
"ادب مہجر"
)اپنے تہذیبی اور لسانی معاشروں سے دور، اجنبی سرزمینوں پر تخلیق پذیر شاعری -- مختصر جائزہ(
قلم کار: عتیق انظر (دوحہ - قطر)
جو کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں اس کا عنوان ہے 'ادب مہجر' ، اس کہانی کو منتخب کرنے کی ایک وجہ یہ بهی ہے کہ میں خود بهی اس کہانی کا ایک چهوٹا سا کردار ہوں، یوں تو یہ کہانی اسی لمحہ عالم وجود میں آ چکی تهی جس لمحہ خالق کائنات نے حضرت آدم علیہ السلام کو شجر ممنوعہ کا ذائقہ چکهنے کی پاداش میں جنت سے دنیا کی جانب ہجرت کا حکم دیا تها، اپنے گهر جنت سے بچهڑنے کے غم اور اس کی یاد میں، آدم کا آنسو بہانا اور ان آنسوؤں سے لفظوں کو سیراب کرنا "ادب مہجر" ہے.
مہجر مشتق ہے ہجر اور ہجرت سے، گویا "ادب مہجری" کا اطلاق عموما اس ادب پر ہوگا جو وطن مالوف سے دور اجنبی سرزمین پر تخلیق پزیر ہو، جس میں وطن سے محبت کانغمہ ہو، اس سے بچهڑنے کا ماتم ہو، وہاں کے پهول، پیڑ پودے، پرندے، ندی، آبشار، وادی، پہاڑ، موسم، کهیت کهلیان،احباب اور رشتہ دار وغیرہ سے بچهڑنے کے دکھ کا اظہار اور انهیں پانے اور ان سے ملنے کی حسرت کا بیان ہو، اسی طرح ہجرت اور مہجر یعنی مکان ہجرت کے مسائل، احساس غربت، نئے حالات اور نئے تقاضوں سے سمجهوتے کی دشواریاں، نئی کائنات کی راحتیں اور کلفتیں، وہاں کے سیاسی سماجی اور ثقافتی مسائل اور سرگرمیاں، اجنبی جگہ، نا آشنا لوگ اور غیر مانوس تہذیب سے تعامل کا اظہار بهی "ادب مہجر" میں شامل ہے.
ہجرت انسانی زندگی کا انتہائی الم ناک سانحہ ہے، ان مقامات سے جدا ہونا جہاں لڑکپن کے سہانے دن گزرے ہیں، ان مناظر سے بچهڑنا جن سے آنکهیں مانوس ہیں، ان ہواؤں اور فضاؤں سے محروم ہونا جن میں سانسوں کی گرمی اور دل کی دهڑکنیں ہیں، اپنی زمین، اپنے لوگ اور اپنی مٹی سے دور ہونا، اپنا گهر بار اور اپنا شہر چهوڑنا انتہائی دشوار عمل ہے، ہجرت کا لمحہ اتنا دل دوز ہوتا ہے کہ پتهر کا سینہ بهی شق ہو جائے، انتہائی سخت دل انسان بهی اپنے آنسوؤں کے طوفان پر قابو نہیں پاتا، پورے ماحول پر اداسی اور افسردگی کا مہیب سایہ ہوتا ہے، بقول ناصر کاظمی منظر کچھ یوں بنتا ہے:
ہمارے گهر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کهولے سو رہی ہے
وقت ہجرت قیامت سے کم نہیں ہوتا، غالب نے کہا:
جاتے ہوے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
اس حوالے سے انسانی تاریخ کی بعض اہم ہجرتوں کا ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہوگا:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی دوسری بیوی حضرت هاجرہ اور اپنے نومولود اسماعیل کے ساتھ سرزمین عرب کی جانب ہجرت کر رہے ہیں، تین نفوس کا یہ مختصر قافلہ کن دشوار گزار راستوں پر گام زن ہے، اس کی ایک جهلک حفیظ جالندهری کے "شاہنامہ اسلام" کے ان تین شعروں میں ملاحظہ فرمائیے:
چلا جاتا تها اس تپتے ہوے صحرا کے سینے پر
جہاں دیتا ہے انساں موت کو ترجیح جینے پر
وہ صحرا جس کا سینہ آتشیں کرنوں کی بستی ہے
وہ مٹی جو سدا پانی کی صورت کو ترستی ہے
وہ صحرا جس کی وسعت دیکهنے سے ہول آتا ہے
وہ نقشہ جس کی صورت سے فلک بهی کانپ جاتا ہے
ان اہم ہجرتوں میں رام جی کا بن باس بهی شامل ہے، اردو کے معروف شاعر چکبست نے رام جی کی ہجرت کے واقعے اور وقت ہجرت کے جذبات واحساسات کو انتہائی درد انگیز اور متاثر کن انداز میں نظمایا ہے، میں یہاں ان کی نظم کے صرف دو بند پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا، پہلے بند کا پس منظر ہے، رام جی اپنے پتا جی سے وداعی ملاقات کے بعد، اپنی مغموم والدہ کی خدمت میں، اجازت کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور والدہ یوں گویا ہوتی ہیں:
رو کر کہا خموش کهڑے کیوں ہو میری جاں
