Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

عتیق انظرکی شاعری ’اچھے دن کا سوگ ‘کے تناظرمیں : مضمون نگار:صائمہ ثمرین

عتیق انظرکی شاعری ’اچھے دن کا سوگ ‘کے تناظرمیں : مضمون نگار:صائمہ ثمرین

ظلم خواہ بادشاہت کے سائے میں جلا پائے یا نام نہاد جمہوریت کی چھاؤں میں، اس کی شکل ہمیشہ یکساں رہتی ہے، بدلتا ہے تو بس ظالم کا چہرہ، انسانی تاریخ گواہ ہے ہر عہد میں فرعون ہوے ہیں جنہوں نے انسانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے ہیں، انسانیت کو ذلیل ورسوا کیا ہے، کہنے کو تو یہ اکیسویں صدی ایک ترقی یافتہ صدی ہے، اس صدی کا انسان بیدار اور باشعور ہو چکا ہے اور جمہوریت کو عدل و مساوات کے قیام، امن و امان کی بقا اور اپنے حقوق کے تحفظ کا آخری اور واحد وسیلہ سمجھتا ہے، لیکن آج بھی فرعونوں کی کمی نہیں ہے، آج بھی کم زوروں کے ساتھ ظلم ونا انصافی ہو رہی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں نہ ظلم کی مقدار میں کمی آئی ہے نہ ظالم کے مکروہ چہروں کی تعداد میں، "اچھے دن کا سوگ" ظلم ونا انصافی کی اسی الم ناک روداد کا شعری اظہاریہ ہے.

عتیق انظر ہمارے عہد کے ممتاز اور بے حد حساس شاعر ہیں، ان کی شاعری میں ہندوستانی سیاست کا اجتماعی شعور دیکھا جا سکتا ہے، ادیب و شاعر اپنے وقت کا نباض اور تاریخ ساز ہوتا ہے، وہ اپنے اطراف میں ہونے والے ہر سانحے کو محسوس کرتا ہے، اس کی تخلیقات میں جہاں ماقبل کی روداد اور کھوئے ہوؤں کی جستجو ہوتی ہے وہیں وہ آنے والے ادوار کے تاریخ دانوں کے لیے ایسے جھروکے بھی کھول جاتا ہے جن میں جھانک کر آنے والی نسلیں گزرے ہوئے لمحات کو محسوس کر سکتی ہیں اور اپنے رہبروں کی اصل شبیہیں بھی دیکھ سکتی ہیں.

عتیق انظر بھی فیض احمد فیض کی طرح کوئے یار سے نکل کر سوئے دار پہنچتے ہیں۔ان کی ابتدائی شاعری میں رومان کے عنصر نمایاں ہیں، ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’پہچان ‘‘ 1994 میں منظر عام پر آیا جس میں عشق ومحبت اور ہجر ووصال کے علاوہ دیہی جمالیات اور فطری مناظر کی زبردست عکاسی ملتی ہے ۔بعد ازاں دوسرا مجموعہ ’’دوسرا جسم‘‘۲۰۱۹ میں سامنے آیا۔ درمیان میں زندگی کی دوسری ضروریات نے عتیق انظر کو شاعری کی زلف سنوارنے کی مہلت کم دی، یہی وجہ ہے کہ ان کے شعری سفر میں وقفہ بھی آیا ۔ ’’دوسرا جسم‘‘ میں غزلوں کے علاوہ نظمیں بھی شامل ہیں، وہ نظم جو مجموعے کے عنوان کا محرک بنی  ’’دوسرا جسم ‘‘ ہے، یہ ایک شاہ کار نظم ہے، اس میں شاعر نے داخلی کرب اور حقیقی درد کی بازیافت خود اپنے وجود میں کی ہے اور آخر میں خدا سے دوسرے جسم کی خواہش کا اظہارکیا  ہے۔

’’اچھے دن کا سوگ ‘‘ عتیق انظر کا تیسرا مجموعہ ہے، جو جنوری ۲۰۲۲ میں شائع ہوا اور خوب پذیرائی حاصل کر رہا ہے, اسے ہم احتجاجی ادب کی صف میں شامل کر سکتے ہیں ۔اس مجموعے کا نام موجودہ سیاسی ماحول پر کھلا طنز ہے، کیونکہ ہم نے جن اچھے دنوں کا خواب دیکھا تھا انھی کا سوگ منا رہے ہیں، ملک بجائے بلندی پر جانے کے پستی میں پہنچ گیا ہے،  ہمارے حکمراں ہٹلر کے قول ’’عوام کو اتنا نچوڑ دو کہ سانس لینے کو ہی آزادی سمجھنے لگے‘‘ کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں.

