Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

دو اہم موضوعات “علامہ حمید الدین فراہی “ اور

دو اہم موضوعات “علامہ حمید الدین فراہی “ اور

دو اہم موضوعات “علامہ حمید الدین فراہی “ اور "الوفا باسماء النساء " پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کا لکچر

رپورٹ : محمد شاہد خان ندوی

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب 12 اپریل 2023 کو دوحہ قطر تشریف لائے اور 27 اپریل 2023 کو برطانیہ واپس لوٹ گئے ، اس دوران علمی مصروفیات کے ساتھ ان کی ملاقاتیں قطر کی کئی اہم علمی وادبی شخصیات سے ہوئیں ، کئی پروگرامز بھی ہوئے ، شڈول بڑا بزی رہا ، اہل قطر نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان سے بھرپور استفادے کی کوشش کی ۔

ڈاکٹر محمد اکرم صاحب ایک ادیب محدث محقق مترجم تذکرہ نویس اور سوانح نگار ہیں ، انھیں بیک وقت چار زبانوں پر قدرت حاصل ہے ، مزاج خالص ادبی ہے ان کی عربی کتاب " من علمني " جو ان کے ندوہ کے اساتذہ کے تذکرے پر مشتمل ہے اس دعوی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے لیکن ان کا موضوع اختصاص علم حدیث ہے ، اسوقت صحیح مسلم کی شرح لکھنے میں مصروف ہیں جو امید ہے کہ اگلے سال تک زیور طبع سے آراستہ ہوجائے گی ۔

26 اپریل کی شام عربی کے ایک یو ٹیوب چینل نے اپنے ایک معروف پروگرام “ اسمار وافكار " لیے ان کے دو پروگرام ریکارڈ کیے اس چینل کے فالورس کی تعداد اچھی خاصی ہے اس پروگرام کے تحت اب تک تقریبا 170 پروگرامز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں ، اس دن چینل کے ذمہ داران نے خلاف عادت دو پروگرام ریکارڈ کر ڈالے ۔

پہلا پروگرام علامہ حمیدالدین فراہی پر تھا ، علامہ حمیدالدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھی وہ اپنے دور کے ابن تیمیہ تھے ان کی حیثیت ترجمان القرآن کی تھی وہ ایک ممتاز مفسر قرآن کے علاوہ دین اسلام کی تعبیر جدید کے بانی تصور کیے جاتے ہیں انھوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کریم کے غور وخوض میں صرف کردی اور قرآن کریم کے تعلق سے کئی اہم کتابیں تصنیف کیں ، ان کی زیادہ تر تصنیفات عربی زبان میں ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں الرأي الصحيح فيمن هو الذبيح ، نظام القرآن ، اسالیب القرآن ، المفردات فی القرآن ، إمعان في اقسام القرآن ، اقسام القرآن ، حكمة القرآن ، جمهرة البلاغة وغیرہ ان بلند پایہ تصنیفات ہیں ، علامہ شبلی ان کے استاذ ہونے کے باوجود ان سے استفادہ کرتے تھے ان کے علامہ سید سلیمان ندوی مولانا عبدالماجد دریابادی وغیرہ ان کے خوشہ چیں تھے ان کے طلبہ کی فہرست بہت طویل ہے افسوس کہ عالم عربی ان کے نام اور کام سے بہت کم واقف ہے ، ان دنوں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب فکر فراہی کی ترویج واشاعت کے لیے کوشاں ہیں ، ڈاکٹر اکرم صاحب نے آدھے گھنٹے تک علامہ فراہی کی شخصیت اور ان کی تصنیفات وتحقیقات پر بڑا اہم جامع اور پر مغز لکچر دیا ، جو عرب اس پروگرام میں شریک تھے وہ انگشت بدنداں تھے انھوں نے بڑی حیرت اور دلچسپی کے ساتھ پورے پروگرام کو سنا اور اس کے بعد سوالات وجوابات کا سلسلہ شروع ہوا یہ پروگرام مغرب اور عشاء کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ۔