میں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاں
سب کو خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواں
لیکن میں اپنے منھ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاں
کس طرح بن میں آنکھ کے تارے کو بهیج دوں
جوگی بنا کے راج دلارے کو بهیج دوں
پهر رام جی اپنی ماتا جی کو اطمینان وتسلی دیتے ہوے کہتے ہیں:
اور آپ کو تو کچھ بهی نہیں رنج کا مقام
بعد سفر وطن میں ہم آئیں گے شاد کام
ہوتے ہیں بات کرنے میں چودہ برس تمام
قائم امید ہی سے ہے دنیا ہے جس کا نام
اور یوں کہیں بهی رنج وبلا سے مفر نہیں
کیا ہوگا دو گهڑی میں کسی کو خبر نہیں
اور اخیر میں ایک بیت:
اس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں
دامان دشت دامن مادر سے کم نہیں
اس باب میں، تقسیم ہند و پاک کے بعد اپنے خوابوں کے دیس پاکستان کی جانب ہندوستانی مسلمانوں کی ہجرت کے واقعات بھی ہیں جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس دل دہلا دینے والے حادثے میں نہ جانے کتنی عورتیں بیوہ اور کتنے بچے یتیم ہو گئے، کتنے خاندان بے گھر ہو گئے، ریل گاڑیوں کے ڈبے مہاجرین کی لاشوں سے بھرے ہوتے، ہر طرف آگ اور خون کی ہولی تھی، ہر طرف قیامت کا سماں تھا، اس ہجرت پر مہاجرین یا غیر مہاجرین نے جو شعر و ادب تخلیق کیا ہے وہ اردو ادب کا بہت جاندار حصہ ہے، اس لیے کہ اس میں تجربے کی سچائی، مشاہدے کی گہرائی، جذبات کی شدت اور اسلوب کی بے ساختگی ہے، اس حوالے سے ناصر کاظمی کے چند شعر ملاحظہ فرمائیے:
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
ذرا گھر سے نکل کر دیکھ ناصر
چمن میں کس قدر پتے جھڑے ہیں
انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں
رودادِ سفر نہ چھیڑ ناصر
پھر اشک نہ تھم سکیں گے میرے
دیتے ہیں سراغ فصل گل کا
شاخوں پر جلے ہوے بسیرے
یوں تو تاریخ کے سینے میں اور بہت سی ہجرتوں کے الم ناک سانحے محفوظ ہیں لیکن اخیر میں، یہاں صرف ایک اور ہجرت کا ذکر کرنا چاہوں گا، جہاں ہجرت کو مقدس فریضہ اور عبادت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے، اور وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت ہے، مکے سے مدینے کی جانب، حفیظ جالندھری کے کے چار مصرعوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مظلومیت کی تصویر ملاحظہ فرمائیے:
وہ جن پر ظلم کے، بے داد کے بادل برستے ہیں
وہ جو اپنے وطن میں سانس لینے کو ترستے ہیں
جو ناحق کے ستم سہتے ہیں اور مغموم رہتے ہیں
وطن کو چھوڑ کر بھی بے کس و مظلوم رہتے ہیں
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شب ہجرت کاہول ناک منظر ان تین ابیات میں دیکھیے:
جگا کر اپنے فتنے رات نے پھیلا دیے دامن
فضا پر لشکر ظلمات نے پھیلا دیے دامن
مسلط ہو گئیں خاموشیاں دنیائے ہستی پر
ستاروں کی نگاہیں جم گئیں مکے کی بستی پر
نہیں تھا دامن کعبہ پہ زم زم اشک جاری تھا
چٹانیں دم بخود تهیں وادیوں پر ہول طاری تها
مدینہ آکر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو اپنے وطن مکے کی یاد ستاتی ہے، جب ان کے دلی جذبات کا علم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا ہے تو آپ دعا فرماتے ہیں:
" اے اللہ جس طرح ہمیں مکہ پیارا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بهی زیادہ ہمارے لیے مدینہ کو محبوب بنا "
ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنها نے فرمایا:
"اگر ہجرت ناگزیر نہ ہوتی تو میں مکے ہی میں مقیم رہتی، میں نے کبهی بهی آسمان کو زمین سے اتنا قریب نہیں دیکها جتنا سرزمین مکہ سے، کسی شہر میں میرے دل کو وہ طمانیت حاصل نہ ہوئی جو طمانیت مکے میں نصیب ہوئی، اور چاند مجهے اتنا خوبصورت کہیں اور نظر نہیں آیا جتنا خوبصورت مکے میں نظر آیا".