عتیق انظر اپنے مخصوص لہجے اور لفظیات کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، ان کے یہاں احتجاج کی آواز بہت بلند ہے، انھوں نے اپنی نظموں میں اس ظلم وجبر کی داستانیں رقم کی ہیں جو اکیسویں صدی کی دو سری دہائی میں وقوع پذیر ہوئیں، ان نظموں میں عوام کا درد ، حکمرانوں کی نا اہلی، غیر معقول اور غیر منصفانہ نجی کاری، اقتدار اور سرمایہ داری کا باہمی مجرمانہ گٹھ جوڑ، کسانوں پر ظالمانہ حملے ، موب لنچنگ کے درد ناک سانحے اور فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ جیسے موضوعات پائے جاتے ہیں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ احتجاجی شاعری میں فن مجروح ہو جاتا ہے اور شاعری صرف نعرہ بازی بن کے رہ جاتی ہے، در اصل عام مروجہ موضوعات سے ہٹ کر عصری مسائل کو شعری قالب میں ڈھالنا بڑا نازک مرحلہ ہوتا ہے، اس کا ادراک عتیق انظر کو بھی ہے، ایک جگہ وہ کہتے ہیں: "عصری مسائل اگر شاعر کے تخیل کی بھٹی سے نہیں گزرتے تو وہ تخلیقی سطح پر بہت کمزور ہوتے ہیں ، وہ شاعری نہیں بلکہ پرو پگنڈے بن جاتے ہیں ‘‘۔

" اچھے دن کا سوگ" پر اظہار خیال کرتے ہوے پروفیسر غضنفر علی لکھتے ہیں:" ہاں یہ سچ ہے کہ احتجاج کی شاعری غم وغصہ اور غیظ و غضب کی آنچ سے ایسی تپی ہوتی ہے کہ اکثر شاعروں کے یہاں شعریت  جل کر راکھ ہو جاتی ہے مگر عتیق انظر کی شاعری اس آگ سے بچ گئی ہے کہ ان کے مزاج میں غزل کا رچاؤ ہے اور ان کے اندر کے تخلیق کار کی تربیت کلاسیکی روایت کے ماحول میں ہوئی ہے اوران کا ذوق لسانی دائروں میں پروان چڑھا ہے"۔

عتیق انظر کی نظمیں پڑھ کر ہمیں بھی محسوس ہوا کہ فنی تقاضوں پہ کہیں ضرب نہیں آئی ہے، نظمیں بے حد رواں ہیں پہاڑی ندی کی طرح، ردہم سے بھر پور نغمگی لیے ہوے ہیں.

عتیق انظر کی شاعری نظام سے سوال کرتی ہے ، اس کی بے حسی پر طنز کرتی ہے، سیاسی جبر کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، انھوں نے پوری دنیا کے مظلوموں اور کمزوروں کے درد کو محسوس کیا ہے اور اسی درد کو شعری قالب میں ڈھال کر پیش کر دیا ہے، ان کی بیشتر نظموں میں احتجاج کی شدت ہے، جس کی وجہ سے ان کے لہجے میں تھوڑی سی کڑواہٹ ضرور ہے لیکن یہ کڑواہٹ ہمیں بھلی معلوم ہوتی ہے ۔وہ نظام کی ظالمانہ اور استحصال پسندانہ پالیسیوں کے خلاف کھل کر لکھتے ہیں، وہ جمہوریت کا جنازہ نکالنے والوں  اور دستور کی پیشانی پر بد نما داغوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہتے ہیں، بقول پروفیسر مولا بخش مرحوم:

’’احتجاجی شاعری حقیقت کو بدلنے والی شاعری ہوتی ہے جو مروجہ حقیقت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہتی ہے عتیق انظر کی شاعری جو اس مجموعے میں سامنے آتی ہے  شدید احتجاجی کیفیات پر مبنی شاعری ہے ،تاہم انھوں نے  اقلیتی طبقے کے دکھوں کا بیانیہ بعض نظموں میں اس بلاغت سے خلق کیا ہے جسے پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ عتیق انظر ہمارے عہد کی نظمیہ شاعری کے قابل ذکر شاعر ہیں ‘‘۔