دوسرا پروگرام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی نہایت اہم تصنیف " الوفا باسماء النساء " پر ریکارڈ کیا گیا ، یہ کتاب تینتالیس جلدوں پر مشتمل ہے اس کتاب کی تصنیف میں تقریبا پندرہ سال صرف ہوئے ، مغرب یہ سمجھتا تھا کہ تمام مذاہب کے ساتھ اسلام نے بھی عورتوں پر ظلم کیا ہے اور وہ اس بات کا ڈھنڈھورا زور زور سے پیٹتا تھا ، ایک مستشرق نے ایک دفعہ ایک انگریزی اخبار میں لکھا کہ اسلام کی تاریخ میں 5 خواتین کے نام بھی پیش نہیں کئے جاسکتے جو عالمات ہوں ، یہی واقعہ اس کتاب کی تصنیف کا محرک بنا۔ یہ کارنامہ انھوں نے اپنی ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر پندرہ سال کی انتھک جدوجہد کے ساتھ پورا کیا ، ڈاکٹر صاحب نے جب تحقیق شروع کی تو یہ تعداد دس ہزار تک پہونچ گئی ، یہ کتاب ایک انسائیکلو پیڈیا ہے اس کتاب کا مقدمہ انگریزی زبان میں شائع ہوکر مقبول خاص وعام ہو چکا ہے اس کتاب کا اثر یہ ہوا کہ برطانیہ سے چھپنے والے ایک انسائیکلوپیڈیا میں جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ تمام مذاہب نے اپنی عورتوں پر ظلم کیا ہے ، اس نے اپنے نئے ایڈیشن میں ترمیم کردی ہے اور اب لکھا ہے کہ تمام مذاہب نے اپنی عورتوں پر ظلم کیا ہے سوائے مذہب اسلام کے ، یہ بات آکسفورڈ کے ایک نئے ریسرچ سے سامنے آئی ہے ۔

ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کا بھرپور تعارف کروایا کچھ اہم محدثات کے نام اور کام گنوائے اس کتاب کے طریقہ تصنیف وغیرہ پر روشنی ڈالی ، آدھے گھنٹے کا لکچر تھا اس کے بعد سوالات وجوات کا وقفہ تھا یہ پروگرام عشاء کی نماز کے بعد ریکارڈ کیا گیا ۔

اس پروگرام کے حوالے سے ان کی ملاقات دو اہم شخصیات سے ہوئی ، پہلی شخصیت ڈاکٹر محمد حامد الاحمری کی ہے جنھوں شمال افریقہ کی تاریخ پر ڈاکٹریٹ کیا ہے وہ قطر کی ایک متحرک اور فعال علمی شخصیت ہے الجزیرہ وغیرہ پر وہ بطور مہمان بلائے جاتے ہیں ، ڈاکٹر اکرم صاحب کی شخصیت سے وہ بہت متأثر ہوئے انھوں نے فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ عربی زبان پر آپ کو اسقدر قدرت حاصل ہو گی ۔

دوسری ملاقات استاذ سعد راشد المہندی سے ہوئی جو ایک فاضل اور بیدار مغز نوجوان ہیں انھوں نے Carnegie Mellon University سے ماسٹر کیا ہے بہت باحمیت نوجوان ہیں اور الدفاع عن الاسلام کے لیے کوشاں رہتے ہیں وہ ڈاکٹر اکرم صاحب کی شخصیت سے بہت متأثر ہوئے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور ہدیہ بھی پیش کیا ۔

مولانا رحمت اللہ ندوی ( جو اس پروگرام کے اصل محرک تھے ) ڈاکٹر عادل یمنی ندوی ، محمد عطاء اللہ ندوی ، ڈاکٹر محمد نعمت اللہ کے علاوہ راقم السطور بھی ان دونوں پروگرامز اور ملاقاتوں کا شاہد تھا ۔