ہجرت کے یہ چند واقعات اس ہجرت اور اس کے ادب کو پیش کرنے کے لیے بطور تمہید ذکر کیے گئے ہیں جو میری گفتگو کا موضوع ہے.دو عالمی جنگوں کی بهیانک تباہی کے بعد مغرب کی از سر نو تعمیر وآباد کاری کے لیے ایشیائی باشندوں کو ابتداءا مغرب لایا گیا، لیکن پهر خود ایشیائی باشندے اپنے خوابوں کو تعبیر دینے اور اپنے مستقبل کے خاکوں میں رنگ بهرنے کے لیے مغرب کی جانب ہجرت کرنے لگے. ہجرت کے مختلف اسباب میں دو سبب اہم اور بنیادی ہیں، ایک سیاسی جبر واستبداد اور دوسرا معاشی واقتصادی زبوں حالی، سیاسی جبر واستبداد کے نتیجے میں عام طور پر عربوں نے یورپ وامریکہ کی جانب ہجرت کی، خصوصا لبنانیوں اور فلسطینیوں نے، لیکن ایشیائی تارکین وطن نے امریکہ اور یورپ کی جانب عام طور پر بہتر ذرائع معاش کی خاطر ہجرت کی.
ہندو میتهالوجی میں وہ انسان بہت خوش نصیب تصور کیا جاتا ہے جس کی جنم بهومی، کرم بهومی اور مرن بهومی ایک ہو، یعنی انسان جس سرزمین پر پیدا ہو، اسی سے رزق حاصل کرے اور پهر اسی میں دفن ہو جائے، لیکن ہجرت انسان کی ضرورت بهی ہے اور اس کی مجبوری بهی، اس لیے ہر عہد میں ہجرت کا سلسلہ رہا اور انسان ہی کیا، کرب ہجرت، چرند وپرند بهی اٹهاتے ہیں، وہ بهی دربدری کے اندوہ ناک اور مشکل مرحلے سے گزرتے ہیں، نقل مکانی کرتے ہیں، پرندے تو خیر آزاد ہوتے ہیں، تلاش رزق میں ہجرت کرتے ہیں اور اکثر اپنے گهونسلوں کو واپس آ جاتے ہیں، لیکن ذرا تصور کی جیے، ان جانوروں پر کیا گزرتی ہوگی جو فروخت ہو کر اپنے نئے مالک کے ساتھ کہیں دور چلے جاتے ہیں، وہ بهی شاید انہی احساسات سے گزرتے ہیں، لیکن بے زبان جانور اور معصوم پرندے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے، اپنا دکھ کسی کو نہیں بتا سکتے، جب کہ انسان اپنے احساسات وجذبات کا حسین اظہار کرتا ہے، اپنے دکھ درد کو خوبصورت پیرائے میں بیان کرتا ہے، جو دل پر گزرتی ہے اسے دل کش انداز میں رقم کرتا ہے، یوں اپنے دل کا بوجھ بهی ہلکا کرتا ہے اور "پرورش لوح وقلم بهی".
اردو میں مہجری ادب کے نشانات اس کے ابتدائی دنوں سے موجود ہیں، لیکن کم کم، ذرا دهندلے دهندلے، میں یہاں کلاسیکی اردو شاعری سے صرف میر کی مثال پیش کرنا چاہوں گا جو کم عمری ہی میں، ہجرت کے تجربے سے گزرے، اور اس کے دکھ بهی اٹهائے، میر نے کہا:
زمانے نے رکها مجهے متصل
پراگندہ روزی، پراگندہ دل
میر نے آخری ہجرت دلی سے کی، سیاسی اور معاشی حالات کے جبر کے تحت، جب وہ مہجر یعنی لکهنؤ پہنچے تو ان کی غربت اور اجنبیت کا مذاق اڑایا گیا اور ان سے ان کا وطن پوچها گیا، تو میر نے بداہتا یہ قطعہ کہا:
کیا بود وباش پوچهو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تها عالم میں انتخاب
رہتے تهے منتخب ہی جہاں روز گار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
آئیے اب ہم اس پس منظر میں اپنے عہد کے تارکین وطن شعرا کی شاعری کا جائزہ لیں اور دیکهیں، انهوں نے ہجرت کے مختلف گوشوں کو اپنے فکر وخیال کی روشنی سے کس طرح منور کیا ہے اور اپنے جذبات واحساسات کو کیسے کیسے شعری پیکر عطا کیے ہیں، یہاں میں ایک وضاحت کرتا چلوں کہ ہجرت اور مہجر کے مسائل کا اظہار نظم کے ساتھ ساتھ نثر میں بهی ہوا ہے، بلکہ افسانے میں ہجرت اور مہجر کے مسائل کا بیان تفصیل کے ساتھ ہوا ہے، یورپ اور امریکہ نیز خلیجی ممالک میں تنقید، تحقیق، افسانہ، ناول، ڈرامہ اور سفر نامہ وغیرہ، ہر طرح کا ادب تخلیق ہو رہا ہے، لکها جا رہا ہے، مہجر میں اچهے لکهنے والوں کی کمی نہیں ہے، اسی طرح مہجر سے رسالے اور جریدے شائع ہو رہے ہیں، ادبی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، عصری درس گاہوں میں اردو تعلیم کا انتظام ہے، تارکین وطن اپنے بچوں کی اردو تعلیم کے لیے متفکر اور کوشاں ہیں، لیکن ہماری گفتگو کا موضوع صرف شاعری ہے اور اس مقالے میں شاعری کا بهی پوری طرح احاطہ کرنا مشکل ہے.