عتیق انظر کا تخیل اور وسیع مشاہدہ قابل داد ہے، وہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ کاینات کے کسی بھی گوشے میں ہونے والے ظلم و جبر پر غم و غصے کا اظہار بے باکانہ انداز میں کرتے ہیں، اس کی عمدہ مثال ہمیں ان کی نظم ’’i can't breath‘‘ میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہندوستان میں قتل و خون ریزی اور عورتوں کی عصمت دری و بے حرمتی پر بہت نالاں ہیں، انھیں گوری لنکیش کی موت کا صدمہ ہے تو صفورہ کی اسیری کا غم بھی ہے، وہ ہاتھرس کی بیٹی ہو یا سڑک پر پیدل چلتی ہوی نو جات کی ماں، اپنی ایک نظم "راون ہے تو" میں انھوں نے ایک بڑے سانحے کی کامیاب منظر کشی کی ہے:

"ایک ماں نابھ کی ڈور کاٹے بنا

خون میں تر بہ تر

اپنے نوجات بچے کو

بانہوں میں اپنی سنبھالے ہوئے

سر پہ اپنے ضرورت کی گٹھری لیے

دھوپ میں جلتی بلتی سڑک پر اکیلی ہی چلتی رہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھارت کی معصوم جاں باز  بیٹی صفورہ

جسے گربھ کے حال میں جیل میں بھر دیا

تیری انسانیت کیا ہوئی

تجھ سے پہلے کبھی بھی

نہ انسان کا اتنا اپمان دیکھا گیا

اس نظم میں حکومت کے کھوکھلے دعووں پر طنز ہے جو صرف زبان سے تہذیب و تمدن کی بات کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، اس نے خدا بن کر ایک ’’کن ‘‘ کے ذریعہ مزدوروں، بزرگوں، بچوں اور عورتوں کو سیکڑوں میل پیدل چلنے پر مجبور کر دیا ۔وہ منظر نامہ بہت درد ناک تھا جسے ہم سب نے سوشل میڈیا پر دیکھا اور محسوس کیا، شاعر کی مغموم نگاہوں نے بھی یہ منظر دیکھا  اور ظلم و جبر کو محسوس کیا ،اس نظم میں بادشاہ وقت کو راون سے تعبیر کیا ہے۔ راون جو ظلم کا استعارہ ہے ۔ایک تاریخی استعارہ راون پھر سے نمودار ہوا ہے، یہ نظم دم توڑتی انسانیت کی کرب ناک داستان ہے جو تاریخی دستاویز کی اہمیت رکھتی ہے.

اکیسویں صدی کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنے اور اپنی شناخت بچانے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑا ۔ جس ملک میں ہماری وراثتیں موجود ہیں ، ہمارے آبا واجداد کی قبریں محفوظ ہیں ،صدیوں سے ہمارے بزرگ اس مٹی سے محبت کرتے چلے آرہے ہیں ،اسی ملک میں ہم سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ہم کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس موضوع پر عتیق انظر کی نظم دیکھیں :

"وہ قاتل وہ غنڈے

وہ وحشی درندے

وہ جن کی رگوں میں لہو کی جگہ نفرتیں دوڑتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت ہی پرانے جو گھس پیٹھیے ہیں

وہ پوچھیں گے مجھ سے

کہ میں کون ہوں

اور کب سے یہاں ہوں

سنو! جب سے دنیا بنی ہے

میں تب سے یہاں ہوں

میں انسان ہوں

باپ ہوں سب کا

آدم ہوں میں

باپ سے پوچھتے ہو کہ تم کون ہو

کتنے بے شرم ہو"

یہ وہی کڑواہٹ ہے جس کی پیشگی معذرت کی گئی ہے ۔ میرے خیال میں یہ کڑواہٹ ہر ہندوستانی اور ہر انسان میں ہونی چاہیے ۔عتیق انظر دیار غیر میں رہتے ہوے بھی یہ درد محسوس کرتے ہیں ۔اپنے ملک کے علاوہ پوری کائنات میں جہاں بھی ظلم و تشدد ہوتا ہے وہ سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔جارج کی لنچنگ ،فلسطینی عوام کی اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ، بابری مسجد کا انہدام، پہلو، جنید اور زاہد کی لنچنگ ، ان سب کو عتیق انظر نے اپنی نظموں کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

