا ارشاد ہے:
لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ.
سورۂ حدید/١٠
اس آیت کی تفسیر میں امام طبری فرماتے ہیں:
وہ تمام صحابہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل یا اس کے بعد اپنا مال قربان کیا یا اپنی جان نچھاور کی، ان تمام کے لئے جنت کا وعدہ ہے، اس لئے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مال لٹایا، اس کے دشمنوں سے محاذ آرا ہوئے۔
اس آیت کی جو تفسیر ہم کر رہے ہیں، دیگر مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے، (امام طبری نے ان مفسرین کے اقوال بھی نقل کئے ہیں)
عہد نبوی میں نفاق
آپ ﷺ کے ارد گرد تین قسم کے افراد تھے، اہل اسلام ، کفار، منافقین، ان تینوں کا مفصل تذکرہ قرآن میں موجود ہے، اور ان کی خلصتیں اور علامتیں بھی اسی طرح نمایاں کی گئی ہیں۔
عرب کے بادیہ نشینوں کا نفاق
نفاق کی خصلت بد میں مبتلا زیادہ تر وہ عرب بادیہ نشیں تھے جنہوں نے کسی مفاد اور طمع کا شکار ہوکر اسلام کا نقاب اوڑھا تھا، ظاہر میں ہمنوائی پیش کرتے تھے، مگر ان کے دل ایمان سے بے بہرہ تھے، جس کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے :
ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ.
سورۂ توبہ/٩٧
یہ بدو عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں، اور ان سے یہ ہی توقع ہے ان حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے نبی پر نازل کیا ہے۔
مدینے میں نفاق
عبد اللہ ابن ابی ابن سلول مدینے کے قبیلۂ خزرج کا سردار تھا، اور پورے مدینے کے سردار کے بطور اس کا انتخاب ہوا ہی چاہتا تھا کہ آپ ﷺ نے ہجرت فرماکر مدینہ کو رونق بخشی، آپ ﷺ کی ہجرت سے اس کے سردار بننے کا خواب خاک میں مل گیا، جس کے رد عمل کے طور پر اس نے دل ہی دل میں دشمنی ٹھان لی،
اور اس عداوت کی تسکین کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا، اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی اس کے ہمدم و ہمنوا بن گئے جو اسی قماش کے تھے، اور ایمان سے بھی بے بہرہ تھے، جن کی نشاندہی قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے:
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ.
سورۂ توبہ/١٠١
تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں، ان میں بہت سے منافق ہیں، اور مدینے کے باشندوں میں بھی ایسے منافق موجود ہیں، جو اپنے نفاق میں بہت ڈھیٹ ہیں، ان کو آپ نہیں ہم جانتے ہیں، جلد ہی وہ دوہری سزا میں مبتلا ہوں گے، اور پھر انہیں اس سے بھی بڑے عذاب کا سامنا ہوگا۔
کیا سارے منافقین کا خاتمہ نفاق ہی پر ہوا ؟
روافض اور ان کے حاشیہ برداروں نے یہ شر بھی پھیلایا کہ مدینے میں منافقین کی تعداد اتنی بڑھ گئی تھی کہ شہر کی ہر گلی اور ہر کونہ ان سے آباد تھا، بلکہ ان کی ایک جماعت تو اس حد تک افترا پردازی کی جرأت کر بیٹھی اور یہاں تک کہہ دیا کہ چھ افراد کے علاوہ باقی سب منافق تھے، اور صرف انہی کو ایمان پر خاتمہ نصیب ہوا۔
اس کھلے جھوٹ بولنے والوں کو اللّٰہ سمجھے، زبان درازی اور گستاخی کی انتہا کردی!
اللہ کی کتاب پڑھنے اور تاریخ کی شد بدھ رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاعمر دین کی دعوت جاری رکھی، اللّٰہ کی رضا کی امید میں بھرپور صبر کا مظاہرہ فرمایا، یہاں تک کہ ایک اچھی خاصی تعداد ایمان سے سرفراز ہوئی، ان کے دلوں کو کفر و نفاق سے اور نفس کو آلائش زندگی سے پاک کیا، جن کی تعداد آپ کے تا حین حیات روز افزوں رہی، اور دوسری طرف آپ کی صحبت اور تربیت کے طفیل کمزور ایمان والوں کے ایمان و یقین میں بھی ترقی ہوئی، قرآن میں جس طرف واضح اشارہ بھی موجود ہے:
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ.