سب سے پہلے، ہم نفس ہجرت کے موضوع کو لیتے ہیں اور دیکهتے ہیں اس کے متعلق ہمارے غریب الدیار شعرا کے احساسات وتصورات کیا ہیں، مہجر میں رہ کر کس کس انداز سے انهوں نے ہجرت کو اپنی شاعری میں برتا ہے، ملاحظہ فرمائیے یہ چند اشعار:
شکم کی آگ لیے پهر رہی ہےشہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
(افتخار عارف/لندن، پاکستان)
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تها کس نے کہ آکر رہو پرائی جگہ
(باصر کاظمی/مانچسٹر)
تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو
ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں
(سعید قیس/بحرین)
مرا ضمیر اگر خود کشی نہیں کرتا
تمام عمر کوئی نوکری نہیں کرتا
(قاضی فراز احمد/دوحہ)
نڈهال کر گئی ہے ہجرتوں کی جاں کاہی
مسافتیں ہوئیں آزار جاں ہمارے لیے
(حفیظ الکبیر قریشی/کینڈا)
یہ جال پهیل رہا ہے مری ہتهیلی پر
کہ ہجرتوں کا حوالہ ہے میری قسمت سے
(حمیرا رحمان/نیویارک)
سفر میں ہیں تو لگتا ہے سفر میں کچھ نہیں رکها
کبهی یہ کہہ کے نکلے تهے کہ گهر میں کچھ نہیں رکها
(قمر شہزاد/ بحرین)
کچھ تو ایسا تھا کہ بنیاد سے ہجرت کر لی
خاک یوں ہی تو نہیں اپنے وطن سے نکلی
(عزیز نبیل/دوحہ)
خاک ہوں رہ گزر میں رہتا ہوں
میں ہمیشہ سفر میں رہتا ہوں
(عبد الرحمان عبد/نیویارک)
تهے در بدر سو لیے سر پہ سب عذاب پهرے
ہمارے ساتھ کئی ہجرتوں کے باب پهرے
(جاوید زیدی/ہوسٹن)
میں نے تیرے لیےہجرت کی اٹهائی ذلت
میری محبوب زمیں اب توکوئی گهر دے
(عتیق انظر/دوحہ)
یہ ہے ہجرت کا کرب اور ہمارے عہد میں اس کے ساتھ سلوک، یورپ اور امریکہ میں مہاجرین کے ساتھ شاید وہ اہانت آمیز رویہ نہ ہو، یا کم ہو، لیکن بیشتر خلیجی ممالک میں، ایشیائی تارکین وطن کو سگ زمانہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ برتاؤ بھی وہی روا رکھا جاتا ہے جو کسی سگ زمانہ کے ساتھ، لیکن شکم کی آگ ایسی ہے کہ اسے بجھانے کے لیے یہ مہاجر انسان ہر طرح کی ذلت اٹھا لیتا ہے، اہانت برداشت کر لیتا ہے، اپنی خود داری اور غیرت کو اپنے ہاتھوں قتل کر کے اپنے سینے میں دفن کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اگر چہ امیر مینائی نے اس کے بر عکس کہا ہے:
وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا
ایک خاص تناظر میں امیر کے شعر کی بڑی اہمیت ہے، مگر پھول کے شاخ سے ٹوٹنے اور چمن سے نکلنے کا جو کرب ہے وہ پھول ہی جانتا ہے، چھوٹے پودے تو اپنی زمین سے نکل کر دوسری زمینوں میں آسانی سے جڑ پکڑ لیتے ہیں، لیکن بڑے پیڑ اجنبی زمینوں میں بڑی مشکل سے جڑ پکڑتے ہیں، اپنی زمین کی یاد میں وہ اندر ہی اندر سوکھتے رہتے ہیں:
سوکھنے لگتا ہوں میں تجھ سے جدا ہوتے ہی
جب تلک ساتھ رہوں تیرے ہرا رہتا ہوں
(مرزا اطہر ضیا/دوحہ)
اپنی ہی مٹی میں شاداب شجر رہتے ہیں
سوکھ جاتے ہیں بڑے پیڑ بھی ہجرت کر کے
(عتيق انظر/دوحہ)
پردیس میں رہ کر کوئی کیا پاؤں جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
(افتخار راغب/قطر)
یورپ میں ایک مخصوص مدت گزار لینے کے بعد مہاجر وہاں کا باشندہ بن سکتا ہے لیکن خلیجی ممالک میں تیس چالیس سال کی طویل مدت تک صحراؤں کی خاک چھان کر بھی وہاں کی شہریت حاصل کرنے کا حق دار نہیں ہو پاتا اور اپنے جینے کا حوالہ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے:
ہم ہیں وہ لوگ جو بے قوم و وطن کہلائے
ہم کو جینے کے لیے کوئی حوالہ دے دو
(عقیل دانش/لندن)
ہجرت در ہجرت کا سلسلہ اور غریب الدیار کی یہ خواہش کہ کوئی مہجر اسے اپنے دامن میں پناہ دے، لیکن نہیں!
