
قطر میں ابناء ندوہ کی تعزیتی نشست
رپورٹ : ڈاکٹر نشاط احمد صدیقی ندوی
استاذ الاساتذہ، ناظم ندوۃ العلماء، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی وفات حقیقی معنوں میں ایک عہد کا خاتمہ ہے، ان کی پوری زندگی علم اور دین کی خدمت میں گزری، ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پر نہیں ہو سکے گا۔
غم کے اس موقع پر دوحہ قطر میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام جناب محمد شاہد خان ندوی نے اپنی رہائش گاہ پر کیا، قطر کے مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی رات تقریبا دس بجے اس نشست کا انعقاد ہوا جس میں قطر میں مقیم ابناء ندوہ کے ساتھ ساتھ دیگر مدارس کے فارغین اور فضلا کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہوئی، حسن اتفاق سے ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب (آکسفورڈ) ان دنوں قطر کے سفر پہ ہیں، ہماری درخواست پر انہوں نے اس نشست میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت فرمائی، جبکہ ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان جناب مولانا رحمت اللہ اثری صاحب نے نشست کی صدارت فرمائی، نظامت کے فرائض جناب حسیب الرحمن ندوی صاحب نے ادا کئے اور نشست کا بابرکت آغاز جناب محمد فاروق آسامی ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
تلاوت کے فورا بعد جناب حسیب الرحمن ندوی صاحب نے حضرت مولانا کی زندگی کے تعلق سے اپنے تأثرات و مشاہدات کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں حضرت مولانا علی میاں صاحب رحمہ اللہ کی سیرت پر حضرت مولانا رابع حسنی رحمہ اللہ کی لکھی کتاب (حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی؛ ایک تاریخ ساز شخصیت: تجربات ومشاہدات کی روشنی میں) کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جو مراکش سے چھپی اور مولانا نے اس پر اپنی مسرت کا اظہار فرمایا اور ساتھ ہی ندوے کے مہمان خانے کی سادگی اور حضرت مولانا رابع ندوی صاحب رحمہ اللہ کی زندگی میں زہد اور تقوی پر بھی روشنی ڈالی۔۔۔۔اس کے بعد جناب مولانا عطاء الرحمن صدیقی ندوی صاحب نے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے تھے، ندوۃ العلماء ہو، مسلم پرسنل لا بورڈ کا پلیٹ فارم ہو، یا ملت کے دیگر مسائل و معاملات ہوں ان میں آپ نے امت کو جو حکیمانہ قیادت اور رہنمائی فراہم کی اس کی ایک بڑی وجہ آپ کی یہ خداداد صلاحیت تھی، آپ لوگوں سے بہت کم اختلاف کا اظہار کرتے تھے اور حتی الامکان متفق علیہ موقف اپنانے کی کوشش کرتے تھے، تقریبا بائیس سالوں پر محیط آپ کے دور نظامت میں ندوۃ العلماء میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا، نہ انتظامی سطح پر، نہ تعلیم و تدریس کی سطح پر، نہ شوری کی سطح پر اور نہ ہی اجتماعی سطح پر، اگر کوئی مسئلہ پیدا بھی ہوا تو آپ نے نہایت تحمل، بردباری اور خاموشی سے اسے حل کیا۔ آپ کی اسی خوبی کی وجہ سے امت کے تمام مکاتب فکر کی تائید و حمایت بھی آپ کو حاصل رہی، کسی شخص کی ذات پر امت کے سواد اعظم کا ایسا اعتماد عند اللہ مقبولیت کی علامت بھی ہے، حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ جب اللہ کسی بندہ کو پسند فرماتا ہے تو اسکی محبت خلق کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔
جناب مولانا عطاء الرحمن صاحب کی گفتگو کے بعد ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا داخلہ ندوہ میں سن 1978 میں ہوا تھا، اس وقت بھی مولانا کا شمار ندوہ کے چوٹی کے اساتذہ میں ہوتا تھا، اس وقت سے لے کر آج کی تاریخ تک چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس طویل مدت میں آپ کی شخصیت کا کتنا ارتقا ہوا ہوگا، علم و فکر، تعلیم و تدریس، انتظام و انصرام اور قیادت و رہنمائی کے حوالہ سے آپ نے کیا کچھ سیکھا اور سکھایا ہوگا، آپ ہمیشہ سے ندوہ کے انتظامی معاملات میں بھی دخیل رہے ہیں، لیکن طلبہ آپ سے درس لینے کے متمنی رہا کرتے تھے۔ آپ کے درس کی بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ کتاب حل کرانے کے بجائے فن کی تفہیم پر توجہ دیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر ندوی صاحب نے مزید فرمایا کہ مولانا علیہ الرحمہ کی شخصیت کا ایک اور نمایاں وصف اعتدال، توسط اور جامعیت ہے، اس سلسلہ میں مولانا ندوہ کے اعلان شدہ موقف کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھے، اسی وجہ سے امت کے تمام مکاتب فکر کا مولانا کی شخصیت پر اعتماد قائم رہا، اور ندوہ کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی اداروں کی قیادت و سربراہی بھی آپ کے حصہ میں آئی۔ ڈاکٹر ندوی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مولانا علیہ الرحمہ سے پوچھا بھی کہ ندوہ کا جو مسلک ہے وہ اعتدال، جامعیت اور توسط کا مسلک ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ اس کو ماننے اور اپنانے والے کم ہیں اور افراط و تفریط والے لوگ ہی زیادہ ہیں، مولانا نے اس کے جواب میں بہت اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا، فرمایا کہ افراط و تفریط پر مبنی موقف اپنانا آسان ہے، کیونکہ اس میں انسان کسی ایک طرف ہو جاتا ہے جبکہ اعتدال اور توسط والے موقف پر قائم رہنا مشکل ہوتا ہے، اس میں ہر وقت یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی بھی معاملہ میں نہ افراط ہو اور نہ تفریط، یہ ایک مشکل راستہ ہے اسی لیے اسے اپنانے اور اس پر چلنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ندوی صاحب کے بقول مولانا علیہ الرحمہ کا ایک اور امتیازی وصف ان کی دور اندیشی اور حکمت ہے، وہ کوئی فیصلہ کرتے وقت یا رائے دیتے وقت بہت غور و خوض اور فکر و تدبر سے کام لیتے تھے، اسی وجہ سے شاذ و نادر ہی انہیں اپنے کسی فیصلہ پر پشیمان ہونا پڑا ہوگا۔ بادی النظر میں یا عام لوگوں کو بسا اوقات ان کے فیصلے سمجھ میں نہیں آتے تھے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد وہی فیصلے درست ثابت ہوتے تھے۔ مولانا چونکہ ندوہ کے انتظامی معاملات میں بھی مشغول رہتے تھے اس لئے کلاس میں ذرا تاخیر سے پہونچتے تھے، ہم طلبہ پانچ دس منٹ انتظار کرتے اور پھر کینٹین کا رخ کر لیتے، مولانا ہم لوگوں کو بلواتے اور پھر درس شروع کرتے، ظاہر ہے اس طرح نصاب تو پورا ہونے سے رہا، سال کے آخر میں مولانا نے ہم لوگوں کو مہمان خانہ میں بلایا اور فرمایا کہ دیکھئے ہمارا جو نصاب مکمل نہیں ہو سکا تو اس میں کچھ قصور میرا ہے اور کچھ قصور آپ لوگوں کا بھی ہے لہذا اب ہمیں اضافی وقت دے کر نصاب پورا کرنا ہوگا۔ اس معاملہ میں اگرچہ مولانا کے پاس تاخیر کا معقول عذر موجود تھا جو ظاہر ہے کہ ہم طلبہ کے پاس نہیں تھا لیکن مولانا نے طلبہ کے ساتھ ساتھ خود کو بھی قصوروار ظاہر کرکے ہمارے احساس ندامت کو کم کرنے کی کوشش کی، یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہیں جو مولانا کی شرافت نفس کی دلیل بھی ہیں، ان کی تربیت کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالتے ہیں اور اجتماعیت کے تعلق سے ان کے موقف کی وضاحت بھی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی مبسوط اور تاثر میں ڈوبی ہوئی گفتگو کے بعد جناب مولانا رحمت اللہ اثری صاحب کے اختتامی کلمات اور دعا پر اس تعزیتی نشست کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب نے ہی مولانا علیہ الرحمہ کی غائبانہ نماز جنازہ کی امامت بھی فرمائی جس میں سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