
قطر میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے بدست محمد فاروق آسامی ندوی کی کتاب کی رسم اجراء
رپورٹ : محمد شاہد خان ندوی
ہمارے اطراف میں علم وعرفان ، معرفت ذات وکائنات کی جو روشنی پھیلی ہوئی ہے اس کا بھی ایک شجرۂ نسب ہے وہ ازمنہ قدیمہ سے نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آرہی ہے ، علم کی نمود اس کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی ، نسل انسانی کا ارتقاء دراصل علم کے ارتقاء سے وابستہ رہا ہے۔ چونکہ چراغ سے ہی چراغ جلتے ہیں اس لیے نئے چراغوں کی روشنی پرانے چراغوں کی مرہون منت ہے ، جیسے جیسے علم نے ترقی کی ویسے ویسے انسانوں نے بھی ترقی کی ، موجودہ دور میں مختلف علوم اور سائنس وٹکنالوجی کی جو چکاچوند ہمیں نظر آتی ہے وہ چشم زدن میں وجود پذیر نہیں ہوگئی ہے بلکہ اس کی پشت پر نسل در نسل صدیوں کی محنت ہے۔
اسی طرح دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں وہ یکایک یا از خود بڑے نہیں ہوگئے بلکہ ان کی عظمت کے پیچھے صدیوں کا علمی ورثہ اور ان کے اساتذہ کی شبانہ روز محنتیں شامل ہیں۔
اسوقت ہندستان کے شہر رانچی اور اس کے اطراف میں علم دین کی جو روشنی پھیلی ہوئی ہے اس کے فروغ میں مولوی شیخ عباس رحمۃ اللہ علیہ کی شب وروز کی محنت اور انتھک جدوجہد شامل ہے۔ محمد فاروق آسامی ندوی جنھیں داستان گوئی میں کمال حاصل ہے اور جو ایک جید حافظ اور عالم دین بھی ہیں ان کا علمی سفر دراصل مولوی شیخ محمد عباس رحمۃ اللہ علیہ کی محنتوں کا ثمرہ ہے، خود ان کے والد الحاج دلاور حسین صاحب کی تعلیم وتربیت بھی شیخ محمد عباس رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ ہوئی ہے۔
اللہ اللہ کیسے کیسے لوگ تھے، دین کی راہ میں چلتے چلتے جن کے پاؤں میں چھالے پڑجاتے تھے لیکن وہ کبھی تھکتے نہیں تھے، عوام الناس کا جہل اور دین سے دوری انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی، مولوی شیخ عباس رحمۃ اللہ علیہ سلف صالحین کی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے دین اسلام کی نشرو اشاعت میں اپنی پوری زندگی کھپا دی، یقینا اللہ کے دفتر میں ان کا نام خدام دین کی فہرست میں نمایاں طور پر درج ہوگا، لیکن اردو دنیا ا ن کے نام سے واقف نہیں ہے، محمد فاروق آسامی ندوی صاحب نے ان کے حالات زندگی پر "مولوی شیخ عباس رحمۃ اللہ علیہ اور علماء رانچی کی علمی خدمات“ کے نام سے ایک مبسوط کتاب لکھ کر بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، روشنی کے ان مناروں سے واقفیت کی ہمیں شدید ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے روشنی حاصل کرسکیں۔
اس کتاب پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کا وقیع مقدمہ موجود ہے، کتاب میں مولوی شیخ عباس کے حالات زندگی کے علاوہ رانچی اور اس کے مضافات میں واقع بہت سے دینی مدارس وجامعات کا تعارف بھی شامل ہے جو مولوی شیخ عباس رحمۃ اللہ علیہ کی محنتوں کا ثمر ہیں۔
مذکورہ کتاب کی رسم اجرا کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ رمضان کا آخری عشرہ ہو، آخری عشرہ کا آخری دن ہو اور آخری دن کے آخری لمحات ہوں، ہر طرف تجلیات ربانی کا ظہور ہو، ایسے میں ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب بھی موجود ہوں اور ان کے دست مبارک سے محمد فاروق آسامی ندوی صاحب کی کتاب کا اجراء عمل میں آئے ۔۔۔۔سبحان اللہ ۔۔۔نور علی نور ۔