ہر شہر کو اک ضد سی رہی گھر نہ بنا پائیں
کس شہر کے دامن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
(نسیم سید/کینڈا)
مہاجر اپنے خوابوں کے شہر کے لیے، نہ جانے کیسے کیسے سپنے سجاتا ہے لیکن جب وہ مہجر پہنچتا ہے اور اس کی توقعات وتصورات کے بر عکس صورت حال ہوتی ہے تو کہتا ہے:
تھکن کہتی ہے آ گھر لوٹ جائیں
مسافر یہ سفر کچھ بھی نہیں ہے
(افتخار نسیم/امریکہ)
یا
اکھڑ گئے ہیں مرے دائروں کے سارے شجر
مقابلہ ہے نئے سورجوں کی حدت سے
(حمیرا رحمان / نیویارک)
پردیس میں جو لوگ بر سر روز گار ہیں ان کے متعلق عزیز و اقارب اور ان کے دوستوں کو نہ جانے کیسی کیسی خوش فہمیاں ہوتی ہیں لیکن ٹورنٹو کے عابد جعفری کیا کہہ رہے ہیں ملاحظہ فرمائیے:
یہ ان دنوں جو سر پہ مرے سائبان ہے
اک دھوپ ہے کہ چھاؤں کا جس پر گمان ہے
اور نیو یارک کے ڈاکٹر عبدالرحمان عبد کا یہ اعتراف کہ:
عبد جس شہر کی تہذیب سے خوف آتا ہے
پھنس گیا آ کے اسی شہر بتاں میں میں بھی
یا جیز ان سے ارمان نجمی کا یہ سوال :
پڑاؤ ڈالو گے صحرا میں کس ٹھکانے پر
کہیں تو ہو شجر سایہ دار کی منزل
دوحہ کے شوکت علی ناز کا یہ احساس :
ڈار سے جدا ہو کر کس قدر پریشاں ہیں
دیکھتے ہیں ہم اکثر رتجگے پرندوں کے
اور کویت سے سعید روشن کا یہ حوصلہ بخش خیال کہ:
سفر میں دور تک سائے نہیں ہیں
مگر ہم پھر بھی گھبرائے نہیں ہیں
مہجر میں، بطور خاص خلیج میں تارک وطن اپنے آپ کو ہمیشہ غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور یہ خوف ہمیشہ اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے کہ نہ جانے کب اسے نوکری سے سبکدوش کر کے وطن واپس بھیج دیا جائے، اس لیے وہ اپنی خواہشوں اور ضرورتوں کو محدود رکھتا ہے:
کون جانے کوچ کا کب حکم صادر ہو جلیل
ہم اسی باعث نہیں رکھتے کبھی بستر کھلا
(جلیل نظامی/دوحہ)
مہجر کے مسائل پر چند متفرق اشعار اور ملاحظہ فرمائیے:
ہم کہ جو ہر ابر کو ابر کرم سمجھا کیے
آ گئے اس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے
( باصر کاظمی/مانچسٹر)
ملک افرنگ میں موسم کا نہ پوچھو احوال
دھند کا، برف کا، برسات کا ڈیرا نہ گیا
(سکندر سالم/بریڈفورڈ)
اک انقلاب وقت نے مفلس کیا ہمیں
تہذیب زند گی کے سب آداب لے گیا
(مظفر احمد ضیا/امریکہ)
جنون صحرا نوردی کا یہ صلہ نکلا
زمین چھوٹ گئی آسماں خفا نکلا
(عزیز نبیل /دوحہ)
میں اکیلا بھٹک رہاہوں نسیم
اپنی کونجوں کی ڈار سے باہر
(افتخار نسیم/امریکہ)
اک آہ سرد اک لرزیدہ آنسو
ہمارے شہر کی آب و ہوا کیا
(عبد القوی ضیا/کینڈا)
لٹایا زندگی بھر ہم نے سونا
مگر پائی صلے میں خاک ہم نے
(نسیم سحر/جدہ)
نہ وہ کارواں نہ وہ رہ گزر نہ وہ آستاں نہ وہ سنگ در
یہ پتا نہیں کہاں آ گئے، کہاں جا رہے ہیں خبر نہیں
( نیاز گلبرگوی/شکاگو)
پاس جب تھا تو کہاں اس کا خیال آتا تھا
جب ہوا دور تو بے فکر کہ کیسا ہو گا
(رشید منظر/لندن)
کوئی تو ہو کہ جس سے تبسّم ادھار لیں
اس شہر میں تو جو بھی ملا نوحہ گر ملا
(عابد جعفری/ٹورنٹو)
تارک وطن کا ایک بڑا المیہ ہے مہجر میں احساس غربت اور درد تنہائی، لندن کے گلشن کھنہ کہتے ہیں :
میں زندگی کی کڑی دھوپ میں اکیلا ہوں
فریب ابر مرے آس پاس رہنے دے
پل کے نیچے سے کزرتی ہوئی مصروف سڑک
کیسے سمجھے گی کہ تنہائی کسے کہتے ہیں
(فیصل ہاشمی/ناروے)
کرن پہنچی نہ رمز در کھلا ہے
یہ گھر صدیوں سے بے آب و ہوا ہے
(خواجہ ریاض الدین عطش/لندن)
کنج صحرا میں کس آرام سے بیٹھے ہو منیر