سورۂ حجرات /١٤
عرب کے بدووں نے کہا کہ ہم بھی اہل ایمان ہیں، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اب تک ایمان سے سرفراز نہیں ہوسکے ہو، البتہ دین اسلام آپ نے قبول کرلیا ہے، ایمان اب تک آپ کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکا ہے، ہاں اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری پر قائم رہوگے تو تمہارے اعمال کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی! اللّٰہ بہت بخشنے والا اور خوب مہربان ہے۔
اس آیت میں "لما" سے جملے کو منفی بنایا گیا ہے، اور لما کی نفی سے متکلم کے کلام کے وقت تک کی نفی ہوتی ہے، اور ساتھ ہی مابعد زمانے میں اس کے مثبت ہونے کی توقع بھی باقی رہتی ہے، لہذا آیت ھذا میں آیت کے زمانۂ نزول تک کی نفی ہے، مگر نزول کے بعد کے زمانے میں اثبات کی توقع بھی باقی ہے، اور اس نفی کو اثبات سے بدلنے کا حل بھی "وإن تطیعوا اللہ و رسولہ" کہہ کر پیش کیا گیا، اور "إن اللہ غفور رحيم" کہہ کر اس امید کو مزید تقویت بخشی گئی۔
لہذا سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اکثر منافقین تائب ہوگئے، اور ان کے ایمان میں پختگی بھی آئی، اسی طرح عام کمزور درجے کے مسلمان بھی ایمان کی شان سے آشنا ہوئے۔ اور آگے چل کر دعوت دین اور میدان جہاد کا سرمایہ ثابت ہوئے، وہیں دوسری طرف صورت حال یہ رہی کہ مکہ کی فتح اور عبد اللہ ابن ابی کی موت نے منافقین کو بے زور کردیا، جس کے نتیجے میں نفاق کی خصلت بد کے داغداروں کی تعداد گھٹ کر بیس سے بھی کم ہوگئی، اور ان کے علاوہ ایمان کا نور بدو عرب کے دلوں کو بھی منور کرنے لگا، جس جماعت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عراق و شام کی محاذ آرائی کے لئے استعمال کیا۔
اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ تعداد بہت مختصر تھی جن کا خاتمہ نفاق پر ہوا، جن میں ابن جرموز کا نام سرِ فہرست ہے جو حضرت عبد اللہ ابن زبیر سے بر سرِ پیکار ہوا تھا۔
منافقین کی نشاندہی کے لئے سرکردہ صحابہ کی بجائے صرف حضرت حذیفہ کیوں مخصوص ہوئے ؟
آپ ﷺ نے حضرت حذیفہ سے راز دارانہ طور پر منافقین کی تشخیص کی تھی، اور ان کے نام بتائے تھے، اسی طرح امت میں پیش آنے والے فتنوں سے متعلق احادیث بھی انہی سے مروی ہیں، حضرات شیخین امام بخاری و مسلم نے حضرت حذیفہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے: عن حذيفة - رضي الله عنه - قال: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ مَقَامًا، ما تَرَكَ شيئًا يَكونُ في مَقَامِهِ ذلكَ إلى قِيَامِ السَّاعَةِ، إلَّا حَدَّثَ به، حَفِظَهُ مَن حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَن نَسِيَهُ، قدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وإنَّه لَيَكونُ منه الشَّيْءُ قدْ نَسِيتُهُ فأرَاهُ فأذْكُرُهُ، كما يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إذَا غَابَ عنْه، ثُمَّ إذَا رَآهُ عَرَفَهُ.
آپ ﷺ نے ایک دن ہم سے خطاب فرمایا، جس خطاب میں اس خطاب کے بعد سے قیامت تک پیش آنے والے تمام اہم واقعات کا ذکر فرمایا، کچھ لوگوں کو وہ باتیں یاد رہیں، اور کچھ لوگ یاد نہ رکھ سکے، میرے ساتھی اس خطاب سے خوب واقف ہیں، ان میں سے کچھ باتیں میں یاد نہ رکھ سکا، مگر وہ واقعہ پیش آنے پر یاد آجائیں گی، جیسا کہ موجود نہ ہونے پر کسی شخص کی شکل یاد نہیں رہتی، مگر اس بندے کو دیکھتے ہی انسان پہچان لیتا ہے.
حضرت عمر حضرت حذیفہ سے اصرار کے ساتھ یہ پوچھتے کہ کہیں میرا نام منافقوں کی فہرست میں تو نہیں ہے؟ حضرت حذیفہ جب نفی میں جواب دیتے تو اطمینان ہوتا، مگر ساتھ یہ بھی فرماتے کہ آپ کے علاوہ دوسرے شخص کا نفاق سے بے داغ ہونا بھی بہت مشکل معاملہ ہے۔
کسی کی وفات پر حضرت عمر دریافت کرتے کہ حذیفہ جنازے میں شرکت کررہے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ شریک ہوتے تو حضرت عمر بھی شریک ہوتے.
