Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

ادا جعفری

ادا جعفری کا اصل نام عزیز جہاں بیگم تھا، وہ 22 اگست 1924 کو بدایوں کے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئیں، ان کے والد کا نام مولوی بدر الحسن تھا جو محکمہ زراعت میں ملازمت کرتے تھے، وہ ابھی صرف تین برس کی تھیں کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، جس کی وجہ سے وہ ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش، احساسِ محرومی اور احساسِ تنہائی میں مبتلا ہو گئیں، لیکن ان کی والدہ سلمی بدر الحسن جن کا تعلق بھی ایک زمین دار گھرانے سے تھا، انھوں نے اپنی بیٹی کی پرورش، تعلیم و تربیت اور اخلاق و کردار کی تشکیل میں کوئ کسر نہ چھوڑی ۔

ادا جعفری نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہاں جاگیردارنہ نظام تھا کا دور دورہ تھا، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں عائد تھیں، لیکن ان کی والدہ نے روایت کے خلاف جا کر ان کو تعلیم دلائی اور ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔

ادا کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئ، انھوں نے 1940 میں ہائی اسکول کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا، اس کے بعد 1945 میں انٹر میڈیٹ کیا، ان کو کالج جانے کا موقع میسر نہیں ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ بدایوں میں اس وقت کوئی کالج نہیں تھا اس لئے انھوں نے اپنی تعلیم پرائیویٹ سورسز سے جاری رکھی، انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گرلز کالج میں پڑھنے کا بہت شوق تھا جو تاحیات شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔

ادا جعفری بیسویں صدی کی ایک ممتاز شاعرہ تھیں انھوں  نے شاعری اور نثر نگاری دونوں میں نمایاں مقام حاصل کیا اور دونوں حیثیتوں سے مشہور و مقبول ہوئیں ۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا ، انھوں نے صرف دس سال کی عمر میں اپنے شعری سفر کا آغاز کیا ، اور ان کی پہلی نظم “ پکار” 1937 میں اختر شیرانی کے رسالہ “رومان “ میں شائع ہوئی اس کے بعد مشہور ادبی رسالہ “ادب لطیف “ میں بھی ان کے کلام کی اشاعت کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا ۔

ابتدائ دور کے کلام پر اختر شیرانی اور جعفر علی خاں اثر لکھنوی سے اصلاح لی ۔ ابتداء میں ادا بدایونی کے نام سے لکھتی تھیں لیکن 1947 میں نورالحسن جعفری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد بعد “ادا جعفری “ کے نام سے لکھنے لگیں اور پھر اسی نام سے شہرت بھی پائی ، اپنے شوہر کی ملازمت کے باعث وہ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر گئی تھیں۔

ان کا تخلیقی سفر سات دہائیوں پر محیط ہے ، اس طویل عرصے میں ان کے چھ شعری مجموعے شائع ہوئے بقول محمود ہاشمی کہ

یہ مجموعے اردو شاعری کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی مثال ہیں اور ان شعری مجموعوں کو ہم برصغیر کی تہذیبی اور تخلیقی تاریخ کا آئینہ تصور کر سکتے ہیں

ان کے شعری مجموعوں کے مطالعے سے ان کے انداز فکر اور تنقیدی رجحانات کا پتہ چلتا ہے ۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک کے زیر اثر نظم کی صنف میں طبع آزمائی کی لیکن بعض دوسرے ترقی پسند شعرا کے برعکس انھوں نے نظریاتی سطح پر افراط و تفریط سے دامن بچائے رکھا ، یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں عصری حسیت اور حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ رومانیت اور جمالیاتی عنصر کی کار فرمائ صاف نظر آتی ہے ۔

غزل اور نظم کے علاوہ انہوں نے ہائکو کی صنف میں بھی اپنے تخلیقی جوہر دکھائے اور بہترین ہائکو لکھے ، شہر درد (فلیپ ) پر ادا جعفری کے اس درد کو محسوس کرتے ہوئے فیض احمد فیض نے لکھا ہے “ادا جعفری نے جو درد کا شہر تخلیق کیا ہے ، اس شہر کی دیواریں ان کی ذات تک محدود نہیں ، قریب قریب عالم گیر ہیں اور اس درد میں حزن و یاس کا عنصر بہت کم ہے اور عزم و استقلال کا دخل کہیں زیادہ ہے

ادا جعفری مجموعی طور پہ ایک کامیاب شاعرہ تھیں جنھوں نے دنیا کے تمام اہم مسائل پر قلم اٹھایا اور ان کے ذریعہ بہترین شاعری وجود میں آئی ۔ادا جعفری  مختصر علالت کے بعد12مارچ 2015 کو کراچی میں 90 برس کی عمرمیں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور اپنے پیچھے اردو ادب کانایاب ذخیرہ اپنی تصانیف کی شکل میں چھوڑ گئیں ان کی خدمات کے اعتراف میں

1968ء میں انھیں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

ان کی تصنیفات درج ذیل ہیں:

1.   میں ساز ڈھونڈتی رہی (شعری مجموعہ 1950(

2.    شہر درد ( شعری مجموعہ 1967(

3.   غزالاں تم تو واقف ہو ( شعری مجموعہ 1974 (

4.    ساز سخن بہانہ ہے ( شعری مجموعہ ، ہائیکو ۔ 1982)

5.    شناسائی (شاعری(

6.    موسم موسم (کلیات۔ 2002ء(

7.    جو رہی سو بے خبری رہی ( خودنوشت ۔1995(