خود کو دنیا کی ہر اک بھیڑ سے تنہا رکھ کے
(منیر حیدر/ کویت)
رقص آہو بھی نہیں سایہء گیسو بھی نہیں
دشت فرقت میں تری یاد کے جگنو بھی نہیں
(جلیل نظامی/دوحہ)
شدید لطف رفاقت شدید تنہائی
مرے نصیب میں اتنا عذاب کیوں رکھا
(افضال فردوس/ہیوسٹن)
گاؤں کے پرندے تم کیا پتا بدیسوں میں
رات ہم اکیلوں کی کس طرح گزرتی ہے
عتیق انظر/دوحہ)
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مہاجر اپنے مسائل میں گھر کر اپنی ذات سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے :
نشاط کیسی ہے کچھ لوگ پوچھ لیتے ہیں
میں کیا بتاؤں کہ اُس سے تو رابطہ بھی نہیں
(آصفہ نشاط/کینڈا)
اجنبی لوگوں میں مہاجر جیسے چاہے رہے، اگر کوئی نا شائستہ حرکت بھی اس سے سرزد ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شناسا اسے دیکھنے والا نہیں اور آدمی تو با عزت یا ذلیل آشناؤں میں ہوتا ہے، اسی لیے غم تنہائی سے بچنے کا مشورہ لندن کے اطہر راز یہ دے رہے ہیں:
غم تنہائی سے بچنا ہے تو گاتے رہنا
کون دیکھے گا یہاں شور مچاتے رہنا
اکیلے پن کے دکھ کو کم کرنے کے لیے انسان محفل سجاتا ہے، یوں تنہائی کا غم کچھ کم بھی ہو جاتا ہے لیکن پھر :
محفل بکھری اک اک کرکے سارے مہماں لوٹ گئے
آخر شب کا تنہا ساتھی اک خاموش ستارہ ہے
(اکبر حیدر آبادی/آکسفورڈ)
اور کبھی محفل اور بھیڑ بھاڑ میں بھی آدمی اکیلا پن محسوس کرتا ہے:
اب اس انبوہ میں بتلائیں کیسے
کہ ہم کتنے اکیلے ہو گئے ہیں
(ہمایوں ظفر زیدی/مسقط)
زندگی کی تمام تر سہولیات کے باوجود زندگی میں ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے:
عیش کے سارے ساماں بہم ہیں مگر
تیرے بن زندگی میں خلا ہے بہت
(عتیق انظر/دوحہ)
وطن سے دوری کے احساس کے پس منظر میں دوحہ کے محمد ممتاز راشد کی نظم "صحرا گزیدہ" ملاحظہ فرمائیے:
ہمارے بھاگ میں ہوتا
تو اپنے دیس میں رہ کر
وہاں کے موسموں، رنگوں، نظاروں کے مزے لیتے
گلستانوں، پہاڑوں، وادیوں کے منظروں سے
روح ودل کو شادماں کرتے
نہ یوں آہ وفغاں کرتے
مگر قسمت کی باتیں ہیں
ہمیں تو اپنے نا کردہ گناہوں کی سزاؤں میں
وطن کو چھوڑ جانا تھا
کوئی صحرا بسانا تھا
سو اب شام وسحر اپنے
اسی میں ریت ہوتے ہیں
بس اب تو زندگی کا ایک ہی مفہوم باقی ہے
ہمیں صحرا سجانا ہے
یہیں خود کو گنوانا ہے
وطن سے محبت ایک فطری عمل ہے، انسان جس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے، جہاں پلتا بڑھتا ہے وہاں کی ہر شے سے اسے دلی لگاؤ ہو جاتا ہے، جب وہ اپنی جائے پیدائش سے دور کہیں اور چلا جاتا ہے تو وطن سے متعلق اس کی یادیں خیالوں میں چلنے پھرنے لگتی ہیں، اس کے خانہء دل میں محفلیں سجنے لگتی ہیں اور اس طرح کے شعر وجود میں آتے ہیں:
دھوپ میں تلیاں پکڑتے تھے
اپنے بچپن کے دن سنہرے تھے
ایسے موسم میں باغ چھوٹا تھا
جب چمیلی کے پھول مہکے تھے
ان درختوں کو دل میں بوئیں گے
جن کی چھاؤں کے خواب دیکھے تھے
(عتیق انظر/دوحہ)
اپنے ماضی کے اجالوں سے عقیدت ہے مجھے
اپنے بچپن کے کھلونوں سے محبت ہے مجھے
(ارشد عثمانی/کینڈا)
گو عمر مری دشت نوردی میں کٹے گی
لیکن تری گلیوں کا پتا یاد رہے گا
(ساحل صدیقی/ڈربن)
وہ سبزہ زار وہ کہسار ودریا چل کے دیکھیں تو
ہیں جس مٹی کا ہم زندہ حوالہ چل کے دیکھیں تو
کنارے جھیل کے اب بھی لڑکپن کھیلتا ہوگا
ذرا ماضی کے آئینے میں چہرہ چل کے دیکھیں تو
تازہ ہوا تھی مہکی فضا تھی کیا تھے اچھے دن
پل پل اب تو پچھلا زمانہ اچھا لگتا ہے