20 اپریل کی شام افطار کے بعد سلوی روڈ پر واقع زیتون ریسٹورنٹ میں ایک باوقار نشست کا انعقاد ہوا جس میں صدارت کے فرائض مولانا عبدالحئی ندوی صاحب نے انجام دیے جب کہ مہمان خصوصی کی نشست پر ڈاکٹر محمد اکرم صاحب جلوہ افروز تھے، بطور مہمان اعزازی خود صاحب کتاب جناب محمد فاروق آسامی ندوی موجود تھے، نظامت کی ذمہ داری راقم السطور کے سپرد تھی، تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا بابرکت آغاز ہوا، حافظ محمد شعیب ندوی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی اس کے بعد محمد فاروق آسامی ندوی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے علمی سفر کی داستان سنائی، اپنے ساتھ پیش آنے والے بعض اساتذہ کے جبرو تشدد کے واقعات بھی بیان کیے، مولوی شیخ محمد عباس رحمۃ اللہ علیہ کے فضل واحسانات کو شمار کرایا، اس کے بعد مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد اکرم صاحب نے مصنف سے اپنے ذاتی محبت وتعلق کا اظہار کیا اور بتایا کہ فاروق بھائی کو میں ندوہ میں نہیں جانتا تھا میری ان سے واقفیت ان کے کام سے ہوئی ہے ، پہلی مرتبہ جب میں نے ان کی کہانی پڑھی تو لگا کہ یہ شخصیت بڑی پیاری ہے، یعنی تحریر بھی پیاری تھی اور شخصیت تو پیاری تھی ہی، وہیں سے فاروق بھائی سے تعلق ہوگیا دوسری بات یہ ہے کہ کلیات کا علم تو اکثر لوگوں کو ہوتا ہے لیکن جزئیات کا علم سب کو نہیں ہوتا فاروق بھائی کو جزئیات نگاری میں کمال حاصل ہے اچھا سوانح نگار وہی ہوتا ہے جس کی کلیات کے ساتھ جزئیات پر بھی نگاہ ہو ، قرآن کریم کتاب ہدایت ہے لیکن اس میں قصوں کہانیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کے قصےکو لے لیجئے، اس قصہ کے کلیہ کا ذکر سب سے آخیر میں آیا ہے “إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِين}[يوسف: 90]. اس کلیہ کی بنیاد جزئیات پر ہے، اگر قرآن صرف کلیات کو بیان کرے اور جزئیات کو چھوڑ دے تو قرآن سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوجائے گی، مولانا شہباز صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ علیہ بہترین متکلم ہیں اور مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ بہترین سوانح نگار ، کیونکہ ان کی نگاہ ان جزئیات پر رہتی ہے جن سے سبق لیا جائے اور جن پر عام لوگوں کی نگاہ نہیں پڑتی، یہ ایک ہنر ہے جو فاروق بھائی کے اندر بھی موجود ہے، ان کا یہ کمال ہے کہ وہ ایک داستان گو کی طرح قصہ در قصہ کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے جزئیات نگاری کرتے ہیں اور کمال کا لکھتے ہیں ، فاروق صاحب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک نیک انسان ہیں اور ان کی تحریروں میں ان کی طبیعت کا عکس نظر آتا ہے ، ہمیں امید ہے کہ وہ ندوہ کی آئندہ نسل کے معلم ہوں گے ۔
صدر پروگرام مولانا عبدالحئی ندوی صاحب نے بڑے ظریفانہ انداز میں فاروق بھائی کی ذہانت کی داد دی انھوں نے فرمایا کہ ان کے ایک ساتھی تھے جو چار سال میں ایک کلاس پاس کرتے تھے لیکن فاروق بھائی نے واقعی کمال کردیا کہ انھوں نے ایک سال میں تین کلاس پاس کیے۔
اس کے بعد ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی صاحب نے اجتماعی دعا کرائی اور اسی کے ساتھ مجلس کے اختتام کا اعلان ہوا۔