اس تفصیل سے کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ خلفاء راشدین کو آپ ﷺ نے ان منافقین کے نام کیوں نہیں بتائے؟ ابوبکر و عمر کو چھوڑ کر حضرت حذیفہ کو یہ امتیاز کیوں بخشا گیا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللّٰہ نے اسباب کی دنیا میں اصل بنیاد ظاہر کو بنایا ہے، لہذا اپنے کسی نبی یا کسے بندے سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ کسی کے دل کا بھید معلوم کرے، یہ غیب کی باتیں ہیں جو صرف اسی کی ذات جانتی ہے، اور وہی اپنے بندوں کا روز قیامت محاسب بھی ہے، اور اسی دن دل کے راز ظاہر کئے جائیں گے، اسی لئے آپ ﷺ اور آپ کے خلفاء ظاہر کے مطابق فیصلے فرماتے تھے، اور غیب کو ظاہر نہ کرنے کی ایک بہت بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ کسی کے باطنی حالات سے واقفیت کہیں انصاف پر قائم رہنے میں رکاوٹ نہ بنے، اور کسی ایسے گمان میں مبتلا ہونے سے محفوظ بھی رہیں جو انسان کو گنہگار بناتا ہے، بلکہ کسی کے باطنی احوال کی کھوج کرید تو شریعت میں ممنوع قرار دی گئی ہے، حضرات شیخین نے اپنی کتابوں میں حضرت اسامہ ابن زید سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے قبیلۂ جہینہ کی شاخ حرقہ کی مہم پر ہمیں روانہ فرمایا، ہم نے اس قوم پر علی الصباح دھاوا بول دیا اور انہیں شکست ہوئی، اسی دوران میرا اور ایک انصاری ساتھی کا اس قبیلے کے ایک شخص سے سامنا ہوا، جب ہم اس پر حاوی ہوئے تو اس نے جھٹ زبان سے لا الہ الا اللہ کے الفاظ دہرائے، انصاری ساتھی نے تو ہاتھ روک لیا، مگر میں نے اپنے نیزے سے اس پر وار کر دیا، اور اس کا کام تمام ہوگیا، واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خفگی کے ساتھ دریافت فرمایا : اسامہ! کلمہ پڑھنے کے بعد بھی تم نے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ کا سہارا لے رہا تھا، اس جواب کے باوجود آپ ﷺ بار بار یہ سوال دہراتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا!
غیب کی باتوں کا معاملہ یہ ہے کہ اللّٰہ اپنے بندوں کو از راہِ رحمت غیب کی باتوں سے آگاہ کرتا ہے، اور اس لئے بھی تاکہ اس حق کی نصرت ہوسکے جس کی تبلیغ کا فریضہ ان کو سونپا گیا ہے۔
لہذا اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں سے آگاہ فرمایا، اور ان منافقین کے نام سے بھی مطلع کیا، جن کی طبیعت میں یہ بد خصلت رچی بسی ہوئی تھی، جن کی تعداد بیس سے بھی کم تھی، اسی طرح عمومی مصلحت کا لحاظ کرتے ہوئے بھی عام صحابہ سے یہ بات مخفی رکھی گئی، اور صرف ایک صحابی کو رازدارنہ طور پر واقف رکھا گیا تاکہ بوقت ضرورت اہل اسلام اس سلسلے کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
اس قسم کی بحث سے لازمی گریز کی ضرورت
سطور بالا سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ منافقین کی تشخیص اور ان کے نام سے واقفیت اور باطنی احوال سے باخبر ہونا مسلمانوں کی ضرورت سے خارج معاملہ ہے، اسی لئے بعض خلفاء سے روایت ہے کہ ہم ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں گے، اور باطنی احوال اللّٰہ کے سپرد ہیں، ابن عبد البر اپنی کتاب "التمہید" میں تحریر کرتے ہیں کہ: "دنیا میں فیصلے ظاہر کی بنیاد پر ہوں گے، اور باطن کا حال اللہ کے سپرد ہے"
امام بخاری نے اپنی جامع میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے کہ : آپ ﷺ کے زمانے میں ان کی گرفت تو وحی کی بنیاد پر ہوجاتی تھی، اور اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوا، ہم ان کے متعلق ظاہر کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں گے، اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت منقول ہے :
"مجھے لوگوں کے دل چیر کر حالات معلوم کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا"
اسی طرح علامہ شوکانی ذکر کرتے ہیں :کہ یہ حدیث بھی اس قبیل کی ہے، "إنما نحکم بالظاہر" ہم ظاہر کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے کے مکلف ہیں، یہ حدیث گرچہ بہت مضبوط سند سے ثابت نہیں ہے، مگر دیگر ایسی شاہد روایات منقول ہیں جن کی صحت پر کسی کا اختلاف نہیں، اور ظاہر کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے کی سب سے معتبر دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان منافقین ساتھ ظاہر کو بنیاد بنا کر ہی معاملہ اور برتاؤ فرمایا!
نیل الأوطار٣٦٩/١
٢١/٠٧/٢٠٢١