تجھ سے بچھڑ کر پیارے وطن تیری ہی چاہت میں
غم سے لپٹ کر آنسو بہانا اچھا لگتا ہے
(محمد سالم/امریکہ)
دشت غربت میں دل پہ کیا گزری
دل فگاروں سے پوچھ کر دیکھو
کس قدر قیمتی ہے خاک وطن
ہے دیاروں سے پوچھ کر دیکھو
(محمد ممتاز راشد/دوحہ)
پاؤں میں پردیس کی زنجیر ہے تو کیا ہوا
دل تو رہتا ہے مرا ہر وقت ہندوستان میں
(حیدر اعظمی/دوحہ)
دور چمن سے مالی ہے
ویراں ڈالی ڈالی ہے
وہ پردیس گیا جب سے
بستی خالی خالی ہے
(شوکت علی ناز/دوحہ)
بدیس میں مری کشتی ستارہی ہے مجھے
وطن کی جھیل بہت یاد آرہی ہے مجھے
(عتیق انظر /دوحہ)
اور جب وطن میں قتل و غارت کی خبریں سنتا ہے تو یوں گویا ہو تا ہے مہاجر شاعر :
سنتے ہیں اب ان گلیوں میں پھول شرارے کھلتے ہیں
خون کی ہولی کھیل رہی ہیں رنگ نہاتی دوپہریں
یہ تو میرا شہر نہیں ہے یہ تو میرے خواب نہیں
کس جانب سے آنکلی ہیں یہ گہناتی دوپہریں
(عشرت آفریں/ہیوسٹن)
وطن اور مہجر کے تمام تر مسائل کے باوجود:
یہ حوصلہ بھی بڑا دلنواز ہے نوری
مرا وطن ہے میں اپنی زمین رکھتی ہوں
(نور جہاں نوری/لندن)
دیار غیر میں ہم وطنوں کی تلاش ہوتی ہے اور ان سے مل کر ایک عجیب طرح کی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔
اجنبی لوگوں کی کالی بھیڑ میں
اک سخن آثار چہرا چاہیے
(زریں یاسین/Metuchen)
دنیا کے بے انت سمندر سے میرے جیون کی ناؤ
کاش کہ تجھ تک آ پہنچے، میرا ساحل ہو جائے تو
(رشید عیاں/نیو جرسی)
پردیس میں تارک وطن کی تسلی کی خاطر اور اس کی تنہائی کی غم خواری کے لیے وطن سے کوئی پیغام کوئی تحریر بھی بڑی اہم ہوتی ہے، لطف کی بات یہ کہ سلام کی جگہ دشنام بھی ملے تو قبول ہوتی ہے:
میرے لیے سلام کہ دشنام کچھ بھی ہو
دست صبا سے بھیجیے پیغام کچھ بھی ہو
(نور جہاں نوری/لندن)
خط لکھ ہم کو یاد کی ایک نشانی دے
پودا سوکھ رہا ہے اس کو پانی دے
(رخسانہ شمیم/جرمنی)
جن مشکل مراحل سے گزر کر انسان دیار غیر تک پہنچتا ہے ان کا اندازہ ہر کوئی نہیں کر سکتا :
کس قیامت سے گزرتے ہوے پہونچے ہیں یہاں
صبح تک جلتے چراغوں سے ذرا پوچھنا ہے
(ریحانہ روحی/دمام)
اور تارک وطن کا یہ المیہ بھی ملاحظہ فرمائیے:
یہ ہجرتوں کا زمانہ بھی کیا زمانہ ہے
انھی سے دور ہیں جن کے لیے کمانا ہے
(سید سروش آصف/ابو ظبی)
عمر ہماری صحراؤں میں ریت ہوئی
گھر والوں نے تاج محل تعمیر کیا
(یعقوب تصور/ابوظبی)
ایک طرف تارک وطن کی اتنی بڑی قربانی کہ وہ اہل خاندان کے لیے اپنے لوگوں کے لیے اپنی زندگی صحراؤں میں ریت کر دیتا ہے اور دوسری طرف اس کے گھر والے اُس کی گاڑھی کمائی بے جا اور بے دریغ خرچ کرتے ہیں ہیں، کیا خوب کہا ہے منور رانا نے:
برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
لیکن تارک وطن کا المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا، جب وہ وطن واپس جاتا ہے تو لوگ کس کس بہانے اس سے مالی منفعت حاصل کرنے کی کو شش کرتے ہیں اس کا اظہار بھی ملاحظہ فرمائیے:
اڑی ہے جب سے پرندوں کی واپسی کی خیر
ہر اک شخص نے پنجرا خرید رکھا ہے
(یعقوب تصور/ابو ظبی)
اور ایک طویل مدت کے بعد جب پردیس سے وہ وطن واپس آتا ہے تو ہر منظر اسے انجان سا لگتا ہے، اس کے اور پوری ایک نسل کے درمیان سے شناخت غائب ہوتی ہے:
پردیس کیا گئے تھے ذرا دیر کے لیے
یہ کیا ہوا کہ شہر ہی سارا بدل گیا
(سعید قیس/بحرین)
پہچان کا ہر منظر انجان ہوا آخر
لگتا ہے کئی صدیاں ہم غار میں سو آئے
(شفیق سلیمی/ابو ظبی)