عتیق انظر کو ایٹمی ہتھیار کے مہلک اثرات اور اس کی عدم ضرورت کا بھی احساس ہے ،انھوں نے اپنی نظم ’’ایٹمی تجربہ ‘‘ میں اس کا اظہار کیا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ عتیق انظر کی شاعری حق و ناحق کے درمیان امتیاز کرنے کا شعور تو پیدا کرتی ہی ہے، وہ موجودہ منظر نامے میں امن کی ضرورت کا بھی احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایٹمی تجربہ نامی نظم میں ایٹم بم جیسی ایجادات کو دور جاہلیت کی علامت سے تعبیر کیا ہے ۔ان کی نظم ہے:

’’آگ کے اس دہکتے ہوے گولے کو

دست فطرت نے برفیلی چادر اڑھا کر

بہت ہی سلیقے سے ٹھنڈا کیا

وقت کے بحر ذخار میں

لاکھوں صدیوں کے دریا اترنے کے بعد

اس زمیں کو ہمارے لیے رہنے سہنے کے قابل کیا

لیکن انسان اب

علم و دانش کی ساری ترقی پہ

دور جہالت کی تشہیر کرنے لگا

اپنی جھوٹی انا کی غذا کے لیے

کرۂ ارض کی آتش سرد میں

انتہائی خطرناک ایندھن لگانے لگا

باغ ہستی کو دوزخ بنانے لگا ‘‘

اس نظم میں شاعر ایٹمی ہتھیاروں کی عدم ضرورت کی طرف جہاں اشارہ کرتا ہے وہیں شاعر کی انسان دوستی اور امن پرستانہ نکتۂ نظر کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے ۔ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت اور عدم ضرورت اور کائنات اور حیات انسانی کے لیے اس قسم کی ایجادات کی خطرناکی آج کل سب سے ریلونٹ موضوع ہے ۔ایٹمی ہتھیار کی سیاست، کرۂ ارض کو ہمہ وقت ایک عظیم ناگہانی حادثے کے خوف میں مبتلا رکھتی ہے ۔ایسے حساس موضوع پر اردو تخلیق کاروں نے توجہ نہیں کی ہے ۔عتیق انظر کی نظر موجودہ صورت حال کے ہر پہلو پر ہے ۔

اقتدار کی جھوٹی خوشامد کرنے والوں کو عتیق انظر نے اس بیل سے موسوم کیا ہے جن کی ڈور ان کے مالک کے ہاتھ میں ہے ۔مالک جیسے چاہے ان کو استعمال کرے ۔ ان کا ذہنی انجماد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب ان کو وادی تیہہ میں چالیس برس تک گھما کر بھی شاید نہیں بدلا جا سکتا ،کیونکہ اس ذہن سازی میں انھوں نے ایک صدی کا لمبا عرصہ صرف کیا ہے۔ نظم ’’نئے بھکت‘‘ میں اسی ذہنی انجماد کا خلاصہ کیا ہے، بیل ایک جانور ہوتے ہوے بھی اپنے مالک کے ظلم پر احتجاج کرتا ہے اور وہ کھیت جوتتے ہوے کبھی کبھی بھاگ کھڑا ہوتا ہے، بیل بھی تغیر کا متمنی  ہوتا ہے، لیکن یہ "بھکت" کی شکل میں جو انسان نما بیل ہے وہ حقیقی بیل سے بھی بد تر ہے کہ اپنے مالک کے ظلم پر کبھی احتجاج نہیں کرتا، اور اس کے صحیح وغلط ہر حکم کی تعمیل میں ہمیشہ سر جھکائے رہتا ہے ۔ نظم دیکھیں:

’’بیل کو میں نے دیکھا ہے

کھیتوں میں جتتے ہوے

اپنے کاندھوں پہ ہل اور جوے کو سنبھالے ہوے

اپنے مالک کی آواز پر

چلتا رہتا ہے دائیں کبھی اور بائیں کبھی اور سیدھا کبھی

بیل ہے

چلتے چلتے مگر

وہ بھی گاہے بگاہے بدک جاتا ہے

اپنے مالک کی آواز کو ان سنی کر کے

کھیتوں سے باہر نکل جاتا ہے

لیکن اب

اک نئی نسل کے بیل کو دیکھتا ہوں

جو مالک سے اپنے کبھی کبھی بدکتا نہیں

جھوٹ، نفرت ،عداوت، جفا ، قتل و غارت کے کھیتوں میں

اپنے ہی جیسے سمجھدار مالک کی آواز پر

چلتا رہتا ہے دائیں کبھی اور بائیں کبھی اور ٹیڑھا کبھی

کیوں کہ سیدھا اسے چلنا آتا نہیں

اس نئی نسل کے بیل سے ڈر کے رہتے ہیں لوگ

اس نئی نسل کے بیل کو بھکت کہتے ہیں لوگ ‘‘

اس نئی نسل کے بیل میں ’’حس‘‘ فنا ہو چکی ہے ،ضمیر دفن ہو چکا ہے ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دم توڑچکی ہے، وہ صرف اپنے مالک کا گونگا ، بہرا اور اندھا ملازم ہے ۔ اس کو انسانیت سے کوئی سروکار نہیں ہے، اخلاقیات کا لفظ اس کی لغت میں نہیں ہے،  وہ اپنے مالک کے اشاروں پر چلنے والا صرف ایک بیل ہے، بلکہ اس سے بھی بد تر ہے، جسے عتیق انظر نے نئے بھکت سے تشبیہ دی ہے۔

زیر نظر مجموعے میں شاعر جہاں نظام سے بے حد متنفر نظر آتا ہے وہیں عوام سے بھی غصے کا اظہار کرتا ہے، کہ جب جمہوریت خطرے میں آجائے اور جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا بھی حکومت کی کاسہ لیسی کرنے لگے تو عوام کو متحد ہو جانا چاہیے اور اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے، شاعر عوام کی پست ہمتی پر طنز کرتا ہے تو اسے اس کی طاقت کا بھی احساس دلاتا ہے اور اسے مایوسی اور نا امیدی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے نئی صبح کی بشارت بھی دیتا ہے، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو راون ، نرلج،منافق ، نکمے نوکر کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔گودی میڈیا پہ طنز کرتے ہوے اسے طوائف کا اڈہ اور اس کے اینکر کو دلال جیسے القاب سے مخاطب کرنے کی جرات کرتا ہے، ہم عتیق انظر کو اس ہمت اور جرات کی داد دیتے ہیں، وہ ایسے وقت میں ہماری آواز بن رہے ہیں جب ہر طرف خوف کا ماحول ہے اور سیاسی جبر کے خلاف بولنا جرم سمجھا جا رہا ہے۔

"اچھے دن کا سوگ" میں کئی علامتی نظمیں بھی ہیں، لیکن وہ علامتیں شاعر کے جذبات واحساسات کی ترسیل میں مخل نہیں ہوتیں بلکہ لہجے کی کاٹ کو متاثر کیے بغیر نظم میں معنوی جہتیں پیدا کرتی ہیں، جیسے نظم "رات کا ختم قصہ کرو"

جدھر دیکھتا ہوں ادھر

کوئلے کے پہاڑوں کا اک سلسلہ ہے

جسے رات کھا کر

کسی کالی ڈائن کی صورت بھیانک ہوئی جا رہی ہے

بہادر جو دو چار بڑھتے ہیں اس کی طرف

اپنے ہاتھوں میں مشعل لیے

ان کو اک ایک کرکے نگلتی چلی جارہی ہے

کہاں ہو اجالے کے رکھوالو آگے بڑھو

اپنے ہاتھوں میں تیشہ لیے

مل کے اک ساتھ سب

کوئلے کے پہاڑوں پہ حملہ کرو

اپنے ہاتھوں میں مشعل لیے

رات پر وار ایسا کرو

رات کا ختم قصہ کرو

ورنہ دھرتی کسی روز ویران ہو جائے گی

کوئلے کے پہاڑوں کے پیچھے کہیں

صبح گھٹ گھٹ کے مر جائے گی

رات سب کو نگل جائے گی

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ عتیق انظر کا یہ مجموعہ احتجاجی ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے جس میں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے بھارت کا دل دھڑک رہا ہے، جس کی ہر سطح پر پزیرائی ہونی چاہیے.

 مضمون نگار:صائمہ ثمرین

ریسرچ اسکالر، جواہرلال نہرویونیورسٹی، نئی دہلی

پتا:363-شپرا ہاسٹل، جے این یو، نئی دہلی

ای میلsaymasamreenjnu@gmail.com :