
کتابوں کی دنیا بڑی حسین ہوتی ہے ، آپ کو جو موضوع چاہئے اس پر کوئی نہ کوئی کتاب مل ہی جائے گی ، کتابوں کے ذریعہ مختلف قسم کے دماغوں کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے ایک شخص کتابوں کے صفحات پر اپنے نقوش چھوڑ جاتا ہے وہاں اس کا مادی وجود نہیں ہوتا پھر بھی وہ آپ سے محو گفتگو رہتا ہے اور یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ جب تک چاہیں اس سے گفتگو کریں اور جب چاہیں اس سلسلہ کو روک دیں ، وہ بلا کسی شوروہنگامے کے آپ کی فکر کی دہلیز پر اپنے افکار کا دیا روشن کرکے چلا جاتا ہے لیکن وہ ٹی وی شوز کے ڈیبیٹ کی طرح آپ سے محاذ آرائی نہیں کرتا اور نہ ہی آپ پر اپنی فکر تھوپتا ہے بلکہ آپ کو اتفاق یا اختلاف رائے کا پورا حق دیتا ہے اس لیے آج بھی اپنی بات کہنے کا سب اچھا ذریعہ کتابیں ہی ہیں ۔
دنیا سے کتنی ہی عظیم شخصیات رخصت ہوگئیں لیکن ان سے استفادے کا ایک ہی ذریعہ محفوظ ہے اور وہ کتابیں ہیں ۔
کسی بھی شخص کو سمجھنے کے لیے ہمہ وقت اس کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا لیکن اسے پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کی کتابیں کافی ہیں ، بغیر کتابوں کے زندہ شخص بھی مردہ ہوسکتا ہے لیکن کتابوں کے ذریعہ ایک شخص زندہ رہ سکتا ہے یہی نہیں بلکہ مردہ شخص کو زندہ بھی کیا جاسکتا ہے ، اس کے افکار ونظریات پر ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں اس کی شخصیت کا عکس اتارا جاسکتا ہے ۔
سوچتا ہوں کہ جب ہمارا پڑھنے کا وقت تھا تب پڑھا نہیں اور اب جب پڑھنے کے لیے دل میں امنگ اٹھتی ہے تو غم روزگار سے فرصت نہیں ۔۔۔لیکن یہ کسک ہمیشہ ساتھ رہتی ہے کہ کاش اچھی کتابوں کے پڑھنے کا موقع ملتا کیونکہ لفظوں سے زیادہ خوبصورت اور طاقتور دنیا میں کوئی اور شئ نہیں ، اگر لفظ نہ ہوں تو صرف اشاروں سے محبوب کی تعریف ممکن نہیں ،اگر ہمیشہ پیرایہ بیان بدل بدل کر محبوبہ کی تعریف نہ کی جائے تو اس کی جبیں شکن آلود ہوجاتی ہے ، اگر قوم کو جذبہ عمل پر آمادہ کرنا ہوتو طاقتور لفظوں کے بغیر کام چل ہی نہیں سکتا ، اگر کوئی پروڈکٹ بیچنا ہو تو اس کے لیے بھی خوبصورت اور مناسب لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے بھئی دنیا کا سارا کھیل لفظوں ہی کا تو ہے ۔
دنیا میں کتابوں کی تعداد لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے اس لیے ہر کتاب کو پڑھنا ممکن نہیں اس لیے سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم کیا پڑھیں اور کیسے پڑھیں ؟ جب ہم ندوہ میں زیر تعلیم تھے تو وہاں مختلف مراحل کے طلبہ کے لئے “ آپ کیا پڑھیں “کے عنوان سے کتابوں کی ایک فہرست دیواروں پر آویزاں کی جاتی تھی اور طلبہ اسی کے مطابق کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اس لیے آپ کچھ بھی نہ پڑھیں ۔۔۔ بلکہ اپنے ذوق مطالعہ یا موضوع کے مطابق اساتذہ فن سے مشورہ کریں اور اپنی ذہنی سطح کے مطابق ایک ترتیب اور تسلسل کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
کتابوں کا مطالعہ ہمیشہ معروضی انداز میں کریں ، جس طرح آنکھیں کھولے بغیر کتابوں کا پڑھنا ممکن نہیں اسی طرح دل ودماغ کھولے بغیر کتابوں سے کما حقہ استفادہ بھی ممکن نہیں ، کسی مصنف کو پہلے سے کسی مخصوص خانے میں نہ ڈالیں بلکہ اس کے دلائل اور قوّۃ المنطق کو دیکھیں اس کے بعد کوئی رائے قائم کریں ، اس عقیدے کے ساتھ کہ آپ کی اپنی رائے درست ہونے کے باوجود اس میں غلطی کا امکان ہے اور دوسرے کی رائے غلط ہونے کے باوجود اس کے درست ہونے کا امکان ہے ۔
جو بھی مطالعہ کریں اس کا خلاصہ لکھ لیا کریں کیونکہ لکھنے سے چیزیں دل ودماغ میں بیٹھ جاتی ہیں اور مطالعہ کا فائدہ سوا ہو جاتا ہے ۔
کسی بھی مصنف کی تحریر عقیدت کی نظرسے نہ پڑھیں یہاں تک کہ قرآن مجید بھی نہیں ۔۔۔بلکہ اس تحریر پر غور کریں ، اگر کسی قسم کا دعوی کیا گیا ہو تو اس کے دلائل کو پرکھیں اور موجودہ دنیا سے اس کی مطابقت تلاش کریں ، غیر منطقی اور غیر عملی لٹریچر میں اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں ۔
اپنے اندر سائنسی انداز نظر پیدا کریں ، صرف روایت پسند نہ بنیں بلکہ درایت سے بھی کام لیں کیونکہ اللہ تعالی نے دل ودماغ کو کسی کے حضور گروی رکھنے کے لیے نہیں بلکہ غوروفکر کے لیے عطا کیا ہے ۔
آخری بات یہ ہے کہ اگر آپ پاس مطالعہ کے لیے بہت سارا وقت نہ ہو تو صرف “ الکتاب” کے مطالعہ پر اکتفا کریں کیونکہ دنیا کے بڑے بڑے مصنفین اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ وہ علم کی کنجی اور رشدہدایت کا خزانہ ہے اسے آپ ضرور پڑھیں لیکن اس کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ آپ اسے صرف پڑھیں نہیں بلکہ اس کی آیتوں پر غور بھی کریں ۔