اور اس الم ناک ہجرت کا صلہ اسے یہ ملتا ہے:
وطن میں لوٹ کر آئے تو دیکھا
سفر کی دھول آنکھوں میں پڑی تھی
( سعید قیس/بحرین)
بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے
کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے
(شفیق سلیمی/ابوظبی)
حقیقت کا اعتراف اور اس کا اظہار بھی مہجری شاعری میں دیکھا جا سکتا ہے، بطور نمونہ ایک شعر کہ:
افسوس تمام دوسروں سے ہم لوگ بھی مختلف نہیں ہیں
تجھ پر بھی خزاں برس رہی ہے مجھ پر بھی زوال آگیا ہے
(ساقی فاروقی/لندن)
نئے موضوعات کو بھی ہمارے تارکین وطن شعرا نے اپنی شاعری میں جگہ دی ہے، آج کے مشینی دور اور اس کے مسائل کا بیان ملاحظہ فرمائیے:
جب سے دنیا نے مشینوں سے شناسائی کی
سب کی آنکھوں میں تھکن دیکھی ہے تنہائی کی
(کرامت غوری/کویت)
اعضا کو شل کر دینے کی روز نئی ایجاد
میری نسل کے سارے سکھ ہیں تن آسانی میں
(حمیرا رحمان/ نیویارک)
نئے موضوعات کے ساتھ ساتھ نئی لفظیات اور جدت اسلوب بھی ہمارے مہاجر شعراء کے کلام میں جا بہ جا نظر آتی ہے ملاحظہ فرمائیے یہ چند اشعار:
خوف کہ رستہ بھول گئی امید کی اجلی دھوپ
اس لڑکی نے بالکنی پر آنا چھوڑ دیا
(ساقی فاروقی/لندن)
کاغذی پھولوں سے جب مانوس ہوں گی تتلیاں
عاشقی کی رسم دنیا سے اٹھالی جائے گی
(رئيس وارثی/نیو یارک)
شہر میں صورت دیوار تماشہ ہوں جلیل
اشتہاروں کی طرح لوگ ہیں چسپاں مجھ سے
(جلیل نظامی/دوحہ)
موسم نئے پھولوں کی جب شال بدلتے ہیں
دھڑکن میں چھپے نغمے سر تال بدلتے ہیں
(صبیحہ صبا/ابو ظبی)
بوندوں کے موتیوں کو منقار میں سجا کر
اک اک شجر پہ اترا برسات کا پرندہ
(رخسانہ شمیم/جرمنی)
مسافر بولتے ہیں راستا خاموش رہتا ہے
دعائیں مانگتے ہیں سب خدا خاموش رہتا ہے
(خالد سہیل/کنیڈا)
مار ڈالے اپنے سارے ہمسفر
قافلہ سالار ہونا تھا ہمیں
(نور علی/دوحہ)
کھیتے کھیتے ہاتھ بھرے ہیں زخموں سے
کون مری کشتی میں لنگر ڈال گیا
(عابد جعفری/کینڈا)
اپنے اس خستہ بدن سے اس لیے بھی پیار ہے
ٹوٹ کر جب بھی گر اپنے ہی قدموں پر گرا
(غلام علی وفا/کویت)
دن بھر پیٹھ پہ ڈھویا سورج چہرے پر تھی گرد جمی
ساتھ میں دفتر سے گھر لوٹی شام بھی کچھ اکتائی سی
(عذرا نقوی/ریاض)
وہ نغمہ جو آفاق میں پھیلا ہے اسے سن
شاید تجھے اک ہاتھ پس ساز نظر آئے
(سعید اختر درانی/برمنگھم)
وہ چیز لیں گے جسے دل قبول کرلے گا
کہ بے کسی میں بھی اپنی پسند رکھتے ہیں
(جمشید مسرور/ناروے )
ہر جگہ پتھروں کی بارش ہے
سر دعاؤں سے ڈھک لیا جائے
(ڈاکٹر حنیف ترین/عرعر، سعودیہ)
روز دستک سی کوئی دیتا ہے سینے پہ نبیلؔ
روز مجھ میں کسی آواز کے پر کھلتے ہیں
(عزیز نبیل/ دوحہ)
مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اردو مراکز سے ہٹ کر اردو کی جو نئی بستیاں ہیں وہاں بسنے والے تارکین وطن شعرا معیاری تخلیقات پیش کر رہے ہیں، ان کی شاعری میں کچھ ایسے تجربات بھی ہیں جن سے تخلیق کار صرف پردیس میں گزرتا ہے، کم تر درجے کی اور لچر قسم کی شاعری بھی اردو کی ان نئی بستیوں میں ہو رہی ہے لیکن اس طرح کی شاعری کی ہر جگہ بہتات ہے، اس کے لیے دیس بدیس کی کوئی قید نہیں ہے، غیر معیاری شاعری اپنی موت آپ مر جائے گی، سچی اور کھری شاعری کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا:
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا
(محشر بدایونی).
برائے عالمی اردو کانفرنس منعقدہ ٢٦ - ٢٧ فروری ٢٠٠٠
بہ مقام لندن یونیورسٹی
زیر اہتمام: اردو ٹرسٹ لندن